”آپ کی بھابی جو ہے“

08 اگست 2018

نواز خان میرانی

اللہ کا شکرہے کہ میرے دوستوں کی فہرست ناقابل یقین حدتک طویل ہے مگر قارئین آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی، کہ میرا ان سے رابطہ کبھی کبھار اور بعض اوقات سالوں بعد ہوتا ہے، اس کی وجہ کچھ اور نہیں، بس کسی وقت میں خاصا Socialتھا، جس کو ”مجلسی “ انسان کہا جاتا ہے، مگر آج کل میں اس ”عالم نوجوانی“ میں گھر رہنا بہت پسند کرتا ہوں، اس لیے آپ مجھ کو تنہائی پسند کہہ سکتے ہیں۔ سید مظفرعلی شاہ کہتے ہیں
اپنے ہونے کو معتبر کرتے
کاروبار جہاں اگر کرتے!
فکرِامروز میں رہے غلطاں
کارفرداپہ کیا نظر کرتے !
ہم ہیں واقف گرانی شب سے
عمر بیتی ہمیں سحر کرتے
میرے ایک ”تھری ان وَن“ دوست سید ریاض حسین شاہ مشہدی ، جوکبھی ہمارے محلہ دار ہوا کرتے تھے، موصوف ”نظریہ ضرورت“ کے تحت کبھی سُنی ، کبھی شیعہ ، اور کبھی اہل حدیث بن جاتے ہیں، انہوں نے اندرون شہر ایک بہت بڑا سکول بنایا ہوا ہے، لاہور میں بہت کم ایسے سکول ہوں گے، جن کی عمارت اتنی شاندار ہے، موصوف اپنی ایک اُستانی پہ وہ بھی ”سیدہ بخاری“ ہیں، ان پہ پہلی بیوی ہونے کے باوجود اتنے فریفتہ ہوئے کہ بالآخر ”عاشق بامراد“ ہوئے، دراصل بھابی صاحبہ نے ان کی شخصی کمزوری سے ہربیتے لمحوں سے لے کر لمحہ موجود تک ان سے فائدہ اُٹھایا مثال کے طورپر شاہ جی ”سیر سپاٹے“ کے بے حد شوقین ہیں، بھابی نے ان سے کہا کہ ہمارا سکول چار، پانچ لاکھ روپے ماہانہ پہ ایجوکیٹر والے لے سکتے ہیں، یہ کرایے پہ دے کر Week Endمری گزارا کریں، واضح رہے کہ یہ تقریباً پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے، ایک دن شاہ صاحب گھر ملنے آئے، ان کے گھر کا نمبر 26تھا، اور میرا 40نمبر ہے، کہنے لگے یار میرا خرچہ پورا نہیں ہوتا، میں نے کہا کہ آپ کو تو پانچ لاکھ مہینہ سکول سے مل جاتا ہے، اس وقت میرے اپنے گھر کا خرچہ ایک لاکھ میں آسانی سے ہوجاتا تھا، شاہ صاحب بولے، میرا صبح کا ناشتہ باہر سے آتا ہے، رات کو ہم روزانہ پرل کانٹینیٹل جاتے ہیں، یا پھر کھانا وہاں سے منگوا لیتے ہیں۔ میں نے مو¿دبانہ عرض کی یہ تو فضول خرچی ہے، بولے، آپ کی بھابی کو باہرکا کھانا زیادہ پسند ہے، میں نے انہیں کہا کہ آپ جمعے کی شام کو مری چلے جاتے ہیں اور پیر کی صبح کو لوٹتے ہیں، ظاہر ہے ، ہوٹل کا ،پیٹرول کا ، کھانے کاخرچہ تو ہوتا ہوگا، کہنے لگے آپ کی بھابی کو گھومنے پھرنے کا شوق ہے، کہیں نہ بھی جانا ہو، تو پھر ہم Long Driveپہ ویسے ہی پھرتے رہتے ہیں، میری یہ خامی