کتابوں کی دنیا سلامت رہے
08 اپریل 2018

کہتے ہیں کتاب بہترین دوست ہے۔ ان دنوں اگرچہ لوگوں کی دوستی موبائل انٹرنیٹ کے ساتھ زیادہ نظر آتی ہے مگر کتاب کی حیثیت پھر بھی مسلمہ ہے۔ کتاب کلچر کے فروغ کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا ہے کہ علم و دانش کیلئے ہمیں کتابوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ آج میں اسلام آباد سے یہ سطریں تحریر کر رہا ہوں۔ سبب یہ ہے کہ ان دنوں نیشنل بک فاﺅنڈیشن کا نواں سالانہ قومی کتاب میلہ جاری ہے۔ اب تو یہ چار روزہ سالانہ کتاب میلہ اسلام آباد کے تہواروں میں شامل ہوچکا ہے۔ ہر سال چھوٹے بڑے بوڑھے مرد و خواتین کتاب میلے میں کھنچے چلے آتے ہیں۔ نیشنل بک فاﺅنڈیشن گزشتہ ستائیس برسوں سے کتاب کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے مگر پچھلے چند برسوں میں جب سے ڈاکٹر انعام الحق جاوید اس کے ایم ڈی بنے ہیں ” کتاب “ کی ہر طرف دھوم مچ گئی ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید ایک با صلاحیت انسان ہیں۔ شعر و ادب میں تو ان کا اپنا ایک حوالہ ہے ۔ اردو پنجابی شاعری اور خاص طور پر مزاحیہ شاعری میں اپنے نوکیلے اسلوب کے سبب پہچان رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقی انتظامی صلاحیتوں کا پتا مختلف اداروں سے ان کی وابستگی کے چلتا ہے۔ نیشنل بک فاﺅنڈیشن کو انہوں نے وطنِ عزیز کے لئے ”کماﺅ پوت“ بنا دیا ہے وگرنہ بیشتر سرکاری ادارے تو بمشکل اپنی تنخواہیں پوری کرتے ہیں۔ انعام الحق جاوید نے اپنی ٹیم کے ساتھ نیشنل بک فاﺅنڈیشن کو ملک بھر میں روشناس کرا دیا ہے۔ ہر شہر میں این بی ایف کے کتابوں کے سٹال شو روم دکھائی دیتے ہیں جہاں قارئین کے لیے سستی اور معیاری کتب فراہم کی جاتی ہیں۔
سالانہ کتاب میلہ میں بھی کتابوں کے چاہنے والے اپنی پسند کی کتابیں حاصل کرتے ہیں اور یہی نہیں میلے میں ہر عمر کی سطح کے افراد کے لیے مختلف دلچسپ پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ ملک بھر سے سفیر ان کتاب اور ممتاز اہلِ قلم کو اس میلے میں مدعو کیا جاتا ہے۔ شاعری فکشن اور مختلف کتابوں کی رونمائیاں منعقد ہوتی ہیں۔ اس بار قومی کتاب میلے کا افتتاح صدر مملکت ممنون حسین نے کیا۔ اگرچہ وہ قدرے تاخیر سے تقریب میں تشریف لائے جس سے تقریب تاخیر کا شکار ہوئی۔ ان کے ہمراہ قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے سیکرٹری انجینئر عامر حسن اور وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ ادبی ورثہ ڈویژن عرفان صدیقی بھی تھے۔ سٹیج پر قومی ترانے سے تقریب شروع ہوئی۔ تلاوت قاری نجم مصطفی نے کی ۔ کتاب ترانہ بچوں نے پیش کیا۔ بعد میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے سال کی کارکردگی پیش کی۔ جس پر اہلِ قلم اور شرکائے تقریب کو خوشی ہوئی کہ اس بار ( جنوری تا دسمبر 2017 ئ) 33 کروڑ روپے اور پچاس لاکھ کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ ہمارے ہاں عموماً پبلشرز کتاب فروخت نہ ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں مگر ہم نے تو یہاں کتابیں خریدنے والوں کا ایک ہجوم دیکھا ہے ۔ انعام الحق جاوید نے بتایا کہ قومی کتاب میلہ میں 132 سٹال لگے ہیں اور 70 سے زائد مختلف ادبی ثقافتی تقاریب جاری ہیں۔ انہوں نے شہرِ کتاب کے نام سے باقاعدہ ایک ایسی جگہ قائم کر دی ہے جہاں مختلف پبلشروں کی کتب دستیاب ہیں۔ کلب بک شیلف سے عوام فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ نیشنل بک فاﺅنڈیشن اب فیڈرل بورڈ کے لیے نصاب کتب بھی شائع کر کے نہ صرف یہاں کے تعلیمی اداروں بلکہ ملک سے باہر سفارت خانوں کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کو فراہم کرتا ہے۔ پہلے بک میوزیم کا قیام بھی عمل میں لایا جا چکا ہے۔ جیل خانہ جات کے قیدیوں کے لیے بھی مفت کتب فراہم کی جاتی ہیں۔ 2017 ءمیں 4 لاکھ کے نقد انعامات لکھاریوں میں تقسیم کیے گئے۔ یہ ساری کار کردگی سن کر اطمینان ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ابھی بعض اداروں میں واقعتاً کام ہو رہا ہے۔
نیشنل بک فاﺅنڈیشن اپنے ممبران کو سستی کتابیں فراہم کرتا ہے ۔ اس برس 3.5 کروڑ کی سبسڈی دی گئی۔ انجینئر عامر حسن نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کتاب کلچر کے فروغ میں ادارے کی کار کردگی کو سراہا۔ عرفان صدیقی نے قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے اداروں کی کار کردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر مملکت ممنون حسین نے پہلے یوم ِ یکجہتی ِ کشمیر کی بات کی اور کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نہتے کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے جس پر یو این کو نوٹس لینا چاہئے۔ شرکا ئے تقریب نے بازوﺅں پر کالی پٹیاں باندھیں۔ صدر ممنون کی کتاب دوستی بھی مشہور ہے۔ انہیں سینکڑوں اشعار زبانی یاد ہیں۔ ادبی تقریبات میں بھی دلچسپی لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ قلم کی مفت کتب شائع ہونی چاہئیں تا کہ مصنفین کو اپنی کتاب کی اشاعت کے لیے ترسنا نہ پڑے اور نہ ہی در در کے دھکے کھانے پڑیں۔
افتتاحی تقریب کے بعد کتاب میلہ کو عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔ اسلام آباد کا موسم بھی بہت خوبصورت ہے۔ ادیبوں شاعروں کی میل ملاقاتیں بھی جاری ہیں۔ اسلام آباد کے ہر کھمبے پر اہلِ قلم اور سفیرانِ کتاب کے پورٹریٹ آویزاں ہیں۔ ایسے کتاب میلے عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے سود مند ثابت ہوتے ہیں۔ نئی نسل کے بارے میں عموماً ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ کمپیوٹر کی ہو کے رہ گئی ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ بہت سے نوجوان کتابیں خرید رہے ہیں۔ اپنے پسندیدہ شاعروں ادیبوں سے مل رہے ہیں۔ تصاویر بنائی جا رہی ہیں۔ اس سے حوصلہ ہوتا ہے کہ ابھی کچھ نہیں بگڑا، اگر سرکاری سطح پر کتاب کلچر کے فروغ کے لیے ایسے ادارے اپنا کام کرتے رہیں۔ لائیبریریوں کو بہتر بنایا جائے تو معاشرہ میں برداشت کا کلچر فروغ پا سکتا ہے۔ امن بذریعہ کتاب نیشنل بک فاﺅنڈیشن کا ماٹو ہے۔ کتاب روشنی ہے ۔ علم کے فروغ کے ساتھ سماج میں جہالت کے خاتمے کے علاوہ محبت، برداشت اور ایثار کے جذبے بھی فروغ پاتے ہیں۔
افتتاحی تقریب میں بچوں کے ترانے :
کتابوں کی دنیا سلامت رہے
نے سماں باندھ دیا تھا۔ ہم ہال سے باہر نکلے تو اکثر لوگ اِسی دُھن کو گنگنا رہے تھے۔ بعد میں کتاب واک میں شرکت کی۔ پروگرام جاری ہیں باقی پھر۔


ای پیپر