مقبوضہ کشمیر برصغیر کا فلسطین
07 ستمبر 2020 (23:49) 2020-09-07

غلام اکبر

مجھ کو تو یہ دُنیا نظر آتی ہے دگرگوں

معلوم نہیں دیکھتی ہے تیری نظر کیا

اقبالؔ

ہندوئوں کے امرناتھ شرائن بورڈ کو اراضی منتقل کرانے کا ناپاک منصوبہ جہاں سابق بھارتی گورنر ریٹائرڈ جنرل ایس کے سنہا نے ترتیب دیا تھا وہیں اس منصوبے کے طشت ازبام ہونے کے بعد ایک ایسی کہانی بے نقاب ہوئی جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سرینگر میں کرسی کے تنومند غلام، غداران کشمیر بے پرواہ ہو کر اپنی کُرسی کو دوام بخشنے کے لیے فروختگی کشمیر کے حوالے سے ایک دوسرے پر سبقت لے رہے ہیں۔ شرائن بورڈ کو اراضی منتقل کرانے کے معاملے پر کشمیر کی بھارت نواز جماعت پی ڈی پی کے لیڈر مظفر حسین بیگ کا انکشاف اہل کشمیر کے لیے چشم کُشا ہے۔ مظفر حسین بیگ کا کہنا تھا کہ بال تل کے مقام پر امرناتھ شرائن بورڈ کے قیام اور وہاں پختہ تعمیرات کا آغاز 1980ء میں نیشنل کانفرنس نے کیا تھا کہ جب شیخ عبداللہ نے یاتریوں کے طعام وقیام کے لیے پہلی پختہ سرائے تعمیر کرائی۔

22مئی 1999ء میں فاروق عبداللہ نے اپنے دورحکومت میں اس سرائے کی تجدید ومرمت کی اجازت یہ کہتے ہوئے دی کہ تعمیراتی مٹیریل بال تل پہنچانے میں کوئی امرمانع نہیں ہونا چاہیے اور اس طرح بال تل تعمیرات کا کام شدومد سے جاری رہا۔ مظفر حسین بیگ نے جہاں نیشنل کانفرنس کے شرمناک کارناموں کو آشکار کردیا وہیں پی ڈی پی کے دوراقتدار میں بال تل میں ہونے والی سرگرمیوں کو گول مول انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی تاکہ اسلامیان کشمیر کو ساری کہانی کا صحیح پتہ لگ نہ سکے اور اس طرح عوام نیشنل کانفرنس کو ہی اس کارروائی پر موردالزام ٹھہراسکیں۔

مظفر حسین بیگ نے اپنی جماعت پی ڈی پی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی کی حکومت کے دوران گورنر ایس کے سنہا بال تل ایک بستی قائم کرنے کے حق میں تھا اور شرائن بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارون کمار نے اپنی اہلیہ سجائی کمار جو اس وقت کی کٹھ پتلی سرکار کمشنر سیکرٹری فاریسٹ تھی، کیساتھ کچن کیبنٹ سازباز کے تحت اس وقت کے وزیر جنگلات غلام محی الدین صوفی سے رابطہ قائم کیا اور ایس کے سنہا کے منصوبے پر کام شروع کرنے کو کہا جبکہ پی ڈی پی قیادت نے اسے مسترد کردیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ قاضی افضل نے یاتریوں کے لیے بال تل بیت الخلاء کی سہولیات دستیاب رکھنے کے لیے عارضی طور پر شرائن بورڈ کو اراضی فراہم کی۔

اس متضاد اور مبہم بیان سے معاملے کو سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ مظفر حسین بیگ مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے ارون کمار پر صرف اس لیے برہم تھا کہ اسی کی وجہ سے یہ معاملہ طشت ازبام ہو گیا ورنہ پی ڈی پی خاموش طریقے سے اور درپردہ فروختگی کشمیر کا قبیح اور بدترین عمل جاری رکھے ہوئی تھی۔ بیگ کا انکشاف دراصل پی ڈی پی کے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنے کی کوشش تھی لیکن آخرکار بات سے بات نکلتی ہے۔ مظفربیگ کا کہنا تھا کہ ارون کمار نے یہ ڈول پیٹا کہ محکمہ جنگلات نے امرناتھ شرائن بورڈ کو مستقل بنیادوں پر بڑے پیمانے پر اراضی فراہم کی لیکن بیگ یہ بات سرے سے بھول رہا تھا کہ قاضی افضل کون تھا؟ کیا وہ پی ڈی پی سرکار کا وزیر نہیں تھا اور یہ کہ اسے کس نے یہ اختیار دیا کہ وہ عارضی طور پر ہی سہی لیکن اراضی کشمیر شرائن بورڈ کو فراہم کرے۔ اگر یہ معاملہ پی ڈی پی کی مرضی کے بغیر ہورہا تھا تو اس نے اس بات کو عوام کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا۔ دراصل کشمیر کے یہ ’’سوداگر‘‘ وادی کشمیر کو خاموش طریقے سے فروخت کرنے کا دھندہ کرتے رہے ہیں۔

