Shahzad Akbar, PM Imran Khan, Kaveh Mousavi, Broadsheet
08 اپریل 2021 (20:34) 2021-04-08

اسلام آباد :مشیر داخلہ شہزاد اکبرنے جہانگیر ترین سے متعلق خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ وہ جب چاہیں عمران خان سے مل سکتے ہیں ،جہانگیر ترین کیخلاف کوئی انتقامی کاروائی نہیں ہو ہی ،انہوں نے کہا یہ غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ کسی کے کہنے پر جہانگیر ترین کیخلاف تحقیقات ہو رہی ہیں ۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا حکومت میں احتساب کا عمل صاف اور شفاف طریقے سے جاری ہے ،اگر جہانگیر ترین کو چھوڑ دیں تو لو گ سوال کرینگے یہ کیسا احتساب ہےکہ شہبازشریف سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور جہانگیر ترین کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے،جہانگیر ترین کیخلاف انتقامی کارروائی نہیں ہورہی،انہوں نے کہا کسی اپنے سے سوال کرنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے کوئی بھی کیس ایسا نہیں جس میں کسی کو ٹارگٹ کیا گیا ہو۔

شہزاد اکبر نے کہا سوالات کامطلب یہ نہیں وہ شخص مجرم ثابت ہوگیا،جس کسی کو لگتا ہے اسے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے وہ عدالت جائے،جہانگیر ترین کی  تحریک انصاف سے علیحدگی  پر بات کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین سےپارٹی کے لوگ رابطہ کرتے رہتے ہیں،جہانگیر ترین کے ساتھ ارکان اسمبلی کے جانے میں کوئی مسئلہ نہیں،البتہ تحریک انصاف کی طرف سے جہانگیر ترین کیلئے کوئی دروازے بند نہیں کئے گئے،جہانگیر ترین وزیراعظم عمران خان سے ملنا چاہیں تو مل سکتے ہیں،انہوں نے کہا جہانگیر ترین نااہلی کے بعد سے سیاست میں زیادہ متحرک نہیں رہے ۔

نواز شریف کے کیسز سے متعلق بات کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا نواز شریف عدالتوں سے اشتہاری اور مفرور قرار دئیے جا چکے ہیں ،برطانوی حکومت کہتی ہے وہ اپنا قانونی طریقہ کار طے کر رہی ہے ،برطانوی حکومت سے کہہ چکے ہیں کہ وہ نوازشریف کو ڈی پورٹ کریں ،نواز شریف خود کو بچانے کیلئے برطانوی حکام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ علاج کی غرض سے یہاں مقیم ہیں ،شہزاد اکبر نے کہا ہم نےبرطانیہ سے پوچھا ہے لکھ کر دیں اب تک کوئی ایک ٹیکا بھی لگایا گیا ہے ،نواز شریف کی واپسی سے متعلق برطانیہ کے جواب کے منتظر ہیں ۔


ای پیپر