آرمی چیف کی تعریف کِس نے نہیں کی؟
08 اپریل 2018

حضرت مُوسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ بیمار ہوئے، ظاہر ہے اُن کا بھی تو حلقہِ احباب ہوگا۔ اُنہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے گزارش کی کہ فلاں جڑی بوٹیاں لے لیں آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ آپ نے بار بار اِصرار کے باوجود بھی انکار کر دیا، اور فرمایا کہ مجھے اللہ پر توکل ہے وہ مجھے ٹھیک کر دے گا، اَحباب کے بار بار اِصرار اورآپ کے انکار کو اُوپر والا دیکھ رہا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی نازل فرمائی ، یا براہِ راست حکم دیا، کہ موسیٰ اِن دُوستوں اور بزرگوں کی بات مَان لو، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، کہ میں یہ جڑی بوٹی دَوائی کے طور پر کیوں لوں، جب کہ شِفا دینے والی ذات محض آپ ہی کی ہے۔ آپ مالکِ کُل ہیں جسے چاہیں بیمار کر دیں، اور جسے چاہیں ٹھیک کر دیں،
آپ نے دَوائی میں شفا نہیں رکھی، بلکہ شفا آپ ہی کے ہاتھ میں ہے، قارئین محترم آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا ، کہ ایک ہی دوائی سے کوئی بیمار شخص مکمل طور پر رُو بصحت ہو جاتا ہے، اور کسی بیمار کو اِس سے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا،
یہ سُن کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِس سے دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو اطباء، اور احُکماءکو اِس سے رزق ملتا ہے، دُوسرے بیمار کو اِس سے تسلی بھی ہوتی ہے، کیونکہ حکیم یا ڈاکٹر مریض کو کوئی نصیحت تلقین اور ہدایات بھی دیتے ہیں، اور ڈاکٹر کے اِس رویے سے مریض کی ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ دُوسرے یہ بات جو اللہ سبحانہ ¾و تعالیٰ نے ارشاد فرمائی وہ انتہائی قابلِ غور ہے کہ توکل اور حکمت اپنی جگہ یہ دُونوں ٹھیک ہیں۔
راقم کا خیال ہے ، کہ توکل تو چونکہ اِنسان کو کرنا ہوتا ہے، لہٰذا اِس کا تعلق مخلوق یعنی اشرف المخلوقات سے ہے، جبکہ ” حِکمت“ رب کی ہوتی ہے، جسے کوئی انسان نہیں سمجھ سکتا۔
مگر مُجھے حیرت تو تب ہوئی کہ جَب ضمیر مُسلمانی، تقدیرِ خداوندی سمجھ کر کشمیر و فلسطین برما، رُوہنگیا، بنگلہ دیش میں اَرزانی خونِ مسلم کو راضی برضا کہتے ہوئے اپنی زبانیں گنگ اور اپنی ”تلواریں“ اور تیر ترکش سمیت بند کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اُمت مُسلمہ کو حضرت علامہ اقبال ؒ کے یہ اشعار یاد آنے لگے کہ
تن بہ تقدیر ہے آج اُن کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر
تھا جو ناخوب ، بتدریج وہی خوب ہُوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