اے مرے فقر غیور فیصلہ تیرا

خلعت انگریز یا پیرہن چاک چاک

اقبالؔ

آج تک نجانے کتنے شرائن بورڈوں اور غیرریاستی باشندوں کو کشمیر کی اراضی منتقل ہوچکی ہو گی چونکہ دھندہ پردے کے پیچھے ہوتا رہا اور اسلامیانِ کشمیر کو اس سے بے خبر رکھا جارہا ہے۔ جس وجہ سے اس المیے کی ساری کہانی سامنے نہیں آرہی۔ 2006ء میں کشمیر کے معروف سیاحتی مقام گلمرگ کی قیمتی اراضی بھارتی باشندوں کو منتقل کرنے کا ایک شرمناک منصوبہ طشت ازبام ہوچکا تھا اور اس پر اسلامیان کشمیر نے اپنے شدید غم وغصّے کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے پر پانی پھیر دیا تھا۔ اگرچہ گلمرگ کی نیلامی پر بھی بھارت نواز کشمیر کی غدار جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی ایک دوسرے کو موردِالزام ٹھہراتی رہی حالانکہ شرائن بورڈ کو اراضی منتقل کرانے کی طرح گلمرگ نیلامی کے جرم میں بھی یہ دونوں برابر کی شریک اور حصہ دار تھیں۔

فروختگی کشمیر کے یہ منصوبے اسرائیلی منصوبوں سے مختلف نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کشمیر میں بھارت نواز حکمران ازخود اراضی کشمیر ہندوئوں کے شرائن بورڈوں اور بھارتی باشندوں کو فروخت کررہے ہیں جبکہ فلسطین میں صیہونی بالجبر فلسطینی مسلمانوں سے ان کی اراضی ہڑپ کر رہے ہیں۔ فلسطین براعظم ایشیا میں مغرب کی جانب مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے درمیان واقع ہے۔ فلسطین کا موجودہ رقبہ 27009 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ زمانہ قدیم میں اگرچہ فلسطین کا حدود اربعہ کافی وسیع تھا اور عہد اسلامی میں فلسطین کی حدود مشرق میں دمتہ الجندل سے بریتہ السمارہ تک اور شمال میں دریائے فرات سے بحرروم تک، جنوب میں مصری صحرا اور عریش کے علاقے تک شمار ہوتی تھیں لیکن 1948ء میں صیہونیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا اور اس جبر کے نتیجے میں 77فیصد فلسطینی رقبے پر صیہونی قابض ہو گئے۔ اسرائیل نام کی یہ ریاست دُنیا کے نقشے پر ایک جبری ریاست ہے جس کی بنیادیں اقوام متحدہ جیسے ادارے کے ذریعے سے محض ظلم واستبداد اور ناانصافی پر رکھی گئیں۔ فلسطینیوں پر بیت جانے والے مظالم اور سرزمین فلسطین اہل فلسطین پر جس طرح تنگ کردی گئی وہ المناک خوفناک اور دل دہلا دینے والی طویل داستان ہے۔ بہرکیف بھارت کے اسرائیل طرز کے ایسے نامراد منصوبوں پر اہل کشمیر نے اپنے لب سی لیے تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطینیوں کی طرح کشمیری مسلمانوں کو بھی دربدر ہونا پڑے گا۔

فروختگی کشمیر کے شرمناک فیصلوں کے خلاف اسلامیان کشمیر جس بھرپور طریقے سے اپنے غم وغصّے اور ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں اور اپنا یہ عزم دہرا رہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں مسلم کش فیصلوں پر کسی بھی صورت میں عملدرآمد کرنے نہیں دیں گے یہ یقینا ملت اسلامیہ کشمیر کی بیداری کا عکاس ہے۔ ملت اسلامیہ کشمیر کو اس امر پر کامل یقین ہے کہ اگر اس معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی تو پھر وادی کشمیر کے چپے چپے کی بھارتی فوج اور بھارتی باشندوں کے ہاتھوں نیلامی یقینی ہے۔

