Trade with India: Where decisions are made
08 اپریل 2021 (11:07) 2021-04-08

حکومتی کارکردگی پر دھماکوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ ابھی کسی ایک حکومتی فیصلے یا اقدام پر شور مچا ہوتا ہے۔ اس شور کی آوازیں ابھی جاری ہوتی ہیں تو کہیں اور کسی اور جگہ اگلا دھماکہ ہو جاتا ہے اور تبصرہ نگار پہلی بحث ادھوری چھوڑ کر نئی بریکنگ نیوز کی طرف بھاگ پڑتے ہیں لیکن اس دفعہ تو حد ہو گئی جب نئے وزیر خزانہ حماد اظہر نے بتایا کہ قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے انڈیا سے چینی کپاس درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اتنا اچانک تھا کہ اپوزیشن، میڈیا اور عوام کا تو جو ردعمل تھا اسے چھوڑیں خود حکومتی پارٹی کے بڑے بڑے برج حیران و پریشان ہو گئے کہ اتنا بڑا فیصلہ ہو گیا اور انہیں کانوں کان خبر بھی نہیں ہوئی اور اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری جیسے لوگ سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ ان کی حکومت کون چلا رہا ہے اور فیصلے کہاں ہو رہے ہیں۔

سیاست میں رفوگری ایک فن کا درجہ رکھتی ہے۔ جب پارٹی سربراہ یا وزیراعظم کوئی بہت بڑی غلطی کر بیٹھتا ہے تو پھر رفو گری حرکت میں آتی ہے کہ کس طرح اس کے غلط بیان کا اثر زائل کیا جا سکے۔ ایم کیو ایم کے بانی کا یہ وطیرہ ہوتا تھا کہ جب وہ کوئی بہت بڑا بیان جاری کرتے تھے تو پاکستان میں واقفان حال یہ پوچھتے تھے کہ یہ بیان جب جاری ہوا ہے تو لندن میں اس وقت مقامی وقت کیا تھا کیا یہ اہل مغرب کی شام تو نہیں تھی جب وہاں کے لوگ دن بھر کے غم بھلانے کا سامان کرتے ہیں۔ بانی ایم کیو ایم کے ہر بیان کے بعد پارٹی قیادت حرکت میں آتی اور ان کے بیان کی تشریح میں زمین آسمان ایک کر دیئے جاتے۔ فاروق ستار فن رفو گری کے ایسے ماہر تھے کہ ان کا متبادل کسی پارٹی میں آج تک پیدا نہیں ہوا۔ وہ اپنے قائد کے بارے میں دلائل سے ثابت کرتے تھے کہ 2 اور 2 کا مجموعہ 5 ہوتا ہے۔ وہ ہر ایک کو قائل بھی کر لیتے تھے۔ یہی ان کی سیاست تھی۔ موجودہ حالات میں پاکستان تحریک انصاف کو ایک فاروق ستار کی شدید ضرورت ہے جو ان کے پاس نہیں ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر فاروق ستار صاحب آج کل بیروزگار ہیں، اگر وہ حکومتی پارٹی میں شامل ہو جائیں تو اس سے دونوں سائیڈز کے لیے نیک شگون ہو گا۔ موجودہ حکومتی ماحول میں سرکاری واعظ کے عہدے کے لیے فرزند فراز موزوں ثابت نہیں ہو سکے۔

