عالمی کرکٹرز کا عبدالقادر کو زبردست خراج تحسین
07 ستمبر 2019 (14:31) 2019-09-07

لاہور:پاکستان کے سابق لیگ اسپنر اور کرکٹ لیجنڈ عبدالقادر کے انتقال پر عظیم کرکٹرز سمیت پوری دنیائے کرکٹ افسردہ ہے اور کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کر رہی ہے، جبکہ ان کے انتقال کو کرکٹ کی تاریخ کا ایک عہد باب بند ہونے کے مترادف قرار دے رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستانی، بھارتی، آسٹریلوی سمیت دیگر کھلاڑی بھی عظیم لیگ اسپنر کے انتقال پر اظہار افسوس کر رہے ہیں۔ عبدالقادر کے انتقال کی خبر ملنے کے بعد آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ میں کمنٹری کرتے ہوئے آسٹریلیا کے ریکارڈ ساز لیگ اسپنر شین وارن کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت درد ناک خبر ہے، میری ان سے ملاقات 1994میں دورہ پاکستان پر ہوئی تھی اور آج اسپنرز مجھے دیکھ کر بالنگ کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ہمیں عبدالقادر کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے عبدالقادر کو خطرناک لیگ اسپنر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے بالر تھے جنہوں نے کئی بلے بازوں کو چکما دیا۔

بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر نے اپنے غم کا اظہار ٹوئٹر پر کیا اور کہا کہ عبدالقادر کے خلاف میچ کھیلنا مجھے یاد ہے، وہ اپنے عہد کے بہترین اسپنرز میں سے ایک تھے، میری تمام ہمدردیاں ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ عبدالقادر کے ساتھی کھلاڑی اور سابق کپتان وسیم اکرم نے لیگ اسپنر کے انتقال کو پاکستانی کرکٹ کے لیے کبھی نہ پر ہونے والا خلا قرار دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ لوگ انہیں بہت سی وجوہات کی بنا پر ایک جادوگر کہتے تھے، لیکن جب انہوں نے میری آنکھوں میں دیکھا تو کہا کہ میں پاکستان کے لیے آئندہ 20 سال کے لیے کرکٹ کھیلوں گا، مجھے ان پر یقین تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپ ہمیشہ عبدالقادر کو یاد کریں گے، آپ انہیں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ عبدالقادر کے انتقال کی خبر ان کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے۔انہوں نے سابق لیگ اسپنر کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی جبکہ ان کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت بھی کیا۔سابق بھارتی کرکٹ بشن بیدی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ عبدالقادر ہم میں نہیں رہے لیکن کرکٹ کے لیے ان کی خدمات طویل عرصے تک یاد رکھی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اللہ ان پر رحم فرمائے۔دوسری جانب پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ انڈر-19 کے میچ سے قبل ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں نے بازوں پر سیاہ پٹیاں بھی باندھیں۔


ای پیپر