ملت کشمیر کے شدید ردعمل کو دیکھ کر گرچہ بھارت نواز کشمیری غدار خوبصورت سیاحتی مقام گلمرگ کی اراضی بھارتی باشندوں کے پٹے پر دینے کی تردید کرتے رہے لیکن درپردہ صادر شدہ فیصلے کی ہیئت اور حیثیت اپنی جگہ پر قائم ہے۔ وادی کشمیر میں یہ دوسرا موقع تھا کہ جب بھارت نواز کشمیری غدار اراضی کشمیر بھارتی باشندوں کو لیز پر دینے کا فیصلہ کررہے تھے۔ اس سے قبل اندرا عبداللہ شرمناک ایکارڈ کے بعد شیخ عبداللہ نے جموں وکشمیر پر بھارتی حاکمیت اور بالادستی کو بسروچشم قبول کرتے ہوئے 1978ء میں ’’لینڈ گرانٹس ایکٹ‘‘ وضع کر کے فروختگی کشمیر کے معاملے کو آسان کیا تھا۔ نیشنل کانفرنسیوں کی منظوری کے بعد لینڈ گرانٹس ایکٹ پر عملدرآمد کرتے ہوئے نیشنل کانفرنسیوں نے اراضی کشمیر کو بھارتی باشندوںکو 90برس کے لیے پٹے پر دینے کے شرمناک کی ابتدا کی تھی۔

1988ء میں سرزمین کشمیر کے فرزندان ملت نے جب جموں وکشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف جہاد کا آغاز کیا تو اس تاریخ ساز فیصلے کے پیچھے بھی یہی فکروفلسفہ کارفرماتھا کہ اسلامیان کشمیر کے دینی تشخص کو مسخ ہونے اور ارض کشمیر کو بھارتی باشندوں کی چراگاہ بننے سے بچایا جاسکے۔ جہادی تحریک نے ایسا اثر دکھایا کہ یہ تحریک سرعت کے ساتھ جموں وکشمیر کے طول وعرض میں اس طرح پھیل گئی جس کی مثال نہیں ملتی۔ اسلامیان کشمیر اس تحریک کو اپنے لیے نجات کا واحد ذریعہ سمجھنے لگے اور دل وجان سے اسے وفا نبھاتے رہے اور انہوں نے اپنے لہو سے یہ قندیل عزیمت روشن رکھی۔ بھارت کی جانب سے جموں وکشمیر پر اپنی حاکمیت اور بالادستی قائم رکھنے کے لیے ملت کشمیر پر ظالمانہ شکنجے کسے جانے کے بعد جہادی تحریک کے تئیں کشمیری عوام کے تموج میں نمایاں فرق واقع ہوا اور وہ صرف ایک حد تک ہی جہادی تحریک کا ساتھ نبھانے کے لیے آمادہ نظر آنے لگے۔

2002ء میں جب جموں وکشمیر میں الیکشن ڈرامہ رچایا گیا تو متحدہ جہاد کونسل اور کشمیر کے بزرگ سیاسی رہنما سید علی گیلانی نے یہ کہتے ہوئے اہل کشمیر سے الیکشن بائیکاٹ اور اس ڈرامہ سے مکمل طور پر لاتعلقی اختیار کرنے، بھارت نواز امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے سے اجتناب کرنے کی اپیل کی لیکن ہوا یہ کہ جموں کشمیر کے کئی علاقوں میں اس اپیل کو نظرانداز کرتے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس الیکشن ڈرامہ میں حصہ لیتے ہوئے بھارت نواز امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے اور 2008ء میں جب الیکشن ڈرامہ رچایا گیا تو پولنگ بوتھوں پر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں ووٹ ڈالنے کے لیے موجود تھیں حالانکہ متحدہ جہاد کونسل اور سیدعلی گیلانی کی زیرقیادت حریت کانفرنس نے الیکشن بائیکاٹ کی دردمندانہ اپیل کی تھی لیکن اس اپیل کا خاطرخواہ اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ رواں تحریک کے دوران 1988ء یہ پہلا موقع تھا کہ جب بھارت نواز کشمیری غدار سرعام بھارت نوازی کے گن گاتے نظر آنے لگے اور ان کے عزائم کو مہمیز ملی کہ وہ ماضی کی طرح اپنے آپ کو ووٹ دہندگان کے نمائندے سمجھنے لگے بلکہ انہوں نے ان علاقوں میں جلسے بھی منعقد کیے جہاں سے انہیں الیکشن ڈرامہ کے تحت کامیاب قرار دیا گیا۔

