سات 7ستمبر یوم فضائیہ
07 ستمبر 2020 (23:46) 2020-09-07

علی حمزہ

جنگ ستمبر میںپاک فوج کا ا آپریشنل موٹو تھا ’’پاکستانی فوج کا جوان آخری سپاہی، آخری گولی تک لڑے۔ سنگینوں سے لڑے، خالی ہاتھوں سے لڑے، ناخنوں سے لڑے، دشمن کو نیست و نابود کردے، اپنی زمین کا ایک انچ بھی دشمن کے ناپاک قدموں تلے نہ رہے۔‘‘ اس حکم سے افسروں اور جوانوں میں نیا عزم اور ولولہ پیدا ہوگیا۔ ہندوستانی لشکر کا ابتدائی مقابلہ بارڈر پر موجود رینجرز نے صرف رائفلز کے ساتھ کیا۔ یہ رینجرز اس وقت تک فائر کرتے رہے جب تک ان کے پاس گولیاں ختم نہیں ہوگئیں۔ اس کے بعد سنگینوں کے ساتھ دوبدو فائٹ ہوئی اور اس وقت تک ہوتی رہی جب تک ایک ایک رینجر نے جامِ شہادت نوش نہیں کرلیا۔  سحر کی سفیدی پھوٹتے ہی ہماری پاک فضائیہ نے بھی آسمان سے دشمن پر آگ کے گولے برسانے شروع کردئیے۔ ہماری فضائیہ نے اسکواڈرن لیڈر ’’بچہ‘‘ کی قیادت میں زمین سے محض سو ڈیڑھ سو فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے دشمن کی صفوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ اس فضائی یلغار نے دشمن پر ایسی دہشت ڈالی کہ اس کے حوصلے پست ہوگئے اور آدھی سے زیادہ فوج انسانی لاشوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی۔

ستمبر 1965 کی جنگ میں جہاں بری فوج نے دشمن پر سبقت حاصل کی اور دشمن فوج پاکستان کے جری جوانوں کے جذبے کے آگے بے بس نظر آئی، وہیں پاک فضائیہ نے بھی دنیا کی جنگی تاریخ میں کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔پاک فضائیہ کے شاہین ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بھارت کے 5 جنگی طیارے مار گرائے۔لاہور سمیت ملک کے اہم مقامات کا بھرپور دفاع کرنے پر دنیا بھر کے دفاعی ماہرین نے اسے پاک فضائیہ کی بہترین دفاعی حکمت عملی قرار دیا۔جنگ ستمبر کے دوران پاک فضائیہ کی تکنیکی مہارت کے آگے بھارتی پائلٹس کی ایک نہ چل پائی اور پسرور میں ایک بھارتی اسکواڈرن لیڈر کو اپنے طیارے سمیت سرنڈر کرنا پڑا۔جنگ ستمبر میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 100 سے زائد جنگی طیارے مار گرائے اور کامیابی سے مادر وطن کا دفاع کیا۔

بھارت کو اپنے ہوائی بیڑے پر اتنا ناز تھا جتنا بکتر بند ڈویژن پر تھا۔ اس کے پاس طرح طرح کے طیارے تھے۔ سب سے زیادہ بھارت کو گھمنڈ تو روس کے بنے ’’ مگ 21 لڑاکا طیاروں ‘‘ پر تھا۔ جنہوں نے کوریا کی جنگ میں امریکی ہوائی بیڑے کے بھی چھکے چھڑا دیئے تھے۔ بھارت کے مقابلے میں پاک فضائیہ کی حیثیت بظاہر ایک فلائنگ کلب سے زیادہ نہ تھی۔ جس کے پاس فضا میں لڑنے کے لئے پرانی طرز کے سیبر طیارے تھے۔ وہ بھی تعداد کے اعتبار میں بھارت کا ایک چوتھائی۔ جنگ شروع ہوتے ہی ہر شاہباز کو سورہ الانفال کی اس آیت کی ایک ایک نقل دے دی گئی تھی جس میں اللہ نے فرمایا ’’ اگر تم میں سے بیس آدمی ثابت قدم رہیں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ایک سو آدمی ہوں گے تو ایک ہزار کفار پر قابو پائیں گے ، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ‘‘ مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ آیت ہر شاہباز کی جیب میں تھی۔

