The issue of India is not just an economic, a lot of political and strategic issues are connected with it
08 اپریل 2021 (11:40) 2021-04-08

ایک بات تو طے ہے کہ قیام پاکستان کے وقت اگر بھارت نے پاکستان کو خلوص دل سے قبول کر لیا ہوتا تو آج وقفے وقفے سے پاک بھارت کشیدگی کی نوبت پیش ہی نہ آتی بلکہ اسی روز سے بھارت پاکستان کو ایک خود مختار ریاست کے روپ میں دیکھ کر جلنے بھننے لگا اور دن رات پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہو گیا۔

اس پر زبردستی کشمیر پر تسلط قائم کرکے پاکستان کے ساتھ دشمنی کو ازلوں کی دشمنی میں تبدیل کر لیا۔ کشمیر کو لے کر متعدد بار پاک بھارت جنگ اور جھڑپیں تاریخ کا حصہ بنی۔ 1965ء اور 71ء کی جنگیں نہ چاہتے ہوئے بھی بھارت کی جانب سے لڑی گئی۔

بھارت جانتا تھا کہ پاکستان بلا وجہ خون خرابے پر یقین نہیں رکھتا، اس کے باوجود بھارت اپنی طاقت پاکستان پر آزمانے کا خواہش مند رہا اور اس پر بھارت کو کئی بار منہ کی کھانا پڑی۔ اس سلسلے میں اگر ہم حالیہ وقتوں کی بات کریں تو پاک بھارت دشمنی کا سلسلہ چلتا ہوا 2021ء میں بھی داخل ہوا۔

گزشتہ دو برسوں میں پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب مودی سرکار نے پانچ اگست 2019ء کو بھارت کے آئین آرٹیکل 370 کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کو مکمل طور پر اپنی یونین میں شامل کر لیا۔ مگر پاکستان کی حکومت نے بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کی ناصرف بھرپور مخالفت کی بلکہ پوری دنیا کے سامنے ان اقدامات کو مسترد بھی کیا۔

بھارت کے ساتھ تعلقات کا تعلق صرف پانچ اگست کے واقعہ سے منسوب نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک میں تعلقات کی خرابی کا سلسلہ تو قیام پاکستان سے چلا ہی آ رہا ہے۔ 2003ء سے قبل پاک بھارت کنٹرول لائن کی صورتحال خاصی کشیدہ رہی، مگر دونوں ممالک میں 2003ء میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر پر آمادگی کا معاملہ طے پا گیا تھا۔ مگر قریباً نو سال تک کچھ سکون کا ماحول میسر رہا، پھر اچانک 2013ء میں بھارت کی جانب سے پرتشدد واقعات کا سلسلہ ایک بار پھر طول پکڑ چکا تھا۔

اس طویل چپقلش میں پانچ اگست کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کا مسئلہ سب سے زیادہ کشیدگی کا باعث بنا جس میں پوری قوم سمیت پوری دنیا میں بھارت کے اس اقدام کی مذمت کی گئی اور بھارت خطے میں ایک متنازعہ حیثیت کے طور پر سامنے آیا۔

یہ وہ وقت تھا کہ پاک بھارت ہر قسم کے ڈائیلاگ معطل ہو گئے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر معمول بن چکے تھے۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری بھی معمول سے زیادہ ہوئی، مگر 5 اگست 2019ء کے بعد مارچ 2021ء میں دونوں ممالک کے درمیان کچھ ایسے واقعات بھی ہوئے جس سے تجزیہ کاروں کی رائے بدلنا شروع ہو گئی۔

پاکستان اور بھارت کے ملٹری آپریشنز کے مابین ٹیلی فونک بات چیت جس میں سیز فائر پر عملدرآمد پر گفت و شنید کی گئی جس سے لائن آف کنٹرول پر کشیدہ صورتحال پر امن ہوئی۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر بھارتی وزیراعظم نے نیک تمنائوں کا پیغام بھیجا۔ 23 مارچ کے دن یوم پاکستان کا پیغام بھی بھارتی ہم منصب کی جانب سے پاکستانی وزیراعظم کو موصول ہوا۔

اس کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے مارچ کے مہینے میں اسلام آباد میں نیشنل سیکورٹی ڈائیلاگ میں پاکستان اور بھارت کے مابین مستحکم تعلقات کے موقف کو آگے بڑھایا گیا۔ یہ ہی وہ مثبت اشارے تھے جس سے عوام سمیت میڈیا ہائوسز میں یہ پیغام پہنچا کہ دونوں ممالک میں شاید کشیدگی کم ہونے جا رہی ہے۔

