یہ شاہراہ عام نہیں....!
07 ستمبر 2020 2020-09-07

کاروانِ سیاست اب کشادہ، استوار اور سیدھی شاہراہوں سے اُتر کر تنگ و تاریک اور پُرپیچ راستوں پر آ گیا ہے۔ جہاں حملہ آوروں اور شکار ہونے والوں کی گردنوں میں تمیز کرنا مشکل ہوگیا ہے کب پیادے رستہ بدل لیتے ہیں اور کب کس کی قربانی کا وقت آ جاتا ہے یہ تو نیا کھیل نہیں مگر دھند اتنی بڑھ گئی ہے کہ منظر سے اصل چہرے کشید کرنا اب صرف ماہر صحافیوں کا کام ہی ہے۔ مہروں نے اپنی چال ڈھائی گھوڑا رکھتے ہوئے اس قدر تیز کر لی ہے کہ فاتحین بھی منہ کے بل گر رہے ہیں اورمفتوحین کا تو پہلے ہی کوئی حال نہیں۔

ایک نظریہ (تھیوری) ہے کہ کرپٹ ملک کو کرپٹ حکمران ہی چلا سکتے ہیں۔ ایک نظریہ جو بچپن سے سنتے آئے وہ فرانس چین کے انقلاب سے متعلق مفروضہ ہے کہ انقلاب خون بہائے بغیر ”تبدیلی“ نہیں آتی۔ طے شدہ نظریات کے باوجود جب ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے تو یاد آتا ہے کہ ”تبدیلی“ کی خواہش کے ساتھ ”تبدیلی“ کی Definition کتنی ضروری ہوتی ہے فریگریننس (Fragrance) اور سمل (Smell) کا فرق واضح کرنا کتنا ضروری ہوتا ہے زمانے کی تراش خراش پر ہم اس قدر توجہ نہیں دیتے جتنی لباس کی تراش کو اہم سمجھتے ہیں۔ رنگ انداز موسم اور فیشن لباس کے ہر ہر پہلو پر غور کے بعد بھی بزاز سے درزی تک بیسیوں مشورے ہوتے ہیں مگر چلتے ہوئے کرپٹ معاشرے کو تبدیل کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل نہیں وضع کیا جاتا بلکہ کنٹینر، نعرے اور گزشتہ حکومت کی کارگزاریوں کی روئیداد کو ملکی میڈیا کے قیمتی وقت میں جھونک دیا جاتا ہے وہ وقت جو انتہائی مفاد عامہ میں خرچ ہو سکتا ہے سیاسی چغلیوں اور بدنامیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔

کاروان سیاست کے پرپیچ راستوں پر داخل ہوتے ہی اس کی ”چولیں“ ہلنا شروع ہو گئی ہیں اس کا چوکھٹا متاثر ہو گیا ہے اس کے چاروں پہیے گھرر گھرر کرنا شروع کر گئے ہیں یہ خام خیالی بھی ختم ہوئی کہ ایک پہیہ دوسرے پہیے کو نقصان پہنچائے گا تو باقیوں پر اثرات نہیں آئیں گے۔

انسانی احتیاجات میں بڑی اور اہم ضرورت شہرت بمعنی دیگر بدنامی/ رسوائی کی ہے۔ کھاتا پیتا سکھ چین کی بنسی بجاتا انسان گھر کی دیواروں میں دبے راز اور صحن کی درزوں میں چھپی دھجیاں اُڑانے لگتا ہے بنیادوں کو آگ لگا کر خبر بننا چاہتا ہے وہ گھر کا سربراہ ہو تو گھر اُڑا دیتا ہے شہر کا ہو تو شہر کو کراچی بنا دیتا ہے صوبے کا ہو تو آپ کے سامنے ہے ملک کا ہو تو ہر بلا حملہ آور ہو جاتی ہے۔

جیسے حقیقی موسیقی نغمے کے پیچھے ہوتی ہے یعنی راگ نغمے کے پیچھے ہوتا ہے غنائیت دھن میں ہوتی ہے تو آواز کا سُر اُسے آفاقی بنا دیتا ہے سوچ اور فکر جب تک شامل نہ ہو تخیل کی پرواز ”صادقین“ کی انگلیوں میں نہیں منتقل ہوتی۔ اقبال پوری ملت کا دکھ سہتا ہے تو جگر میں اتنی وسعت پیدا ہوتی ہے کہ ”قرطبہ“ کے مو¿ذن کا درد سہہ سکے نشاةِ ثانیہ سلطنت عثمانیہ روم کے کلیساﺅں سے بھارت کے مندروں تک انسان پر کیا گزری مذہب معاشرت اور سیاست نے عام انسان کے لئے کیا تجویز کیا کسی کو محل تو کسی کو محمل کا توازن چارپائی کے پایوں سے حکومتی ستونوں تک کیسے پہنچا۔ یہ انسانی سہارے اور ضرورتیں استعمال کی چیزیں کب بن گئیں کیا ان کی ”نیہوں“ میں انسانی گروہ بندی فرقہ واریت اور قتل و غارت کی جگہ تھی۔ کس نے انہیں استعمال کیا شاعر تو اپنے خیال کی کٹیا میں اوزان بحور، فکر اور الفاظ کی جنگ لڑتا ہے اپنے تفکر کے خیمے تلے بوریا نشیں ہوتا ہے۔ حافظ شیراز نے جب یہ شعر کہا