چینی اور کپاس کی انڈیا سے درآمد پر تبصروں اور تجزیوں کی سیاسی خشک نہیں ہوئی تھی کہ اگلے دن کابینہ اجلاس میں حماد اظہر کے فیصلے پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔ پی ٹی آئی کابینہ کے بڑے بڑے نام بشمول اسد عمر ، شاہ محمود ، شیریں مزاری اور شیخ رشید نے انڈیا سے تجارت کی مخالفت کی اور اسے کشمیر سے مشروط کر دیا۔ وزیراعظم نے اپنے دائیں دیکھا پھر بائیں طرف دیکھا کہ کہیں سے کوئی آواز حماد اظہر کے حق میں بلند ہو مگر کوئی نہ بولا۔ بالاخر وزیراعظم نے بھری محفل میں حماد اظہر سے سوال کیا کہ آپ نے کس کے کہنے پر یہ فیصلہ کیا ہے تو حماد اظہر کی معصومیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ انہوں نے جواب دیا کہ وزیراعظم صاحب آپ نے خود ہی تو مجھے کہا تھا۔ اس کے بعد شنید ہے کہ کابینہ میں ایک بار پھر سراسیمگی پھیل گئی اور سینئر کیبنٹ ممبران دل ہی دل میں بانی ایم کیو ایم کو یاد کرنے لگے۔ اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ بانی ایم کیو ایم پاکستان کے وزیراعظم نہیں بن گئے، ورنہ ملک کا کیا ہوتا۔ بہرحال اس سارے Episode میں حماد اظہر کی سادگی پر جان قربان کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اس واقعہ نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومتی فیصلوں میں کابینہ کا عمل دخل بہت محدود ہے۔ ایک شخص کی خواہش فرمان کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ چونکہ بہت بڑی واردات تھی، اس لیے یہ پکڑی گئی۔ روز مرہ حکمرانی کے لاتعداد ایسے امور ہیں جو اسی طرح جاری و ساری ہیں۔ پنجاب میں عثمان بزدار والی تاریخی روایت کے پیچھے بھی وہی سوچ کار فرما ہے کہ بس مجھے پتہ ہے کیا کرنا ہے، اسی لیے دوستوں اور دشمنوں سب کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ جب تک میں وزیراعظم ہوں، عثمان بزدار ہی پنجاب کا وزیراعلیٰ ہو گا۔

حفیظ شیخ کے نئے محکمہ جانشین شوکت ترین کا بطور اگلے وزیر خزانہ کافی چرچا ہے۔ شوکت ترین کا نام وزارت خزانہ کے لیے نیا نہیں ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا میڈیا میں چھپنے والا بیان کافی اہمیت اختیار کر چکا ہے جس میں انہوں نے اس حکومت کی ڈھائی سالہ کارکردگی کو زیرو کر دیا جو انہیں وزیر خزانہ بنائے جانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ شوکت ترین نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال میں حکومت نے اپنے گھر کو درست نہیں کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سمت کا تعین ہی نہیں ہو سکا۔ پھر انہوں نے وہ بات کہی جو پاکستان میں گزشتہ رات پیدا ہونے والا بچہ بھی شاید سمجھتا ہے۔ ان کا فرمان تھا کہ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرکے ملک میں مہنگائی اور افراط زر کا بحران پیدا ہوا۔ ان کا یہ بیان ہر لحاظ سے اس حکومت کے لئے شرمندگی کا باعث ہے۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اپنا اگلا لائحہ عمل بتاتے کہ وہ معاملات کو کیسے کنٹرول کریں گے۔ شاید وہ قوم کو یہ بتانا چاہتے ہین کہ ان سے کسی معجزے کی توقع نہ رکھی جائے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف میں جانے میں تاخیر کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے یہ سارا کچھ وہ ہے جو اپوزیشن بھی کہہ رہی ہے۔

ترین صاحب کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ رینٹل پاور پراجیکٹ سکینڈل میں نیب نے ہائی کورٹ میں ان کی بریت کے خلاف اپیل کی ہوئی ہے۔ شوکت ترین نے وزیراعظم کو کہا ہے کہ وہ اسی صورت عہدہ سنبھالیں گے، اگر عدالت انہیں مقدمے سے باعزت بری کرے گی ۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اب شوکت ترین کو عدالت سے کلین چٹ کے حصول کی خاطر نیب کی اپیل واپس کروائی جائے گی اور اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو یہ نیب کی جوڑ توڑ کی بدترین مثال ہو گی جس سے حکومت نیب گٹھ جوڑ کے اپوزیشن کے الزامات میں شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچے گی۔

شوکت ترین کی باڈی لینگوئج بتا رہی ہے کہ وہ اپنی شرائط پر وزارت قبول کر رہے ہیں۔ یہ بات حکومت کے لیے مشکلات کا باعث ہو گی۔ وہ چونکہ سیاستدان نہیں ہیں لہٰذا ان کے فیصلوں کا فال آئوٹ حکومت کو ہی برداشت کرنا ہو گا۔ اس طرح کی باتیں کر کے وہ آخر میں اپنے لیے بیگناہی کی گراؤنڈ بنا رہے ہیں کہ میں نے تو پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ معاملات بہت خراب ہیں۔ یہ وہی عذر داری ہے جو پی ٹی آئی حکومت اپنے دفاع میں پہلی حکومتوں پر تھوپ دیتی ہے کہ حالیہ مہنگائی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں۔


ای پیپر