Attacks on Maoist insurgents are common in the central Indian state of Chhattisgarh
08 اپریل 2021 (11:28) 2021-04-08

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں مائو نواز باغیوں نے فورسز پر پہلی بار حملہ نہیں کیا بلکہ یہاں فورسز پر حملے اور جانی نقصان معمول ہے لیکن تین اپریل جیسا بڑا حملہ آٹھ برس کے وقفے کے بعد ہوا ہے۔ 2010ء میں موجودہ حملہ آور گروپ نے 76 سکیورٹی اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اُتارا جبکہ 2013ء کے دوران کانگرس کے محو سفر قافلے پر حملہ کیا اور پوری ریاستی قیادت مار ڈالی۔

مغربی بنگال کی تحصیل نکسل کی مناسبت سے مائو نواز مسلح تحریک کو نکسل باغی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ خود کو ہندو قوم سے الگ سمجھتے ہیں لیکن ہندو ایسا نہیں سمجھتے حکومت کا خیال ہے کہ اِس تحریک کے نیپالی جرائم پیشہ تنظیموں سے روابط ہیں۔

مائوزے تنگ سے عقیدت کی بنا پر چین کا ہاتھ بھی قرار دیا جاتا ہے لیکن برسر عام تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ 1967ء سے جاری اِس تحریک کے پھلنے پھولنے کی ایک وجہ سماجی عدم مساوات بھی ہے۔ پن بجلی کے ذخائر اور معدنیات کی دولت سے مالا مال جنگلات اور پہاڑیوں میں گھرا یہ علاقہ مائو نوازوں کا مرکز ہے۔

یہاں باغی ترنگا نہیں لہرانے دیتے، اسی لیے سرکاری عمارتوں پر صرف تقریبات کے دوران پرچم لہرایا جاتا ہے۔ یہاں سرکاری ملازمین تک حریت پسندوں کے ہم نوا ہیں۔ مائو نواز باغیوں کے پاس لڑنے کے لیے جو اسلحہ ہے، وہ زیادہ تر یا تو فوج سے چھینا گیا ہے یا پھر فوجی بھگوڑوں سے خریدا گیا ہے۔ یہ گوریلا جنگ کے ماہر ہیں، اچانک حملہ کرتے ہیں، فورسز کو نقصان پہنچاتے اور پھر جنگلات یا پہاڑوں میں روپوش ہو جاتے ہیں۔

چھتیس گڑھ میں تین اپریل ہفتہ کی دوپہر ہونے والے حملے کے دوران دو بدو لڑائی ہوئی جو چار گھنٹے سے زائدجاری رہی۔ حیران کُن بات یہ ہے کہ علاقائی طاقت ہونے کے دعویدار بھارت کے دو ہزار فوجی ایک مخبر کی جھوٹی اطلاع پر محض اِس وجہ سے نکل پڑے تاکہ پیپلز لبریشن آرمی کی بٹالین ایک کے کمانڈر چالیس سالہ ہدما کے سر کی قیمت چالیس لاکھ حاصل کی جا سکے۔

مگر گھات لگائے چار سو کے لگ بھگ باغی چڑھ دوڑے۔ اِس اچانک حملے میں فوجیوں نے مقابلے کی بجائے بھاگنے کی حکمتِ عملی اپنائی، تبھی مرنے والوں کی تعداد تیس اور زخمیوں کی تعداد پچاس سے تجاوز کر گئی۔ اگر فرار کی بجائے فوجی مقابلہ کرتے تو نقصان اِتنا نہ ہوتا نہ ہی باغی اسلحہ اور گاڑیاں چھین کر لے جاتے۔ واقعہ کا مزید حیران کُن پہلو یہ ہے کہ بھاگتے ہوئے بزدل فوجیوں نے مرنے والے ساتھیوں کی لاشیں اُٹھانے کی بھی زحمت نہ کی۔ بے بسی سے مرنے والے فوجیوں کی بکھری لاشوں کو رپورٹرز نے ٹی وی کے ذریعے پورے ملک کو دکھا کر علاقائی طاقت کی قلعی کھول دی۔

دو ہزار تربیت یافتہ فوجیوں پر چار سو غیر تربیت یافتہ لڑاکوں کا حاوی ہونا فورسز کی ناقص اور پست کارکردگی کو عیاں کرتا ہے اور ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ بھارتی فوج اندرونی اور بیرونی محاذوں کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ حکومت کی بے بسی دیکھیے حالیہ تصادم کا الزام پلوامہ، پارلیمان، پٹھان کوٹ اور اڑی حملوں کی طرح کسی ہمسائے پر بھی نہیں لگا سکتی۔ اگر اقلیتوں سے شناخت چھیننے پر نظر ثانی نہیں کی جاتی اور عدم مساوات جیسے مسائل حل نہیں کیے جاتے تو بھارت کے بکھرنے کا عمل ختم نہیں ہوگا۔

اہلیت نہ ہونے کے باوجود بھارت علاقائی طاقت بننے کے لیے کوشاں ہے لیکن بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ علیحدگی کی تحریکیں جاری ہیں۔ بدامنی پر قابو پانے سے قاصر اور بددلی کے گرداب میں پھنسی فوج کے باوجود جب جنونی اور انتہا پسند بھارتی قیادت علاقائی طاقت یا منی سُپر پاور کا دعویٰ کرتی ہے تو کوئی تسلیم نہیں کر سکتا کیونکہ کشمیر سے لے کر چھتیس گڑھ تک بھارت میں علیحدگی پسند سرگرم ہیں جنہیں کچلنے کی استعداد سے ناصرف بھارتی فوج محروم ہے بلکہ فوجی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے بد دل ہے۔ اسی لیے خود کشیوں میں غیر معمولی اضافہ اور فرار ہونے والے فوجیوں کی شرح بھی بڑھ گئی ہے۔

