چھ 6ستمبر ۔۔۔پاکستان کا جوابی حملہ
07 ستمبر 2020 (23:44) 2020-09-07

منصور مہدی

 1965 کی جنگ پاکستانی تاریخ میں ایک طلسماتی داستان سے زیادہ کا درجہ رکھتی ہے جب ایک قوم نے اچانک ہونے والے حملے کو اپنے عزم و ہمت سے ناکام بناکر اسے عبرتناک شکست دی۔ سپاہیوں نے شجاعت و جرات کی نئی داستانیں رقم کیں تو شاعروں نے لہوگرمادینے والا کلام لکھا، عام افراد کا حوصلہ ساتویں آسمان پر اس وقت دیکھا گیا جب 80 سال کا ایک عام بوڑھا گھر سے خندق کھودنے نکلا۔ مائیں اور بہنیں مصلے پر بیٹھ کر دعا گو رہیں اور پوری قوم یک جان و یک قالب ہوگئی۔ اور اس عظیم جذبے کا اظہار کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ آج کی نوجوان نسل بھی ایسے ہی چند اہم واقعات سے اپنے دلوں کو گرما سکتی ہے جو نہ صرف دفاعِ پاکستان بلکہ استحکامِ پاکستان کا وسیلہ بھی بنیں گے۔

ہاکی کا میچ اور طبل جنگ

کرنل (ر) سردار عبدالرئوف مگسی کا کہنا ہے کہ ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم اس وقت ہاکی کا فائنل میچ کھیل رہے تھے کہ اس اثنا میں جنگی بگل بج اٹھا۔ ہم سب حیران ہوئے کہ اس وقت بگل اچانک کیوں بجا ہے؟ کیونکہ یہ حالت امن کی نشاندہی نہیں کررہی تھی، ہم فوراً بھاگے، جس کے ہاتھ جو اسلحہ لگا اس نے آٹھایا، وردی پہننے کا ہوش نہ رہا۔ کسی نے مشین گن اٹھائی، تو کوئی ہینڈ گرنیڈ بکس اٹھا رہا تھا۔ جنگ کا بلاوا جس انداز میں آیا تھا وہ یہی بتاتا ہے کہ دشمن نے شب خون مارا ہے، اسی لیے افراتفری برپا ہوئی۔ ہم جس وقت محاذ پر پہنچے ہیں وہاں ہماری مدد کو اور کوئی نہیں تھا، ہماری باقاعدہ بریگیڈ اس کے دو تین دن بعد پہنچی تھی۔ ہماری کمپنی کے ذمے بی آر بی، جلو اور سائفن کے آگے پیچھے کے کچھ علاقے تھے۔ جب کہ دوسرا گروپ کرنل شفقت بلوچ کی زیر قیادت آگے ’ہڈیارہ‘ میں تھا، اور ان سب کے پیچھے میجر عزیز بھٹی تھے۔

6 اور 7ستمبر کے دن تک ہم نے دشمن کا خوب جم کر مقابلہ کیا اور دشمن کو اپنی جان کے لالے پڑگئے تھے۔ اس حالت میں جنگ کے تیسرے دن یعنی 8 ستمبر کو دشمن کے قدم اکھڑنے شروع ہوگئے۔ اپنی یقینی پسپائی کو دیکھتے ہوئے جنرل چودھری نے اپنا ’’پیرا ٹروپر‘‘ بریگیڈ نمبر 50 بھی محاذِ جنگ میں اتارنے کا فیصلہ کیا اور بڑی تعداد میں پیراشوٹ کی مدد سے اپنے کمانڈوز کو میدانِ جنگ میں اتار لیا گیا۔ یہ اضافی نفری آجانے سے دشمن کی نفری 35 ہزار ہوچکی تھی جب کہ پاک فوج کے صرف 5 ہزار جوان تھے۔