ہے کہ میں دل کی بات ضرور کردیتا ہوں میں نے انہیں بتایا، کہ بھابی دراصل یہ چاہتی ہیں کہ آپ Hand To Mouthرہیں، تاکہ آپ بھابی پہ اور بھابی نہ لے آئیں، دراصل موصوف ، اگر کہیں بھی جائیں تووہ گاڑی میں موجود ہوتی ہیں، اور گھنٹوں اے سی چلتا رہتا ہے، میں ان کے یہ بچگانہ کرتوت دیکھ کر انہیں جہانگیر شاہ، اور بھابی کو نورجہاں کہتا ہوں، بھابی کی ایک خوبی یہ بھی ہے، کہ وہ پردے کی سخت پابند ہیں۔ مگر اس کے پیچھے بھی ایک ”فلمی راز ہے“ شاہ صاحب نے بیگم صاحبہ کو کہا ہوا ہے کہ تم صرف اور صرف میرے لیے ہو، اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے لیے بنایا ہوا ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرے علاوہ کوئی اور شخص تمہیں ایک نظر بھی دیکھے، اور انہوں نے بھی ہاں میںہاں ملائی ، بلکہ قسم کھائی کہ آج کے بعد مجھے آپ کے علاوہ کوئی بھی نہیں دیکھ سکے گالیکن چونکہ مجھے سچ کہنے کی عادت ہے، قارئین ، بھابی دراصل ان سے اتنی دانستہ فضول خرچی کراتی ہیں ، کہ شاہ صاحب ”کسے جوگے“ نہ رہیں ۔ خاصے عرصے کے بعد وہ میرے گھر تشریف لائے ہم نے خوب گپیں لگائیں، کھانے کا وقت تھا میں نے زبردستی کھانا کھلایا، واپسی پہ جب میں گیٹ تک پہنچا تو باہردرخت کے نیچے ان کی گاڑی کھڑی دیکھ کر پوچھا گاڑی کے اندر کہیں بھابی تو نہیں ؟ کہنے لگے ہاں وہ گاڑی کے اندر موجود ہیں، میں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں کم ازکم کھانا وانا تو کھلا دیتے، وہ بولے، کوئی بات نہیں، راستے میں، میں نے انہیں کھلا دیا تھا ۔.... باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ میں سکول واپس لینے لگا ہوں، میں نے کہا، اُسے چلائے گا کون ؟ انہوں نے جواب دیا، آپ کی بھابی جو ہے، مجھے یہ سن کر سب یاد آگیا، جب وہ ہمارے قریب گھر کرایے پہ لے کر رہنے لگے تھے، تو میں نے کہا تھا کہ اتنے بڑے پانچ، چھ بیڈ والے گھر میں رہنے کا کیا فائدہ ، تو انہوں نے تب بھی یہی کہا تھا، کہ آپ کی بھابی جو ہے، غرضیکہ ہر بات پہ وہ کہتے ہیں، آپ کی بھابی جو ہے، اس دن مجھے کہنے لگے، بلکہ بے تحاشہ ہنسنے کے بعد بات پوری کی ، اور کہا میرانی صاحب آپ کو یاد ہے ،میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ لگتا ہے، میری آنکھیں کمزورہوگئی ہیں، کون سا آئی سپیشلسٹ سب سے بہتر ہے، میں نے ان سے آنکھوں کا آپریشن کرانا ہے ،پتہ ہے آپ نے کیا جواب دیا تھا، آپ نے کہا تھا ، آپریشن کرانے کی کیا ضرورت ہے، آنکھیں کمزور ہوگئی ہیں تو کیا ہوا، بھابی جو ہے ....