یکم ستمبر کو چھمب جوڑیاں کی فضا میں بھارت نے اپنے ہوائی بیڑے کا جنگی مظاہرہ کیا اور کھل کر کیا۔ اس نے چار مسٹیر اور دو کینبرا پاک فوج کی پیش قدمی روکنے کے لئے بھیجے۔ ادھر سے صرف دو شاہبار گئے۔ زمین و آسمان حیران تھے کہ یہ دو سیبر طیارے کتنی دیر تک فضا میں نظر آئیں گے لیکن فلک نے دیکھا ، زمین پر لڑتی دونوں فوجوں نے دیکھا کہ چار مسٹیر شاہینوں کے ہاتھوں فضا میں پھٹے اور دونوں کینبر ا ایک بھی گولی چلائے بغیر بھاگ گئے۔

اس معرکے کا اثر پاک فوج پر نہایت خوشگوار پڑا۔ جوانوں کے حوصلے اور بڑھ گئے۔ دو ستمبر کو جب دشمن جوڑیاں بچانے کے لئے جم کر لڑ رہا تھا تب ایم ایم عالم اور دوسرے شاہبازوں نے بھارت کا بہت نقصان کیا۔ تین ستمبر کو دشمن کے چھ نیٹ طیارے چھمب جوڑیا ں کے محاذ پر آئے۔ ہمارے دو سٹار فائٹر 104 پہنچے تو بھارتی دم دبا کر بھاگ گئے مگر ایک کو گھیر کر پسرور میں اتار لیا گیا۔ چھ ستمبر پاک فضائیہ کے لئے کڑی آزمائش کا دن تھا۔ دونوں ملکوں کی کھلی جنگ شروع ہو گئی تھی۔ اب فضائیہ کے سامنے چار کام تھے۔ دشمن کے ہوائی حملوں کو روکنا ، دشمن اڈوں پر ہوئی حملے کرنا ، پاک فوج کو مدد دینا اور فضا میں پروازیں کرنا۔

بظاہر نا ممکن تھا کہ پاک فضائیہ یہ سارے مشن ایک وقت سنبھال سکے مگر شاہبازوں کے پاس ایمان کی قوت اور حب الوطنی کا جذبہ تھا اور اللہ کا وہ فرمان ان کے حوصلے بڑھا رہا تھا جو انہوں نے جیبوں رکھا تھا ورنہ طیاروں کی تعداد تو مایوس کن تھی۔ 

لاہور فوج کو پاک فضائیہ کی شدید ضرورت تھی اور وہ اس قدر جلد پہنچے جیسے پہلے ہی سے فضا میں موجود تھے۔ امرتسر سے ہزاروں سکھوں اور ہندوؤں کاقافلہ سکوٹروں ، سائیکلوں ، کاروں ، بسوں اور پیدل بھی لاہور کو لوٹنے کے لئے چل پڑا تھا۔ شاہینوں نے بھارتی ٹینکوں اور گاڑیوں سے فارغ ہو کر اس عجیب و غریب لٹیرے گروہ پر حملہ کیا اور لاہور کو لوٹنے کے لئے آنے والے نہ لاہور پہنچ سکے نہ واپس امرتسر جا سکے۔

اسی روز شام سے پہلے پٹھان کوٹ پر حملہ کیا گیا جہاں 15 طیارے تباہ کر دیئے گئے ، ایک حملہ ہلواڑہ کے ہوائی اڈے پر بھیجا گیا لیکن انڈین ایئر فورس کے ہنٹر طیاروں کا پورا غول ان پر ٹوٹ پڑا۔ فضا میں تین اور دس کا خون ریز معرکہ ہوا جس میں سکوارڈن لیڈر سرفراز رفیقی اور فلائٹ لیفٹیننٹ خواجہ یونس حسن شہید ہو گئے۔ صرف فلائٹ لیفٹیننٹ سیسل چوہدری واپس آئے لیکن ان شاہبازوں نے دشمن کے چھ ہنٹر مار لئے تھے۔