قوموں کا ضمیر بدلتے ہوئے ابھی چند دِنوں ہی کی تو بات ہے ، کہ جب پُونے دو ارب مُسلمانوں کا نمائندہ ، راہنما، اور راہ بر، بغیر کسی حیل و حجت و بحث و تمحیص کے خبیثِ وقت کے آگے ڈھیر ہوگیا، کہ میامی و فلوریڈا کے ساحِل سمندروں کو جدہ کے ساحلوں کو ریاست ہائے مُتحدہ کے ساحلوں و سینماﺅں کو مُنہ چڑانے کا حکم دے دیا گیا، مخلوط تعلیم جنسیات، اور اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کے لئے تقلید فرنگی کی نیم ترہنگی تہذیب اپنانے اور رسوماتِ مُسلمانی کو دفنانے کے شاہی انتظامات کرنے کی شروعات کی ابتدا، اور افتتاح کر دیا گیا ہے،
اگلے جُون میں آنے والے طوفان، مُوسمِ بے ایمان بن کر وہ گُل کھلائیں گے ، کہ ٹرمپ کے وَطن کے بانکے، چھیل چھبیلے بن کر قبیلے کے قبیلے ساتھ ملا کر رقصِ ابلیس میں رقصِ درویش کو تبدیل کرتے نظر آئیں گے،
سُنا ہے، ایک دفعہ خفیہ سینما میں ایک فلم دِکھائی گئی تھی کہ بجلی چلی گئی یا پھر یہ تدبیر حیوانی تھی، مگر جو بھی تھا، خواتین کی چیخ و پکار اور آہ و فغاں کو تاریخِ سعودیہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی، اِسی کی ایک جھلک، فلک والے نے سالِ نو کے جشن میں کسی اور مُلک میں بھی دیکھی تھی۔ مگر اُوپر والے نے اِسی آزمائش ہی کے لئے تو پہلے بھی ” بابائے اِنس“ کو جنت سے نکالا تھا مگر ہامان و شداد تو باافراط ہم میں ابھی بھی موجود ہیں۔
کہیں میری یہ چھوٹی سی بات تکرار کا رنگ اختیار نہ کر جائے، آج کل روزانہ جو غزہ و کشمیر کو مقتل ِ مُسلمان بنا کر رَکھ دیا گیاہے، اُس سے صرفِ نظر کیونکر ممکن ہے مگر ایک عربی چینل انگریزی میں تبصرہ کرتے ہوئے فلسطینی کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی غلیل تو بار بار دکھا رہا تھا، مگر گرتی ہوئی فلسطینیوں کی لاشیں اُس کے نزدیک دھوکہ¿ چشم اور فریبِ نظر تھا کوئی اِسے جُرم ضعیفی بھی کہہ سکتا ہے، اور کوئی یہ دلیل بھی دے سکتا ہے کہ اسلام میں کمزور کی سزا کو مُوت کہا جاتا ہے۔ مگر ترکی اور ایران نے تو اِس کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے،
مگر ایک ایسا سِتم ، ایسی قیامت، ایسی آفتِ ناگہانی جو چہرہ¿ مُسلمانی پر ایک طمانچہ ہے، وہ ہے افغان صوبے قندوز میں دینی مدرسے پر فضائی بمباری ، جس کی وجہ سے شہید ہو جانے والے معصوم بچوں کی تعداد 150 سے بھی تجاوز کر گئی، جو تمام کے تمام حافظِ قرآن تھے، اور حفظِ قرآن مکمل کرنے کے بعد تقریب ِ دستار بندی میں شرکت کے لیے وہاں اپنے اہلِ خاندان اور والدین کے ساتھ موجود تھے۔ جبکہ افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی ہیلی کوپٹروں کے ذریعے فوجیوں نے وحشی بن کر ” ہاشمی عمریہ “ نامی مدرسے پر بمباری کی۔
اور انہوں نے یہ الزام بھی مسترد کر دیا کہ مدرسے میں طالبان موجود تھے ، یا یہ کہ ان کا کوئی اجلاس جاری تھا۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ ذبح ہونے والے اُجلے اور سفید کپڑے پہنے ہوئے معصوم کلیوں کو بیدردی سے کچل دیا گیا۔ انہوں نے گو بدلہ لینے کا اعلان تو کر دیا ، مگر مارنے والے امریکی تو نہیں، افغان فوج کے درندے بشکل امریکی کارندے مصروفِ عمل تھے۔
