Civil Awards are recognition of valuable services in the arts, sports, literature, science and education.
08 اپریل 2021 (11:15) 2021-04-08

ہر برس 23 مارچ کو پاکستان اور بیرون ملک سے نامور شخصیات کو حکومت پاکستان اعزازات عطا کرنے کی تقریب منعقد کرتی ہے۔ پرائیڈ آف پرفارمنس کے ناموں کا اعلان ہر سال 14 اگست کو کر دیا جاتا ہے اور پھر 23 مارچ کو ان افراد کو اعزازات عطا کیے جاتے ہیں۔

یہ اعزازات صدر پاکستان کی جانب  سے ان افراد کی فنون لطیفہ، سپورٹس، لٹریچر، سائنس اور ایجوکیشن میں ان کی گراں قدر خدمات کا اعتراف ہے۔ ان اعزازات کو عطا کرنے کے لیے ایوان صدر اور چاروں صوبائی گورنر ہاؤسز میں تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔

جن لوگوں کو ان اعزازات سے نوازا جاتا ہے، ان میں بعض کے ناموں پر تنقید بھی کی جاتی ہے کہ انہیں کسی سفارش کی وجہ سے ان اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ مگر مجموعی طور پر لوگ ان افراد کی معاشرے کے لیے خدمات کے معترف رہتے ہیں۔

اس قسم کے اعزازات قابل لوگوں کو حوصلہ فراہم کرتے ہیں کہ پاکستان میں ان کے کام کی قدر حکومتی سطح پر کی جاتی ہے اور حکومت ان کی سرپرست بھی ہے۔ مثال کے طور پر اس سال ایوان صدر میں جو تقریب منعقد ہوئی، اس میں صادقین نقوی، پروفیسر شوکت علی، ظہور الحق، عابدہ پروین، ڈاکٹر جمیل جالبی اور احمد فراز مرحوم کو نشان امتیاز سے نوازا گیا۔

سیاسی طور پر بھلے آپ احمد فراز کو دیے جانے والے ایوارڈ کو تنقید کا نشانہ بنائیں کہ وہ شبلی فراز کے والد ہیں، مگر ان کی ادب کے لیے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور ایک زمانہ ان کی شاعری کا معترف ہے۔ اسی طرح مذہبی سکالر کی کیٹیگری میں مولانا طارق جمیل کو اس برس پرائیڈ آف پرفارمنس کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

ان کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر ایک مہم چل رہی ہے لیکن اس طرح کی مہم چلانے کا مقصد اپنے باطن کی گندگی کو دنیا کے سامنے لانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مولانا طارق جمیل کی فکر سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں۔ کسی مسئلہ کے حوالے سے ان کے نظریات اور آپ کے نظریات میں فرق ہو سکتا ہے، مگر جس طرح وہ لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہے ہیں اور معاشرے میں فرقہ واریت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کا اعتراف ایک دنیا کر رہی ہے۔

ویسے بھی ہر کسی کے معیار پر پورا کوئی بھی نہیں اتر سکتا۔ مولانا طارق جمیل کو تو لوگ خاص طور پر نشانہ بناتے ہیں۔ کبھی ان کی جائیدادوں کے حوالے سے تبصرے شروع ہو جاتے ہیں اور کبھی اس بات پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا کاروبار کیوں کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ان کی گاڑی کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ جتنی منہ اتنی باتیں۔

سوشل میڈیا نے بہت کچھ بدل دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اخلاقیات کا خاص طور پر جنازہ نکل رہا ہے۔ اپنی دانست میں ہر کوئی ارسطو بنا ہوا ہے۔ کسی مسئلہ کے سیاق و سباق سے ناواقف ماہرین اور تجزیہ کاروں کی ایک لمبی قطار ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔

ایک دوست نے کہا کہ اب لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں تو میں نے عرض کیا کہ بھائی آپ اپنے حصے کا کام کرتے جائیں، باقی ہر ایک کو درست کرنے کا ٹھیکہ تو ہم نے نہیں لے رکھا۔ جو ٹھیک لگے لوگوں کو بتا دیں اور جو نامناسب ہو اسے بلاک کر دیں۔

اس طرح کی تنقید اور کسی کے خلاف بے تکا پروپیگنڈہ کرنے کی ذمہ دار ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ بنا لیے ہیں جو مخالف کے خلاف بھرپور مہم چلاتے ہیں اور انہیں یہ علم کہاں کہ اخلاقیات کس چڑیا کا نام ہے۔ پاکستان کا آئین ہر شہری کو اپنے خیالات کا اظہا ر کی گارنٹی دیتا ہے لیکن یہ گارنٹی اصول و ضوابط ، قوانین اور اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر دی گئی ہے۔

ایک اور اہم شخصیت کا ذکر کرنا ضروری ہے اور وہ ہیں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل جنہیں اس برس پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا ہے۔ 2013ء میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔

کورونا وائرس کی اس وبا میں انہوں نے اپنے معاونین کے ساتھ مل کر بہت کام کیا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے ملحق اداروں میں دن رات کورونا کے ہزاروں مریضوں کا علاج کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ کورونا پر تحقیق کے سو سے زائد ریسرچ پروجیکٹ اس وقت بھی اس میڈیکل یونیورسٹی میں جاری ہیں۔

لوگوں تک صحت کی سہولیات پہنچانے کے لیے انہوں نے یونیورسٹی میں ٹیلی میڈیسن اور ٹیلی آئوٹ ڈور کے نظام کو رائج کیا تاکہ لوگ گھر بیٹھ کر ہی ڈاکٹر سے طبی مشورے حاصل کر سکیں۔ یہ بھی درست ہے کہ یہ نظام ابھی تک ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ نہیں لیکن اس نظام کی ابتدا تو ہو گئی ہے، اب اسے مزید ترقی دیتے جائیں تو حالات قدرے بہتر ہو سکتے ہیں۔ میں نے انہیں مبارکباد کے لیے فون کیا تو کہنے لگے کہ یہ اعزاز میرا نہیں بلکہ یہ اعزاز فرنٹ لائین ورکرز کا ہے جو اپنی زندگیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت میں دن رات مصروف ہیں۔

فنون لطیفہ میں اعزازات حاصل کرنے والے افراد کی تعداد دوسروں کی نسبت زیادہ ہے اور اکثر اس بات پر تفقید بھی کی جاتی ہے کہ کیا یہ پاکستان کے ہیرو ہیں ؟ جی بالکل یہ ہیرو ہیں لیکن حکومت کو بھی چاہیے کہ دوسرے شعبوں میں بھی اعزازات کی تعداد کو بڑھایا جائے۔

کورونا کی اس وبا میں یو ایچ ایس کے ڈاکٹر اکرم جاوید نے بہت کام کیا ہے۔ ایک میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر تو کورونا سے لڑتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے اور اس طرح کے اور بہت سے افراد جنہوں نے معاشرتی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا انہیں بھی اعزازات سے نوازا جانا چاہیے۔ معاشرے کو بہتر کرنے کے لیے اس طرح کے لوگ قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اور اس طرح کے اعزازات دراصل ان کا حوصلہ بڑھانے کا موجب بنتے ہیں۔


ای پیپر