اسی شام پاک فضائیہ کی ایک پرواز آدم پور بھیجی گئی اور تین بھارتی طیاروں کو تباہ کر آئی۔ پھر جام نگر کے ہوائی اڈے پر بمباری شروع کر دی گئی اور یہ اڈہ ملبے کا ڈھیر بن گیا لیکن سکوارڈن لیڈر شبیر عالم صدیقی اور ان کا نیوی گیٹر سکوارڈن لیڈر اسلم قریشی واپس نہ آ سکے۔ اگلے روز بی 57 بمبار طیاروں نے آدم پور پر حملہ کیا اور خوب تباہی مچائی۔ بمباروں کی ایک اور پرواز پٹھان کوٹ بھیجی گئی تا کہ وہاں کی رہی سہی کسر پوری کر آئیں ، یہی پرواز وہاں سے واپس آئی تو اپنے اڈے سے بم لے کر ہلواڑہ چلی گئی۔

انڈین فورس پہلے ہی دن بائیس بمبار لڑاکا طیاروں سے محروم ہو گئی۔ بھارتیوں نے کراچی اور پنڈی پر ہوائی حملے کیے مگر کسی بھی فوجی یا فضائی ٹھکانے کو نقصان نہ پہنچا سکی۔ سات ستمبر کو انڈین ایئر فورس نے مشرقی پاکستان میں چاٹ گام ، جیسور اور کرمی ٹولہ ڈھاکہ پر راکٹ اور بم گرائے لیکن بے مقصد اور بغیر کسی نقصان کے۔ یاد رہے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فضائیہ کا صرف ایک سکوارڈن تھا ، جونہی بھارتی طیارے واپس گئے۔ شاہین کلائی کنڈہ کے ہوائی اڈے پر جا جھپٹے ، بھارت نے اپنے ان لڑاکا طیاروں کو بڑے قرینے سے کھڑا کر رکھا تھا جو مشرقی پاکستان پر حملہ کر کے لوٹے تھے۔ شاہبازوں نے ان تمام طیاروں کو زمین پر نذرِ آتش کر دیا۔

اسی روز ہمارا ایک فلائنگ آفیسر افضال شہید ہوا اور دشمن چودہ کینبر ا اور دو ہنٹر طیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ سات ستمبر کو دشمن نے پاک فضائیہ کے اڈے سرگودھا کی طرف بھرپور توجہ دی اور بمباری کے لئے اپنے طیاروں کو غول در غول بھیجا۔ ان میں سے چار مسٹر زمینی توپچیوں نے اڑا ڈالے۔ ایک F104 سے گرایا گیا اور پانچ سکوارڈن لیڈر ’’ محمد محمود عالم ‘‘ نے صرف 30 سیکنڈ کے عرصے میں گرا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ اس روز کے بعد انڈین ایئر فورس نے دن کے وقت سرگودھا پر حملہ کرنے کی کبھی جرات نہ کی۔ پاک فضائیہ نے فاضلکا سیکٹر چوینڈہ سیالکوٹ ، جسر اور لاہور سیکٹر میں بھی بری فوج کی مدد کے لئے طیارے بھیجے جنہوں نے کئی ٹینک اور گاڑیوں تباہ کیں۔ مقبوضہ کشمیر کے ہوائی اڈے پر بھی حملے کیے گئے جہاں تین مال بردار طیارے تباہ کیے۔

پہلے دو دنوں میں بھارتیوں کو ساٹھ طیاروں سے محروم کر دیا گیا۔ 8 ستمبر کو جب بھارت نے بکتر بند ڈویڑن سے چوینڈہ سیالکوٹ پر حملہ کیا تو اس روز کم و بیش بیس پروازیں صرف اسی محاذ پر بھیجی گئیں جنہوں نے درختوں کی بلندیوں تک نیچے اڑ اڑ کر بھارتی ٹینک اور گاڑیوں تباہ کیں ورنہ لوہے اور آگ کے اس سیلاب کو روکنا آسان نہ تھا۔

