وائرس کی آڑ میں چین کیساتھ کونسا دھوکہ کیا گیا ؟
08 اپریل 2020 (19:49) 2020-04-08

لندن :برطانیہ میں چین کے سفیر لیو شیاومنگ نے کہا ہے کہ چین کو بدنام کرنے کی کوشش ایک "سیاسی وائرس " ہے جو نوول کرونا وائرس کی عالمی وبا کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی تعاون کے لیے نقصان دہ ہے۔

ایوننگ سٹینڈرڈ اخبار میں شائع ایک تحریر میں لیو نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ میں کچھ سیاستدان وبا کے جاری بحران میں جھوٹ پھیلا رہے ہیں اور چین کو بدنام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے نوول کرونا وائرس کے خلاف عالمی کوششوں میں فعال طور پر حصہ لیا ہے، دنیا کے لئے اپنی ذمہ داری کو پورا کیا ہے کیونکہ یہ وبا سب کے لئے ایک مشترکہ چیلنج ہے۔

لیو نے کہا کہ چین نے ڈبلیو ایچ او کو 2 کروڑ امریکی ڈالر کا عطیہ دیا ہے اور 120 سے زیادہ ممالک بشمول برطانیہ اور چار بین الاقوامی تنظیموں کو اپنی استعداد کے مطابق مدد فراہم کی اور یہ کہ چین نے دوسرے ممالک اور خطوں کے ساتھ اپنے تجربات کے تبادلہ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ چین نوول کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں اوپن اور شفاف رہا ہے انہوں نے کہا کہ چینی اقدامات موثر رہے ہیں اور چین کو بدنام کرنے کی مہم غیر مقبول ہے۔تاہم ، کچھ مغربی سیاستدانوں نے عالمی صحت عامہ میں چین کی بھرپور کوششوں اور ڈبلیو ایچ او کے پیشہ ورانہ مشورے کو نظرانداز کیا کہ وائرس کو کسی خاص ملک یا خطے کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہئے۔

لیو نے کہا کہ چین کو بدنام کرنے کی یہ کوشش ایک سیاسی وائرس ہے جو تمام انسانیت کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ یہ وبا کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی تعاون کے لیے نقصان دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دوہرے معیار کو استعمال کرنے سے ان کی منافقت کا پتہ چلتا ہے۔ اس سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اسے عالمی برادری کی جانب سے مذمت اور مخالفت کا سامنا کرناہوگا۔لیو نے کہا کہ نوول کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک برادری کی حیثیت سے تعاون ہی صحیح انتخاب ہے۔انہوں نے کہا کہ چیلنج کے مقابلہ میں سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ چین اور برطانیہ اپنی ذمہ داری کو پورا کریں ، ایک دوسرے کی مدد کریں اور شور شرابے اور رکاوٹوں کو نظرانداز کریں ، تاکہ دونوں ممالک کے مابین تعاون کے لئے مثبت توانائی پیدا اور عالمی صحت عامہ کے لئے نئی شراکت قائم کی جاسکے۔


ای پیپر