سہمے ہوئے لوگ
08 اپریل 2019 2019-04-08

اگلے روز میرے ایک کالم ’’تشدد کہاں سے کہاں تک‘‘ پر فولادی اعصاب کے مالک محنتی اور انتہائی انسان دوست پاکستانی نژاد آسٹریلوی ڈاکٹر ہمایوں معظم نے ریمارکس میں ’’ سہمے ہوئے لوگ ‘‘ کے ساتھ اپنا ’’فقرہ‘‘ مکمل کیا۔ اس سے پہلے میرا عنوان ’’اگر عمران خان ناکام ہوا تو‘‘ تھا لیکن مجھے یہ عنوان ڈاکٹر ہمایوں معظم کے ریمارکس سے ملا اگر عمران ناکام ہوا تو میں سمجھتا ہوں کرپشن کے خلاف نعرۂ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا اور یہ بہت بڑا سانحہ ہو گا۔ پاکستانی سیاست میں لوگوں کی آئیڈیالوجی ہوتی ہے جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے لیے لوگوں نے کوڑے کھائے، جیلیں بھگتیں، قلعے بند رہے، پھانسیاں جھولیں، جلا وطنیاں دیکھیں، تشدد سہا اور یہ اکا دکا نہیں 1977ء کی منحوس 5 جولائی سے 17 اگست 1987ء تک تسلسل کے ساتھ رہا۔ محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کے لیے لوگوں نے ماریں کھائیں ، اُن کے ساتھ جدوجہد کی ، تاریخ کے ظالم ترین ڈکٹیٹر کا منہ چڑایا۔ نواز شریف کے ساتھ لوگوں نے سیاسی جدوجہد کی مگر اس کا انداز پی پی پی جیسا بالکل بھی نہیں تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ حالات ان کے گرد بھی تنگ ہوتے چلے گئے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ اور بی بی صاحبہ کے ساتھ جن لوگوں نے ضیاء کے خلاف جمہوری اور آئینی جدوجہد کی اُن میں ایک بھی بدعنوانی کے مقدمہ میں نہیں تھا بعد میں سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے لیے بدعنوانی کے مقدمات انبار لگا دیا گیا، غلط یا درست کا فیصلہ عدالتیں کرتی ہیں اور وہ اب سب تاریخ کا حصہ بنے جا رہی ہیں۔ لیکن میں نے عمران خان کے لیے اس کے پیروکاروں کو جو انصاف پر مبنی معاشرہ کے لیے، بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے ان کے ساتھ ہوئے ، حکومت میں آنے سے پہلے پھر حکومت میں آنے کے بعد جس طرح عمران خان کے پیرو کاروں کو اُن کا دفاع کرتے دیکھا ہے اتنا کسی اور سیاسی راہنما کے پیروکاروں کو نہیں دیکھا۔