پاک فضائیہ کے شاہینوں نے نہ صرف چونڈہ ، سیالکوٹ اور لاہور کے محاذوں پر انڈین آرمی کے دستوں پر تباہ کن بمباری کی بلکہ دشمن کے ہوائی اڈوں ، جودھپور ، آدم پور ، انبالہ ، پٹھان کوٹ ، ہلواڑہ، جام نگر اور دیگر کو کچھ اس طرح سے نشانہ بنایا کہ سولہ ستمبر تک انڈین ایئر فورس کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ دن کے وقت اس کا کوئی طیارہ نظر نہیں آتا تھا اور اب شاہینوں کو اپنا شکار ڈھونڈنے کے لئے خاصی تگ و دو کرنی پڑتی تھی مثلاً ایم ایم عالم کو دریائے بیاس سے کافی دور جب دو ہنٹر نظر آئے تو انھوں نے بھارتی فضاؤں میں داخل ہو کر انھیں مار گرایا۔ امرتسر کے قریب فلائیٹ لیفٹیننٹ یوسف علی خان نے ایک نیٹ مار گرایا۔

انیس ستمبر کو چونڈہ میں جو نیٹ گرایا گیا ، اس کے پائلٹ مہا دیو کو گرفتار کر لیا گیا۔ اکیس ستمبر کو ایک اور انڈین ہوا باز ’’ موہن لال ‘‘ کے جہاز کو گرا کر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ جنگ کے آخری روز کھیم کرن کی فضا میں بھارتی طیارہ تباہ کیا گیا جس کا پائلٹ ہندوستان کے پہلا کمانڈر انچیف جنرل کری اپا کا بیٹا تھا۔ اس کا پائلٹ جونیئر کری اپا قیدی بنا لیا گیا۔ بائیس اور تیئس ستمبر کی درمیانی شب صبح تین بجے جنگ بندی ہو گئی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان کا کہنا تھا کہ ’’ بھارت سے جنگ لڑنے کے بعد پاک ایئر فورس پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے ‘‘۔ انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’ جنگ کے دوران میرے سامنے مسئلہ یہ نہیں تھا کہ پاک ہوا بازوں کو کیسے حملے کے لئے بھیجوں بلکہ دشواری یہ پیش آ گئی تھی کہ انھیں آگے بڑھ بڑھ کر حملے کرنے سے کیسے روکوں ‘‘۔

بہرحال فضائی جنگ کا سکور یہ رہا کہ دشمن کے ایک سو دس طیارے مار گرائے گئے جن میں سے پینتیس کو فضائی معرکوں میں گرایا گیا ، پنتالیس کو زمین پر تباہ کیا گیا اور بتیس زمینی توپچیوں کا نشانہ بنے۔ یاد رہے کہ ان اعداد و شمار میں بھارت کے وہ پچیس طیارے شامل نہیں جو ایک امریکی نامہ نگار کے مطابق انبالہ کے ہوائی اڈے پر تباہ کیے گئے۔ اس طرح بھارت کے تباہ شدہ جہازوں کی تعداد ایک سو پینتیس بنتی ہے۔ شاہینوں نے ایک سو پچاس ٹینک ، چھ سو فوجی گاڑیاں اور گولہ بارود سے بھری چار بھارتی ٹرینیں اور سو کے قریب توپیں تباہ کیں۔ در اصل حقیقی اعداد و شمار تو اس سے کہیں زیادہ ہیں لیکن پاک فضائیہ نے دشمن کی صرف اس تباہی کو اپنے ریکارڈ میں لکھا ہے جس کی دستاویزی گواہی حاصل ہوئی ہے۔ دیگر ذرائع تو دشمن کا نقصان اس سے دگنا بتاتے ہیں۔

سات بھارتی ہوا بازوں کا جنگی قیدی بنایا گیا اور ایک جہاز کو صحیح سلامت اتار کر قبضے میں لیا گیا جسے سکوارڈن لیڈر برج پال سنگھ اڑا رہا تھا۔ پاک فضائیہ کے چودہ طیارے ضائع ہوئے۔ ان میں سے نو فضائی معرکوں ، چار زمینی فائر اور ایک دشمن کی بارود سے بھری ریل گاڑی پر حملہ کرتے ہوئے اس ریل گاڑی کے بارود پھٹنے سے تباہ ہو گیا۔

٭٭٭


ای پیپر