مجھے یہ بات اس لیے یاد آرہی ہے کہ آج کل جو گلگت ،بلتستان میں سکول دانستہ جلائے جارہے ہیں، پیٹرول کی قیمت میں استحکام نہیں رہا۔ نئے صوبے بنانے کی باتیں ہورہی ہیں، سکولوں کی فیسیں ناقابل برداشت ہوگئی ہیں، لوڈشیڈنگ نے دوبارہ شہریوں کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے، آئی ایم ایف کے قرضے اور ان پہ سود اربوں روپے تک پہنچ گیا ہے، قانون کو گھر کی لونڈی بناکے رکھ دیا گیا ہے۔ آبروریزی کے واقعات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک شخصیت موجود ہے، مگرمیرا مشورہ یہ ہے کہ مشاورت سب سے کریں، مگر دیکھیں اپنی آنکھوں سے کبھی یہ نہ کہیں کہ آپ کی بھابی جو موجود ہے.... ایک بات اور بھی عرض کردوں، اسلام میں ”فال“ نکلوانا اور نکالنا سختی سے منع ہے گو یہ ایک علم ہے.... ہماری تاریخ بتاتی ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو زمین پہ بھیجا جس نے لکڑ ہارے کے بیٹے سے پوچھا، کہ اس وقت فرشتہ کہاں ہے، اس نے زمین پہ چھڑی سے حساب کتاب کرکے بتایا .... کہ اس وقت زمین پہ جو فرشتہ موجود ہے، وہ تم ہو، یا میں ہوں....آخر کار اللہ نے اس قوم کو نیست ونابود کردیا .... خدارا آپ بشریٰ بی بی یا کسی بھی صاحب علم سے زائچہ، یا حساب کتاب لگوانے کے بجائے اللہ پہ توکل کریں، اور اللہ کے بتائے ہوئے کام کریں.... تو پھر آپ بھی کہہ سکیں گے جیسا حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا، ہم اس کے کام کرتے ہیں، وہ ہمارے کام کیوں نہیں کرے گا، اور ٹرمپ کی بھی زبان بند ہو جائے گی ۔اللہ تعالیٰ نے عادل حاکم کے انصاف کرنے کے عمل کو نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے، قرآن کریم میں ہرشخص کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ روزمرہ زندگی میں بھی عدل وانصاف سے کام لے، اور قریبی رشتہ داری یا ذاتی پسند ناپسند کو انصاف کرتے وقت حائل نہیں ہونا چاہیے، اس میں اگر انسان کا جانی دشمن مخالف قبیلہ یا قوم بھی سامنے آئے، تو انسان حق کا ساتھ دے، یہ فارمولا اور اقوال تمام رشتہ ہائے زندگی پہ محیط وحاوی ہے، اس ضمن میں صحافت میں اور خاص طورپر کالم نگاری پر بھی یہ احوال منطبق اور صادق آتے ہیں ، جیسا کہ ہر شخص کو قدرتی اور فطری طورپر کوئی حاکم پسند ہوتا ہے لیکن قلم کی عظمت کا تقاضہ یہ ہے کہ کالم لکھتے وقت وہ بالکل غیرجانبدار رہے، جیسا کہ ایک جج بوقت انصاف ، نہ چاہتے ہوئے بھی فریق مخالف کے حق میں فیصلہ دیتا ہے، کیونکہ ہرشخص کا بھی براہ راست مخاطب اور واسطہ حاکم وقت سے ہوتا ہے، مگر مخالفت برائے مخالفت کا نظریہ یا اپنی پسند کی حکومت کی ہروقت تعریف سے مبرا ہوکر کالم لکھنا، میرے اور میرے قارئین کے نزدیک ضمیر کی تسکین کا باعث بنتا ہے، حاکم وقت کے ہراچھے اقدام کی تعریف، اور کسی بھی خامی کی نشاندہی کرنا ہی اصل صحافت ہے۔ مگر چونکہ زیادہ تر کالم تنقیدی نقطہ نظر سے لکھے جاتے ہیں، لہٰذا ہرایک کو اس میں اصلاح کا پہلو ڈھونڈنا چاہیے، قارئین مگر یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ حضورﷺ کا فرمان ہے، کہ جابر حاکم کے سامنے کلمہ حق ادا کرنا سب سے بڑا جہاد ہے، بقول حضرت اقبالؒ
ہزارخوف ہوں دل میں زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق !!
آپ کی رائے کےلیے رابطہ نمبر 0300-4383224

مزیدخبریں