1965 کا پہلا فائر اور پہلا شہید

مصنف ایم آر شاہد نے اپنی کتاب ’’شہیدانِ وطن‘‘ میں بہت تحقیق کے بعد پاکستانی شہداء کا احوال پیش کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 6 ستمبر کی صبح ٹھیک 3 بج کر 45 منٹ پر ہندوستان کی جانب سے واہگہ پر ایک گولہ آکر گرا جسے بھارت کی جانب سے پہلا فائر قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر ایس جے سی پی پوسٹ پر موجود پلاٹون کمانڈر محمد شیراز چوکنا ہوگئے اور پوسٹ پر بھارت کی جانب سے مزید فائرنگ شروع ہوگئی۔ محمد شیراز نے جوابی فائرنگ کی اور یوں دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو ستمبر کی تاریخی جنگ کی ابتدا تھی۔ لڑائی اتنی شدید ہوگئی کہ بھارتی فوجیوں نے قریب آکر دستی بم بھی پھینکنے شروع کردیے۔ اسی اثناء میں محمد شیراز دشمن کی گولیوں سے شہید ہوکر جنگِ ستمبر کے پہلے شہید کا اعزاز حاصل کرگئے۔

پاکستان کی پہلی دفاعی لائن

ہندوستانی زمینی حملے کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ لاہور اور سیالکوٹ کے بارڈر پر ہندوستان نے اپنی افواج کو مجتمع کرنے کے بعد بھرپور حملہ کرنے کا فیصلہ کیا، اور یہ ٹاسک ہندوستانی میجر جنرل نرنجن پرشاد کو سونپا گیا، جو رات کی تاریکی میں اپنے 25 ڈویڑن کے ساتھ اپنے ٹینکوں کی فارمیشن میں آگے بڑھتا چلا آیا، اور آرٹلری و بھاری توپ خانے زمینی فوج کو مدد دینے کے لیے ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔5 میل طویل اس سرحد پر پاکستان کی پہلی دفاعی لائن صرف سات بٹالینز پر مشتمل تھی۔ پاکستان کی انتہائی کم نفری پاکستانی فوج کے لیے انتہائی مشکل چیلنج تھا کہ وہ ہندوستانی یلغار کو لاہور شہر کی جانب بڑھنے سے کیسے روکے؟ ہندوستان کے لیے ضروری تھا کہ لاہور میں داخل ہونے کے لیے باٹا پور جانے والے واحد پل پر کسی طرح اپنا قبضہ جمایا جائے، تاکہ اپنی آرٹلری اور ٹینکوں کو لاہور شہر میں داخل کروایا جاسکے۔ یہ علاقہ جس فوجی نام سے جانا جاتا تھا اسے برکی سیکٹر کہا جاتا ہے جو میجر راجا عزیز بھٹی شہید کی کمانڈ میں تھا۔

اس محاذ پر موجود ایک غازی کرنل (ر) سردار عبدالرئوف مگسی جو میجر عزیز بھٹی کے ساتھ موجود تھے، بتاتے ہیں کہ جب دشمن’بی آر بی‘ نہر ایک طرح سے عبور کرچکا تھا، تب اللہ نے ان کی راہنمائی کرتے ہوئے کس طرح دشمن کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملایا۔کرنل (ر) سردار عبدالرئوف مگسی کے مطابق ’’میجر شفقت بلوچ اور میجر عزیز بھٹی اپنے جوانوں کے ساتھ دشمن کو پیچھے دھکیل رہے تھے کہ 7 اور 8 ستمبر کی رات ہماری کمپنی کو حکم ملا کہ دشمن سے بھسین کا علاقہ خالی کرائو۔ ہم نے اس علاقے کی پہلے سے ریکی نہیں کی تھی، یہ کام دوسری کمپنی کی زیر نگرانی تھا۔ اس کمپنی کا ایک جوان ہمارے ساتھ ہوا اور ہم اس کی رہنمائی میں آگے بڑھنے لگے۔ جوان راستہ بھول گیا تھا، اور ہم آس کی غلطی سے آس جانب نکل گئے کہ جہاں ہمیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔ یہ علاقہ ہمارے منصوبے میں شامل نہیں تھا۔ جب ہم وہاں سے چکر کاٹ کر آگے بڑھے، تو احساس ہوا کہ ہم دشمن کے دائیں جانب عقب میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ دشمن کی 15ڈویژن کی دو بٹالین فوج تھی جو ’بی آر بی‘ نہر پر قابض ہوکر آگے کی جانب بڑھ رہی تھی۔ ہمارے پاس صرف 119افراد کی کمپنی تھی۔ ہم نے اللہ کا نام لیا اورعقب سے حملہ کردیا۔ دشمن بوکھلا گیا۔ ہم نے 351 دشمن مارے اور 187گرفتار کرلیے۔ اس دوران 15ڈویژن کے کمانڈر جنرل نرنجن پرشاد کی جیپ اور ڈائری بھی ہمارے قبضے میں آگئی۔