افسوس تو اِس بات کا ہے کہ یہ گھناﺅنا ناٹک پہلی دفعہ نہیں رچایا گیا۔ ایک دفعہ ایک ایسی ہی سازش حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی کی گئی تھی، کچھ اپنے قبیلے کے مُعزز لوگ آپ کی خدمتِ اقدس و اطہر میں پیش ہوئے، اور بڑی لجاجت سے درخواست کی ، کہ ہم دائرہ اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں، لہٰذا تبلیغِ اسلام کے زیادہ سے زیادہ حفاظ ، عالم و فاضلِ دین ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں، ہم ان کی حفاظت اور خدمت کی ضمانت دیتے ہیں، آپ نے تھوڑے سے توقف کے بعد اثبات میں جواب دیا اور جب اُن کو روانہ فرمایا ، تو اُس میں 70 صحابہ کرام ؓ، اور جید عالم دین بھی شامل تھے، مگر اُن بدبختوں نے اپنے علاقے میں پہنچ کر سَب سے پہلے حضرت حرام ؓ کو اچانک پیچھے سے اِس قدر زور سے برچھا مارا کہ وہ آرپار ہوگیا، صحابی ِرسول نے خون سینے پہ بہتا دیکھ کر آسمان کی جانب دیکھا، اور نعرہ بلند کیا کہ ربِ کعبہ کی قسم ہم کامیاب ہوگئے، کفار نے اِن ستر اسلامی ستاروں کی بوٹی بوٹی کر دی۔ حضور نے تو اسلام کی سر بلندی کیلئے اپنے بہتر اہلِ بیت شہید کرا لیے ان کے قاتل بھی مسلمان تھے۔ سورة البقرہ کی آیت 114 اور سورة آلِ عمران کی آیت 141 مُسلمانوں کے مکمل نصب العین اور ضابطہ حیات کی ترجمانی کرتی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اندوہناک اطلاع ملی تو آپ زارو قطار رُونے لگے، آپ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ آپ اپنا بدلہ نہیں لیا کرتے تھے مگر اللہ سُبحانہ ¾ و تعالیٰ اور اُس کے رسول کے خلاف ہر عمل کا بدلہ لیا کرتے تھے، آپ اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ مسلسل ایک ماہ نمازِ فجر میں ایک ہی سُورة تلاوت فرماتے رہے، جس کا مفہوم یہ تھا کہ اے اللہ آپ کافروں سے بدلہ لیں اور پھر کافروں کو دُنیا سے ملیا میٹ کر کے ہندوستان تک محدود کر دیا گیا ، زمین و زمان ولا مکان کے مالک، کا دن تو ہمارے پچاس ہزار سال کے بابر ہوتا ہے،
ہر مردِ مُسلمان کو اللہ تعالیٰ کی ہر بات ،اور اُس کے فرمانِ پیغمبر پہ مکمل یقین و اعتماد ہوتا ہے، کیا ہر مسلمان کو اِس بات پر یقن نہیں تھا کہ فرعون کی لاش عبرت کیلئے محفوظ بنا دی ہے، اور پھر وہ ہزار برس بعد دریائے نیل کے ساحل پہ جھاڑیوں میں دھنسی مِل گئی ہزاروں برس کے دوران کتنی مسلمانوں کی نسلیں آکر چلی گئی ہونگی ؟ مگر مسلمانوں کا یقین و اعتماد ذرا متزلزل نہیں ہوا۔
لہٰذا ہمارا یہ بھی یقین کامل ہے کہ وقت ایک جیسا نہیں رہے گا، کیونکہ عروج و زوال لازم ملزوم ہیں مگر عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز شریف کے منہ سے آرمی چیف کی تعریف نوکری کی درخواست لگتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آرمی چیف کی تعریف ، ایوب خان سے لے کر قمر جاوید باجوہ تک کُون نہیں کرتا رہا۔ آپ نہیں کرتے یا میں نہیں کرتا؟ یا سینٹ کا چیئرمین دعوتِ نظارہ نہیں دیتا۔۔۔ پہلے وہ اور آپ مل کر دُوسرے سینٹ کے چیئرمین کے چناﺅ کیلئے کفارہ ادا کریں۔۔۔ 35 کروڑ فی ممبر کم تو نہیں ہوتے ، نوکر کی تے نخرہ کی؟


ای پیپر