بدعنوانی کے خلاف عمران کی ناکامی کیوں سانحہ ہو گا۔ جناب بھٹو سوشلزم کے ساتھ آئے جو کہ ایک بہترین معاشی نظام ہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سوشلزم کی بھی کیپٹلزم کی طرح اسلامی معاشرت میں پوری گنجائش موجود ہے۔ مگر ڈالروں کے عوض اسے اسلام مخالف نظام قرار دے دیا گیا۔جناب بھٹو کو جب اقتدار ملا تو باٹنے کو صرف بھوک تھی ۔مگر 5سالوں میں وہ اتنا کچھ کر گئے کہ آج تک اُن کے کیے ہوئے اقدامات وطن عزیز کے آئینی، داخلی، خارجی ، دفاع کی ضمانت ہیں۔ پھر ضیاء الحق امریکہ اور وطن عزیز کے بھٹو مخالف لوگوں نے سازش کی۔ بھٹو صاحب کے خلاف انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر زوردار تحریک چلائی گئی اس کو مکاری کے ساتھ تحریک نفاذ نظامِ مصطفی کا نام دیا گیا، نتیجے میں ضیاء الحق آ گیا بھٹو صاحب کو پھانسی لگوا کر تحریک کے زعما گھروں کو لوٹے اور کچھ عرصہ بعد میں نے اپنی آنکھوں سے موچی دروازہ میں جناب بھٹو کی تصویر کے نیچے تقریر کرتے اور بی بی شہید کی آڈیو تقریر سناتے دیکھا۔ اس کے بعد جیسے بھٹو صاحب کے بعد سوشلزم کا نعرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوا.۔ ضیاء کے بعد اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے سیاست کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا رہے گا البتہ بھٹو صاحب اور بی بی صاحبہ کا جمہوریت طرز حکمرانی کا نعرہ ہمیشہ رہے گا ۔اگر عمران خان ناکام ہوا اور حقیقت یہ ہے کہ ناکام ہو چکے ہیں تو آئندہ بدعنوانی اور انصاف کے لیے سیاست کرنے والوں کے لیے بہت مشکل ہو گی قدرت نے عمران خان کو بہت موقع دیا۔ بی بی صاحبہ کی شہادت نہ ہوتی تو کون عمران خان اور ان کے اتحادی ۔ یہ قدرت کے کام ہیں۔ حسن نثار بھائی، توفیق بٹ بھائی اور مظہر برلاس و دیگران جو پی ٹی آئی نہیں عمران خان کی حمایت میں لکھتے اور بولتے تھے اب وہ کیا لکھیں؟ کیا بولیں اپنی قلم کی عزت اور حرمت وہ خان صاحب کے لیے شاید قربان نہ کر پائیں بلکہ اگلے دن میں نے ٹی وی پر عارف حمید بھٹی کو ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے اور حمایت پر معافی مانگتے ہوئے دیکھا۔ ابو ذر معظم بٹ جیسا اینکر اور کالم نگار بھی بعض اوقات خاموش ہو جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ لوگ سوئی گیس کے بلوں کو ٹھیک کروانے کے لیے یوں مارے مارے پھر رہے ہیں جیسے اپنے عزیزوں کے لیے جان بچانے کی دوائی ڈھونڈ رہے ہوں۔ ایک دن شاہ محمود قریشی کہہ رہے تھے۔ سندھ میں تبدیلی دیکھ رہا ہوں یقیناًسندھی گھبرا گئے ہوں گے کیونکہ تبدیلی کو تباہی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اگلے روز نجم سیٹھی عمران خان کے اس ارادے کہ FBR ٹھیک نہ ہوا تو نیا FBR لے آئیں گے۔ سیٹھی صاحب اس طرح تشریح فرما رہے تھے کہ ان کے اوپر ادارہ ہونا چاہیے جو ان کو چیک کرے ان کے ذرائع آمدن اور رہن سہن چیک کرے۔ یہی تو ٹریجڈی ہے جو کبھی کسی کے ساتھ کسی تھانے، ضلعی عدالت ایف آئی اے دفتر ، کسٹم کے دفتر، ایکسائز، واپڈا، انکم ٹیکس کے دفتر ، کسی کی مدد کے لیے نہیں گیا اس کو اندازہ ہی نہیں ہو سکتا ہے کہ یہ محکمے کیسے درست ہونے ہیں۔ بھٹو صاحب نے ایف آئی اے بنائی کہ وفاقی محکموں کی بدعنوانی کو کنٹرول کرے لہٰذا وفاقی محکمے ایف آئی اے کی چراہ گاہ بن گئے۔ ایک ادارہ ان سب کا حاکم بن گیا ۔اینٹی کرپشن کے ادارے کے قیام کے بعد صوبائی محکمے اس کی چراہ گاہ بن گئے، اگلے روز مظہر برلاس نے چنگیز خان کی بات لکھی اس نے کہا کہ ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا ایک وزیر نے کیا کہ ہم نے تو کھوپڑیوں کے مینار بنا دیئے چنگیز خان نے کہا کہ وہ ہماری ضرورت تھی ۔ ظلم نہیں ظلم یہ ہے کے غیر موزوں شخص کو کسی ذمہ داری پر بٹھا دیا جائے تو عالی جناب خان صاحب آپ کا یہ ظلم جاری ہے مگر آپ لا علم ہیں اس سے سارے منظر نامے میں عوام سہمے ہوئے ہیں، اگر وہ انفراسٹریچر کو دیکھتے ہیں میاں صاحب یاد آتے ہیں مگر حمزہ شہباز اور اُن کے ساتھیوں کے تکبر کو دیکھ کر اگر وہ جمہوری جدوجہد کو دیکھ کر بلاول بھٹو کو امید سمجھتے ہیں تو زرداری صاحب پر الزامات کو دیکھ کر، اگر وہ اسلامی نظام کے نفاذ کا سوچتے ہیں تو مولانا فضل الرحمن کو دیکھ کر، اگر وہ ڈکٹیٹر شپ کو دیکھتے ہیں تو ضیاء الحق، مشرف کو یاد کر کے، اگر بیورو کریسی کی طرف دیکھتے ہیں تو کرپشن اور رعونت کے لا متناہی سلسلے کو یاد کر کے سہم جاتے ہیں۔ سیاست میں شائستگی کا سوچیں تو شیخ رشید، فواد چوہدری، طلال چوہدری ،فیاض الحسن چوہان کو دیکھ کر سہم جاتے کہ یہ راہنما ہیں یا قیامت کی علامتیں۔ واقعی سہمے لوگ ہیں بجلی کے بل، سوئی گیس کے بل، ڈاکٹروں، سکولوں، کالجوں کی فیسیں اور ان کے رویے اداروں کی بے حسی حتیٰ کہ عدلیہ کو دیکھیں تو افتخار محمد چوہدری اور جناب ثاقب نثار کو یاد کر کے سہم جاتے ہیں۔ اگر عمران خان بھی بدعنوانی کے خاتمے پر ناکام ہو گئے تو سہمے ہوئے لوگ کدھر جائیں گے۔ اب تو کوئی نعرہ بھی ان کو ہمت نہیں دے سکتا۔ میں نے پہلا کالم لکھا تھا انقلاب کی دستک مگر یہ دستک ان دیکھا ہاتھ کوئی نہ کوئی عمران خان لا کر انقلاب کو روک دیت اہے۔ مگر کب تک یہ سہمے ہوئے لوگ بپھرے ہوئے لوگ یہی ہو سکتے ہیں۔ لوگ انڈیا سے جنگ کے خطرے سے نہیں ، بلکہ حکومتی حماقتوں ، اقدامات اور مہنگائی کے پے در پے شب خون سے سہمے ہوئے ہیں۔


ای پیپر