مگر اس سارے معاملے میں جو بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو کشمیر کے معاملے میں حرکت کی گئی، اس کا اثر ایک لمحے کے لیے ختم نہ ہو سکا، یہاں تک کہ پاکستان میں چینی اور کپاس کی قلت کی بنا پر اسی دو طرفہ تناظر کو دیکھتے ہوئے یہ آواز بھی میڈیا میں زیر بحث رہی اور یہ الزام بھی عمران خان کی حکومت پر لگا کہ انہوں نے بھارت کے تمام گناہوں پر پردہ ڈالتے ہوئے ان کے ساتھ تجارت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تاہم معاملہ کچھ اس کے برعکس تھا جسے کچھ تبصرہ نگاروں اور اپوزیشن کے تاک میں بیٹھے لوگوں نے عوام میں گمراہی کے اسباب پیدا کئے۔ حقیقت کچھ یہ ہے کہ معاشی اعتبار سے اس قسم کا کوئی بھی پروپوزل ہوتا ہے تو اگر اس کا کوئی اقتصادی زاویہ ہے تو وہ کیبنٹ کی ای سی سی کمیٹی کے پاس جاتا ہے، جب وہ اکانامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے پاس جاتا ہے تو اس کمیٹی میں فیصلے کمرشل اور اکنامک کنسنٹریشن کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی ایک اقتصادی کیس تھا جو ادھر گیا اور اس کو کمرشل سطح پر دیکھا گیا کیونکہ قیمتیں ہندوستان میں تو کم ہیں، وہاں سے چینی امپورٹ کی جائے تو وہ ای سی سی کی ریکومینڈیشن کیبنٹ میں چلی جاتی ہے جبکہ کیبنٹ سیاسی فورم ہے اور اسی کیبنٹ کا آخری اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی چیز کو فائنل کریگا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یہ فیصلہ فوری طور پر موخر کر دیا جائے اور اس پر نظر ثانی بھی کی جائے۔ ان کا ماننا تھا کہ بھارت کا معاملہ صرف اقتصادی معاملہ نہیں بلکہ سیاسی اور سٹرٹیجک بہت ساری چیزیں اس سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ کسی قسم کی تجارت نہیں کریگا اور نہ ہی کر سکتا ہے۔ اس وقت تک جب تک ہندوستان اپنے 5 اگست والے اقدام پر نظر ثانی نہیں کرتا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے منسٹری آف کامرس کو اور اپنی اقتصادی ٹیم کو یہ ہدایت جاری کی کہ فوری طور پر وہ اقدامات کریں تاکہ جتنے بھی اس سے جڑے ہوئے سیکٹر ہیں۔ ویلیو ایڈڈ، ایپیرل سیکٹر اور شوگر ان سب کو سہولیات فراہم کی جائیں اور نئے رستے ڈھونڈے جائیں اور باقی ممالک جو ہیں ان سے امپورٹ کی جائے جو بھی ان کی ضروریات ہیں اس سے یہ بالکل واضح ہوجانا چاہیے کہ جو قیاس آرائیاں چل رہی ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ کسی قسم کی تجارت کا معاملہ چل رہا ہے یعنی پاکستان کا موقف سامنے آگیا کہ جب تک ہندوستان اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کرتا اپنے غلط اقداما ت کو کشمیر سے نہیں اٹھاتا تب تک پاکستان اور بھارت کا کوئی بھی معاملہ آگے نہیں چل سکتا۔

میں وزیراعظم کے اس فیصلے کی تائید کرتا ہوں کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے لیکن اس کے لئے کچھ ریکوائرمنٹ ہیں جن کا پورا ہونا ضروری ہے۔ ای سی سی کوئی فیصلہ کر لے اور امپورٹ شروع ہو جائے ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کابینہ اس کی منظوری نہ دے اور بھارت سے تجارت کے حوالے سے وزیراعظم کا دو ٹوک فیصلہ سامنے آنے کے بعد قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

یہ ہی نہیں بلکہ اس کے بعد تحریک انصاف کی وفاقی کابینہ کی جانب سے بھی واضح الفاظوں میں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ پہلے کشمیر پھر تجارت اور کہا گیا کہ بھارت جب تک کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال نہیں کرتا اس وقت تک بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کی تجارت کی بات نہیں کی جا سکتی۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم پاکستان نے بھی اپنے حالیہ خطابات میں اسی بات پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے معاملے میں کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرینگے۔ وزیراعظم عمران خان نے واضح الفاظ میں کہا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملے بغیر بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکتے کیونکہ پہلے کشمیر، پھر تجارت۔


ای پیپر