پاکستان کا جوابی حملہ

 7 ستمبر کی صبح جنرل سرفراز نے بریگیڈیئر قیوم شیر کی کمان میں اسٹرائیک فورس (ریزرو فوج)کے جوانوں کو دشمن پر بھرپور جوابی حملے کا حکم دے دیا۔یہ بڑا دلیرانہ فیصلہ تھا۔ ہماری محفوظ فوج کی تعداد انتہائی خطرناک حد تک کم تھی۔ حکم ملتے ہی 8 ستمبر کی صبح بریگیڈیئر قیوم شیر اپنے سپاہیوں کے ہمراہ نہر پار کرکے دوسری جانب اتر گئے۔ جوانوں نے ہنگامی پل بناکر کچھ ٹینک نہر کے پار پہنچا دیئے تھے۔ بریگیڈیئر قیوم شیر نے بھسین کی طرف سے’واہگہ‘ اور بریگیڈیئر آفتاب نے شمال کی جانب سے ’طوطی‘، ’رانی‘ اور ’شمشیر‘ پر بھرپور حملہ کیا۔ یہ اتنا تیز اور زوردار حملہ تھا کہ جنرل نرنجن پرشاد اپنے ہیڈ کوارٹر کی چار جیپیں جن میں اس کی ذاتی جیپ بھی شامل تھی، مع جنگی دستاویزات بھیسن کے قریب چھوڑ کر بھاگ گیا اور ہماری محفوظ فوج نے بی آر بی کے پار مورچے قائم کرلیے۔ڈوگرائی پر ہمارا قبضہ ہوچکا تھا، ہماری فوج نے ڈیڑھ میل آگے پہنچ کر اپنا مورچہ بنا لیا۔ فائربندی کا حکم آنے تک دشمن نے اس مورچے کو چھڑوانے کے لیے چھبیس حملے کیے اور اپنی کئی پلٹنیں اور ٹینک اس مورچے کو حاصل کرنے میں تباہ کروا لیے، لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔

نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والے واحد شہید، میجر عزیز بھٹی

میجر عزیز بھٹی اپنے جانثاروں کے ساتھ بی آر بی نہر کے پاس ڈٹے تھے، جس پر بھارتی افواج قبضہ کرنا چاہتی تھی۔ 7 ستمبر کو بھارت نے پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کیا اور میجر عزیز بھٹی اور میجر شفقت بلوچ نے صرف 110 سپاہیوں کی مدد سے بھارت کی پوری بریگیڈ کو 10 گھنٹوں تک روک کر رکھا اور دن رات مورچے پر ڈٹے رہے۔ یہ اعصاب شکن معرکہ جب 12 ستمبر کو پانچویں روز میں داخل ہوا تو اس وقت تک میجر عزیز بھٹی بھارت کے چھ حملے روک چکے تھے۔ آگے جانے والے پاکستانی سپاہی اور ٹینک ایک مقام پر پھنس گئے تھے جنہیں واپس لانا ضروری تھا۔ اس پر انہوں نے اپنی فوج کو منظم کرکے کئی اطراف سے حملہ کیا اور پاکستانی فوجی گاڑیوں اور سپاہیوں کو واپس لانے میں کامیاب ہوگئے لیکن اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ کے دوران ایک شیل نے ان کے کندھے کو شدید زخمی کردیا اور وہ صرف 42 سال کی عمر میں جامِ شہادت نوش کرگئے۔

سینے پر گولی کھانے کا عزم

1965 کی ولولہ انگیز جنگ میں زخمی فوجیوں کے علاج پر معمور بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) نصرت جہاں سلیم نے آئی ایس پی آر کے شمارے میں لکھا ہے کہ جنگ کے دوسرے روز ایک لمبا تڑنگا فوجی اسٹریچر پر لایا گیا جو اپنی نحیف آواز میں بڑبڑا رہا تھا کہ اس نے ماں سے سینے پر گولی کھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن خود ڈاکٹر یہ جاننے سے قاصر تھے کہ اسے گولی کہاں لگی ہے۔ اس کی سانس اکھڑ رہی تھی اور بلڈ پریشر گرتا جارہا تھا۔ جب ٹانگ کا زخم کھولا گیا تو وہاں سے گولی کا ایک سوراخ جلد کو چیرتا ہوا پیٹ کی جانب جاتا معلوم ہوا۔ پھر یکایک معلوم ہوا کہ گولی اس کی خواہش کے مطابق عین اس کے سینے پر لگی ہے۔ اس تصدیق کے بعد اس فوجی نے آخری سانس لیا اور شہید ہوگیا۔

ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ

اگرچہ جنگِ عظیم دوم میں کئی ممالک کے لاتعداد ٹینک استعمال ہوئے تھے لیکن 1965 کی جنگ میں بہت کم دنوں میں لگ بھگ 600 ٹینکوں نے حصہ لیا تھا۔ جس میں بھارت کے سنچورین ٹینک بھی شامل تھے۔ عددی برتری کے لحاظ سے بھارت کے پاس بہت اسلحہ تھا اور ان ٹینکوں کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کے عظیم سپاہیوں نے مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے اپنے سینوں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر انہیں تباہ کرکے ناکارہ بنادیا۔ بھارت میں چاونڈا کا مقام اب بھی ٹینکوں کے قبرستان کے نام سے مشہور ہے کیونکہ پاکستانی سپاہی نے بھارتی صفوں میں گھس کر ان کی سفلی تدابیر کو ناکام بنایا تھا۔ دوسری جانب میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے اسی طرح کے معرکے میں شجاعت اور عظمت کی نئی داستان رقم کی تھی۔

جنگی قیدی کا علاج

ایک پاکستانی میجر کو محاذ پر ایک بھارتی فوجی ملا جو شدید زخمی تھا اور اسے اپنے سپاہی بھی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ وہ کئی روز سے ایک پل کے نیچے زخمی پڑا تھا کہ اسے ایک پاکستانی میجر نے اٹھایا، پانی پلایا اور وعدہ کیا کہ ابھی تو وہ ایک بڑے مشن پر جارہا ہے لیکن واپس آکر ضرور علاج کی غرض سے اسے کمبائنڈ ملٹری اسپتال ( سی ایم ایچ) لے جائے گا اور یہ وعدہ پورا ہوا۔ یہ زخمی بھارتی سپاہی لاہور لایا گیا اور کئی ماہ کے علاج کے بعد صحتیاب ہوا کیونکہ زخم علاج نہ ہونے کی وجہ سے ایک ناسور بن چکا تھا۔

٭٭٭

۔۔۔۔۔۔ باکس ۔۔۔۔۔

جنرل ایوب خان کا قوم سے تاریخی خطاب

میرے عزیز ہم وطنو! السلام علیکم۔۔۔

دس کروڑ پاکستانیو کے امتحان کا وقت آپہنچا ہے۔ آج صبح سویرے ہندوستانی فوج نے پاکستان کے علاقے پر لاہور کی جانب سے حملہ کیااور بھارتی ہوائی بیڑے نے وزیرآباد سٹیشن پر ٹھہری ہوئی ایک مسافر گاڑی کو اپنی بزدلانہ حملے کا نشانہ بنایا۔ بھارتی حکمران شروع ہی سے پاکستان کے وجود سے نفرت کرتے رہے ہیں اور مسلمانوں کی علیحدہ آزاد مملکت کو انہوں نے کبھی دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ پچھلے اٹھارہ برس سے وہ پاکستان کے خلاف جنگی تیاریاں کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کی دس کروڑ عوام جن کے دل کی دھڑکن میں ’’لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ‘‘کی صدا گونج رہی ہے اْس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لئے خاموش نہ ہوجائیں۔

 ہندوستانی حکمران شاید ابھی نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ ہمارے دلوں میں ایمان اوریقین ِمحکم ہے اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہم سچائی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ملک میں آج ہنگامی صورتحال کا اعلان کردیا گیا ہے ، جنگ شروع ہوچکی ہے دشمن کو فنا کرنے کے لئے ہمارے بہادر فوجیوں کی پیش قدمی جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی مسلح فوجوں کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع عطا کیا ہے۔

میرے ہم وطنو! آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔۔۔ پاکستان پائندہ باد

٭٭٭


ای پیپر