2002ء اور 2008ء میں الیکشن ڈرامہ میں ان کے تئیں ووٹ دینے والوں کے نرم گوشے نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا اور وہ سرعام بھارت کے حق میں نغمہ سراں تھے۔ ووٹ بٹورنے کے بعد بھارت نواز کشمیری غداروں نے بہرنوع بھارتی مفاد کے لیے کام کیا۔ تبھی انہیں بھارتی خوشنودی حاصل رہی اور وہ اپنے ایجنڈے پر سختی سے کاربند ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ فروختگی کشمیر جیسے فیصلے لے رہے ہیں اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ کرسی اقتدار پر قابض جماعتیں کشمیر کی نیلامی کے جو فیصلے صادر کرتی ہیں دیگر بھارت نواز جماعتیں استحصالی سیاست کرتے ہوئے ان کے فیصلوں کی اس طرح کھلم کھلا مخالفت کررہی ہیں جیسے وہ رواں تحریک کے موسس اور اسلامیان کشمیر کے غم خوار اور ہمدرد ہیں۔

اہل کشمیر کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ان کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے کے لیے اور انہیں یہ تاثر دینے کے لیے کہ نیشنل کانفرنس ان کے احتجاج میں بھرپور شریک رہے۔ عمرعبداللہ نے 25نومبر 2006ء کو ٹنگمرگ میں ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی جو گلمرگ کی اراضی کے بھارتی باشندوں کو پٹے پر دینے کے خلاف ہورہا تھا۔ عمرعبداللہ کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے دوسرے عہدیدار بھی ایک سے بڑھ کر ایک گلمرگ لینڈ کو لیز پر دینے کے خلاف آوازیں بلند کرتے رہے حالانکہ بھارت کے یہ وفادار غلام یہ عہد کرچکے ہیں کہ کشمیر پر بھارتی قبضے پرسرموآنچ نہ آنے دی جائے گی۔

کشمیر کی بھارت نواز نیشنل کانفرنس اپنے یوم تاسیس سے ہی کشمیر میں بھارتی مفاد کا تحفظ کرتی رہی اور بھارتی ناجائز قبضے کو دست تعاون دے کر دوام بخشی رہی۔ کرسی اقتدار پر قابض کانگریس اور پی ڈی پی کے ساتھ نیشنل کانفرنس کی اس رسہ کشی کے دوران بھارت نواز یہ ظالم ایک دوسرے پر ایسے الزامات عائد کرتے رہے۔ بادی النظر میں یہ محسوس ہوتا رہا کہ جیسے ان کے سوا کشمیریوں کا کوئی ہمدردی یہاں موجود ہی نہیں۔ نیشنل کانفرنس پی ڈی پی کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اور اس کے سیلف گورننس فارمولے کو اہل کشمیر کے خلاف ایک گہری سازش قرار دیتی رہی ہے۔ وہ اٹانومی کے فلسفے کو ہی کشمیر مسئلے کا حل قرار دیتی رہی جسے بقول اس کے کشمیریوں اور کشمیریت کا تحفظ کیا جاسکتا ہے جبکہ نیشنل کانفرنس کے مطالبہ اناٹومی کو پی ڈی پی سخت مخالفت کرتی رہی۔

بھارت نواز غداروں کا وطیرہ ہے کہ اہل کشمیر کے رجحانات کے ساتھ ایک محدود حد تک وابستہ رہتے ہیں اور جب الیکشن ڈرامہ رچایا جاتا ہے تو اس وقت انہیں یہ کہہ ر ووٹ بٹورنے کا موقع مل سکے کہ وہ اہل کشمیر کی اُمنگوں کے خلاف نہیں۔ بھارت نواز جماعتیں ہمیشہ اہل کشمیر کو دھوکے میں مبتلا کرنے کی کوششیں کررہی ہیں اور ان کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کی کوشش کرتی رہی ہیں حالانکہ یہی وہ شاطر ہیں کہ دور ماضی میں جن کے ہاتھ میں سبز رومال ہوا کرتاتھا اور ان کے دل بھارت کے ساتھ دھڑکتے تھے آج بھی یہ غدار اہل کشمیر کے سینوں پر مونگ دل رہے ہیں۔ عربی شاعر ’’فرزوق‘‘ آج زندہ ہوتا توکہتاکہ ان سیاست بازوں کے دل تو کشمیری قوم کے ساتھ ہیں لیکن ان کی تلواریں بت کدہ ہند کے برہمن کے مفاد کے تحفظ کے لیے بے نیام ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں کہ جنہوں نے تحریک رائے شماری کا خاتمہ کیا اور پھر سبزرومال ہاتھ میں اُٹھانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور آخرکار ان کے مسکنوں اور مدفنوں پرسبزرومال کی جگہ لال کپڑے پر ہل والا جھنڈا ہی لہراتا رہا۔

٭٭٭


ای پیپر