فوج میں خوراک، آرام اور چھٹیوں میں بھی مذہبی ،لسانی ،علاقائی اور قومیت کی بنیاد پر تفریق کی جاتی ہے، جس کا ادراک کرتے ہوئے آرمی چیف اعتراف کر چکے ہیں کہ بھارت بیک وقت اڑھائی جنگیں نہیں لڑ سکتا۔ پاکستان اور چین سے ہونے والی جھڑپوں میں تو وقفہ بھی آتا رہتا ہے لیکن ملک میں جاری آدھی جنگ تو بغیر کسی وقفے کے جاری ہے جس میں وقت کے ساتھ کمی آنے کے بجائے اب مزید تیزی آ رہی ہے جس کی وجوہات میں انسانی حقوق کی پامالی ہے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔

جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، وہ تو کانگرس کی طرح زبانی کلامی مذہبی آزادی کی بھی روادار نہیں۔ اسی لیے اقلیتیں اپنی شناخت کی بحالی کے لیے مسلح جدوجہد کی طرف گامزن ہیں۔ مائو نواز باغی بھی اسی بنا پر علیحدگی کی روش اپنانے پر مجبور ہوئے ہیں۔

بھارت امن پسند ریاست نہیں بلکہ ہمسایہ ممالک کے بارے جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔ تبت کے دلائی لامہ کی پشت پناہی کے سبب چین سے اختلافات کی خلیج پیدا ہوئی۔ پاکستان میں بھارتی مداخلت تو روزِ روشن کی طرح عیاں حقیقت ہے۔ نیپال، سری لنکا، بھوٹان اور مالدیپ تک تمام ممالک بھارتی مداخلت پر خفا ہیں۔ بنگلا دیش جسے پاکستان سے الگ کرنے کے لیے بھارت نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور بے گناہ بنگالیوں کو قتل کرنے کے بعد پاک فوج کو ذمہ دار قرار دینے کے بہتان لگائے، آج اُسی بنگلا دیش میں بھارت کے بارے نفرت عروج پر ہے جس کا مظاہرہ نریندر مودی کی ڈھاکہ آمد پر دارالحکومت سے لے کر آسام، سلہٹ اور چٹاگانگ تک ہونے والے مظاہروں میں دیکھنے کو ملا۔

عوام میں یہ نفرت اتنی شدید ہے کہ بنگالیوں نے ڈیڑھ درجن جانیں تک گنوا دیں۔ اِن حالات میں علاقائی طاقت کا دعویٰ بھلا کون تسلیم کر سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارت کو امریکی پسندیدگی کا درجہ حاصل ہے کیونکہ وہ چین کا گھیرائو کرنے کے لیے بھارت، جاپان اور آسٹریلیا سے مل کر کوشاں ہے۔ مگر امریکی ترجیحات حاصل کرنے کے لیے بھارت موزوں نہیں کیونکہ ڈوکلام سے لے کر لداخ تک بھارتی فوج کی پٹائی اِس امر کی شاہد ہے کہ دعوے اور حقیقت میں بہت فرق ہے۔

کشمیر، آسام، تری پورہ، جھاڑ کھنڈ، اتر پردیش، مہاراشٹر، بہار، آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں کئی علاقوں میں آج بھی بھارت کی رَٹ نہیں بلکہ باغیوں کا حکم چلتا ہے۔ لوگ بھارتی ترنگا لہرانے سے قاصر ہیں۔ یہ صورتحال کسی علاقائی طاقت کے نہیں بلکہ حصوں بخروں میں تقسیم ہوتی ریاست کے ہی ہو سکتے ہیں۔

ایٹمی ہتھیاروں، میزائلوں، ٹینکوں اور طیاروں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن جنگیں جذبے سے لڑی جاتی ہیں جس کا بھارتی فوج میں فقدان ہے۔ دو برس قبل فروری میں ہونے والی فضائی جھڑپ کے دوران یہ حقیقت سب پر آشکار ہو چکی ہے، جب ناصرف بھارت نے منہ کی کھائی بلکہ دو طیاروں کا نقصان تک برداشت کرنا پڑا۔ مگر نریندر مودی کی ڈھٹائی ملاحظہ کریں کہ شکست کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ اگر فرانسیسی رافیل جنگی طیارے ہوتے تو حالات مختلف ہوتے۔

اب بھی وقت ہے کہ انتہا پسند جنونی بھارتی حکمران ریشہ دوانیاں چھوڑ کر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے کشمیر جیسا دیرینہ مسئلہ حل کرنے میں سنجیدگی اختیار کریں اور ملک میں وسائل کی تقسیم میں مساوات سے کام لیں تو ناصرف بھارت ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچ سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی خرید پر ضائع ہونے والا اربوں روپیہ عوام کی ترقی وخوشحالی پر لگانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

بھارتی قیادت کے اطوار سے ہویدا ہے کہ وہ ملک میں جنونیت کی فضا میں سہی اقتدار میں رہنے کو عزیز تصور کرتی ہے لیکن اِس طرح غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ ہی تیز ہو سکتی ہے جس سے علاقائی طاقت بننے کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔


ای پیپر