Jahangir Tareen, ECL and arrest warrant?
08 اپریل 2021 (10:58) 2021-04-08

یہ ہفتہ سیاست کے لیے کچھ نیک فال ثابت نہیں ہو رہا پی ڈی ایم سے اے این پی علیحدہ ہو گئی، پیپلز پارٹی تیار بیٹھی ہے اور وہ اس حوالے سے اپنا فیصلہ اتوار کو سی ای سی اجلاس کے بعد سنائے گی۔ حکومتی صفوں میں بھی راوی چین نہیں لکھ رہا عمران خان کی پی ٹی آئی کو مرکز اور پنجاب کے تخت پر بٹھانے والے جہانگیر ترین بھی عدالتوں میں خوار ہو رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ شہزاد اکبر نے جہانگیر ترین سمیت شوگر سکینڈل کے کرداروں  کے نام ای سی ایل پر ڈالنے اور جہانگیر ترین سمیت کچھ کرداروں کی ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری کی تجویز دی تھی جسے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے رد کرتے ہوئے ریمارکس دے کہ خان کے خلاف مسائل کم کرنے کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ ایف آئی اے ذرائع نے تصدیق کی کہ انہیں جہانگیر ترین اور علی ترین سمیت شوگر سیکنڈل کے کچھ کرداروں کی گرفتاری کے لیے کہا گیا تھا لیکن ان کی ضمانت کے بعد یہ آپریشن روک دیا گیا۔

عدالت روانگی سے پہلے جہانگیر ترین سے اظہار یک جہتی کے لیے ان کے گھر اجلاس میں پی ٹی آئی کے 23 ممبر پنجاب اسمبلی اور 7 ایم این ایز اور ایک صوبائی وزیر بھی شریک تھے۔ یہ عمران خان کے لیے ایک واضح پیغام تھا۔ اس پر بغیر کسی لگی لپیٹی کہ جہانگیر ترین نے عمران خان صاحب کو واضح طور پر خبردار کیا کہ خاموش بیٹھا ہوں میں تو دوست تھا دشمن کیوں بنا رہے ہو۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عثمان بزدارکی پنجاب اسمبلی میں اکثریت ان ممبران اسمبلی سے کہیں کم ہے جو جہانگیر ترین کے ساتھ موجود تھے اور ترین گروپ کے حوالے سے یہ دعوی کیا جا رہا کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔ 

عدالت پیشی کے دوران جہانگیر ترین کے ہمراہ ان کے گھر اجلاس میں شریک تمام اراکین اسمبلی نہیں آئے اس کی وجہ کرونا بتائی گئی اور ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ آئندہ اکٹھ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کے اراکین بھی جہانگیر ترین کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے آئیں گے۔جو اراکین اسمبلی آج عدالت میں موجود تھے ان میں صوبائی وزیرنعمان لنگڑیال اور ارکان اسمبلی میں غلام بی بی بھروانہ ، طاہر رندھاوا،  افتخار گوندل ،اسلم بھروانہ، امیر محمد خان، ،راجہ ریاض، زوار وڑائچ ، خرم لغاری اور نذیر بلوچ شامل تھے۔ 

جہانگیر ترین کے شکوے تھے کہ ان پر بے بنیاد ایک یا 2 نہیں 3،3 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ جبکہ ہماری اطلاعات کے مطابق آنے والے دنوں میں ترین صاحب کو  دو اور مقدمات کا سامنا کر پڑ سکتا ہے جس میں ایک سمگلنگ کا بھی ہے ۔ ان کی فریاد تھی کہ میری خاموشی کی وجہ سے ایک سال سے انکوائری چل رہی ہے۔ ملک کی 80 شوگر ملوں میں سے انہیں صرف جہانگیر ترین نظر آیا، میرے اور میرے بیٹے کے اکاؤنٹ منجمد کردیے گئے ہیں، اکاؤنٹ کیوں منجمد کیے، اس سے کیا فائدہ ہورہا ہے اور یہ کون کررہا ہے؟ ترین صاحب اس کا جواب واضع ہے کہ یہ سب کچھ عمران خان کے ایما پر ہو رہا ہے اور آج شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں یہ واضح بھی کر دیا ہے۔ بے چارہ جہانگیر ترین پوچھتا ہے آخر یہ انتقامی کارروائی کیوں ہورہی ہے اور یہ سوال وہ عمران خان سے کر رہے ہیں۔ ان کو غلط فہمی ہے کہ انہیں عمران خان سے دور کرنے سے پی ٹی آئی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ البتہ ان کا یہ کہنا معنی خیز تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ایسے کرداروں کو  بے نقاب کیا جائے۔ میری رائے میں انہیں اس سلسلے میں بھی اس وقت مایوسی ہو گی جب انہیں نقاب کے پیچھے عمران خان نظرآئے گا ۔

