US President Joe Biden's important step is to restore aid to the welfare of Palestinian refugees
کیپشن:   فائل فوٹو
08 اپریل 2021 (09:41) 2021-04-08

واشنگٹن: امریکی صدر جوزف بائیڈن نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے فلسطین کی فلاح وبہبود کیلئے تقریباً 23 کروڑ ڈالر کی امداد بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کے اس فیصلے پر اسرائیل کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے، تاہم جوزف بائیڈن نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے کی بجائے زور دیا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل ہی ضرورت ہے۔

امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہماری یہ امداد فلسطینی مہاجرین کیلئے ہے جو اقوام متحدہ کی ایجنسی کو ان کی فلاح وبہبود کیلئے فراہم کی جاتی تھی، تاہم اسے سابق صدر ٹرمپ نے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اب اسے بحال کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطین کیلئے جو امداد بحال کی گئی ہے ان میں سے پندرہ کروڑ ڈالر اقوام متحدہ کی ایجنسی جبکہ باقی ماندہ 7 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم کو غزہ اور مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینیوں کی معاشی ترقی کیلئے خرچ کئے جائیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہماری حکومت فلسطین کیلئے جو امداد بحال کرنے جا رہی ہے، اس کا مقصد دو ریاستی حل کو آگے بڑھانا ہے اور یہ کہ ہماری امداد امریکی اقدار اور مفادات کیلئے نہایت اہم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سیکیورٹی تعاون بڑھانے کی حمایت کرت ہیں جبکہ امریکی امداد فلسطینی مہاجرین کی معاشی ترقی کیلئے بھی اہمیت کی حامل ہے۔

خیال رہے کہ جب سے صدر جوبائیڈن نے امریکا کی باگ دوڑ سنبھالی ہے، اسرائیلی حکام کی جانب سے ان کیخلاف کسی بھی بیان بازی یا تنقید سے گریز کیا ہے لیکن جیسے ہی انہوں نے فلسطین کیلئے امداد جاری کرنے کا اعلان کیا، ان کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔


ای پیپر