اگر آں ترکِ شیرازی بدست آرد دلِ مآرا

نجالِ ہندوش بچشم ثمر قند و بخارا را

(اگر وہ ترک محبوب میرے دل کی ہتھیلی پر اپنا دل رکھ دے تو محبوب کے سیاہ تل بدلے میں میں ثمرقند اور بخارا بخش دوں)

فاتح ثمرقند و بخارا حافظ شیرازی کی کٹیا کے دروازے پر موجود تھا کہ اس قدر مشکل اور جانفشانی سے یہ فتوحات حاصل ہوئیں اور شاعر اسے سیاہ تِل کے بدلے میں بخش رہا ہے۔ حافظ شیرازی نے کہا کہ اسی لئے تو تُو تخت نشیں اور میں بوریا نشیں ہوں تجھے سوچناپڑتا ہے اور میں سب لٹانے کی صلاحیت رکھتا ہوں یہی حال مصور، رقاص، شاعر، ادیب اور مفکر کا ہے پھر باقی بچا خواہش اقتداءکا مارا ہوا سیاست دان جس کا آغاز نہایت دلسوز اور خدمت گزار خمیر سے ہوا تھا اور جو معاشرہ سنوارنے چلا تھا وہ کیسے لالچ کی دلدل میں اتر گیا جو اپنی پاک دامنی کی دلیل دوسرے پر کیچڑ اچھال کر دیتا ہے جس کے آئین سیاست میں کرپشن صرف دوسرے کی ہوتی ہے اور اسے جائز کرنے کے لئے دوسروں کے آباﺅ اجداد کی تازہ بخیہ گری ضروری ہے۔

مذہب، تعلیم اور سیاست ہمیشہ مسجد اور کلیساءسے منطبق رہے آج مشرق کے مدرسوں پر تنقید کرنے والے اس بات کا جواب دیتے کتراتے ہیں کہ ایچی سن، کانونٹ، کیتھڈرل انگریزوں کے مدرسے نہیں بدنامی کی داستانیں محض مدرسوں سے کیوں منسلک کی جاتی ہیں مکتب، مسجد اور قانون کب الگ تھے کب حکمران نے منبر پر خطبہ دیا تھا اور کب خطبہ آئین انسانیت سے الگ تھا؟۔

خودساختہ ترقیوں اور اخلاقی بلندی کی فتح یابیوں کا بت تو ”کرونا“ نے بھی توڑ دیا۔

جب پورے امریکہ اور یورپ میں خوراک پر دھاوے بول دیئے گئے اور سٹورز میں ڈبل روٹی تک نہ بچی جہاں کے فطین وذہین ڈاکٹر اور سائنسی ترقی ہمارے ہاں کے جاں لٹانے والے ڈاکٹروں کا مقابلہ نہ کر سکی ایک ہمارے ڈاکٹر جاوید اکرم پورے یورپ پر بھاری رہے طاہر شمسی کا کمال اپنا ہے اور ڈاکٹر فیصل کو تو دنیا مانتی ہے۔ پاکستانی ڈاکٹروں کو باتیں کرنے والے اُن کا ایثار اور ذہانت دیکھ کر دنگ رہ گئے پھر یہاں کمی کیا ہے تمام شعبہ ہائے زندگی پوری ذہانت سے پوری دنیا کے روبرو کھڑے ہیں۔ دبنگ پالیسی ساز ابھی پیدا نہیں ہوا سب مجبوریوں کے مارے ہوئے وزیراعظم پرانے جہیز کا رونا روتے روتے وقت پورا کر جاتے ہیں کسی کو بھی ورثے میں اچھے حالات نہیں ملے یہی کہانی سنتے سنتے کان پک گئے مگر حکمران یہ مخصوص فقرے دہراتے دہراتے نہیں تھکے۔ کیا کریں قرضے ورثے میں ملے خراب سسٹم وراثت میں ملا اور عوام انگشت بدنداں سوچتے ہیں کیا آپ کو یہ سب پتہ نہیں تھا

ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دے

گنہگار نظر کو حجاب آتا ہے

اس دلدل میں اترنا ہے تو پورے جذب سے اترو اب بہانے نہیں چلیں گے اب دہرائے ہوئے بیانیے کی گنجائش نہیں۔ ڈرو آنے والے انتخاب سے خوف کھاﺅ اس دھوکا کھائے ہوئے انسان سے جس نے تمہیں منتخب کیا اور جس کے پاس دوبارہ تمہیں جانا ہے جس کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے تمہارے ہاتھ لرزنے ہیں۔


ای پیپر