دوسری جانب ہمیشہ کی طرح پی ٹی آئی نے ایک اور غیر سیاسی قدم اٹھاتے ہوئے جہانگیر ترین کی حمایت اور رابطے کرنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو شو کاز نوٹس جاری کرنے کے لیے وزیر اعظم سے  رابطہ کیا ہے۔ بہر حال حتمی فیصلہ عمران خان ہی کریں گے۔ یہ بھی شنید ہے کہ باغی اراکین کے خلاف دبے مقدمات بھی فعال کیے جائیں گے۔ البتہ کچھ وفاقی وزرا ء نے وزیر اعظم کو حالات کی وجہ سے موجودہ صورتحال کو جذبات کی بجائے حکمت عملی اور ٹھنڈے دل سے طے کرنے کا مشورہ دیا ہے لیکن وہ کچھ زیادہ پر امید نہیں ۔ جبکہ متعلقہ اراکین کا کہنا ہے کہ نوٹس ملنے پر ہی وہ جواب دیں گے۔فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ممبر اسمبلی کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر سیاسی فیصلہ ہو گا لیکن انہیں ایسے نوٹسز کی پروا نہیں۔ 

آج المیہ یہ ہے کہ عمران خان کے ہراول دستے میں شامل ترین بھی نا انصافی کی شکایت کر رہا ہے اور وہ تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں۔ عدالت میں اپنی پہلی پیشی کے بعد کچھ ساتھیوں سے گفتگو کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں آج مولا علی کا قول یاد آرہا ہے یا میاں محمد بخش کا شعرتو ان کا جواب تھا مولا علی کا قول۔ 

دوسری طرف جہانگیر ترین کی آصف زرداری سے ملاقات کی خبریں بھی گرم ہیں پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں شہلا رضا نے جذبات میں بے وقوفی کا ثبوت دیتے ہوئے قبل از وقت خبر بریک کر دی جس سے نقصان ہوا۔جاننے والے جانتے ہیں کہ آصف زرداری صاحب ہمیشہ کھیر ٹھنڈی کر کے کھانے کے عادی ہیں اور وہ جذبات کے بجائے عقل کو ترجیح دیتے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ جہانگیر ترین کا ان سے رابطہ ہواہے لیکن اس حوالے سے خواہشات کے گھوڑے دوڑانے کی بجائے صحیح وقت کا انتظار کیا جائے۔

دوسری طرف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم چھ ماہ بھی چل نہ سکا۔ اے این پی اور پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ ن اور جے یو آئی نے نشانہ بنایا یہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پی ڈی ایم کسی سیاسی ڈسپلن کے تحت ایک سیاسی پارٹی نہیں بلکہ ایک سیاسی اتحاد تھا اور اتحاد کی کسی پارٹی کو کسی دوسری پارٹی کو شو کاز نوٹس دینے کا حق نہیں۔ سیاسی نابالغوں نے ایک شو کاز نوٹس سے اپوزیشن اتحاد پارا پارا کر دیا اور المیہ یہ کہ اس پر وہ شرمندہ بھی نہیں۔ اب یہ بھی کہا جارہا کہ شو کاز نوٹسز سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان بھی خوش نہیں۔

اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئیں کھیت

قارئین اپنی رائے کے اظہار کے لیے اس نمبر 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل ، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر