ہم سب کالی بھیڑیں ہیں!
07 ستمبر 2019 2019-09-07

(گزشتہ سے پیوستہ )

پولیس کے رویے پر بات کرنے سے پہلے میں ذرا اپنے گریبان میں جھانک لوں۔ میں بارہا عرض کرتا ہوں ہم سب دوسروں کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں ، خود نہیں ہونا چاہتے اور دوسروں کو بھی ہم صرف اپنے لئے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں وہ صرف ہمارے ساتھ ٹھیک ہو جائیں، باقیوں کے ساتھ ان کا رویہ چاہے کتنا ہی نامناسب کیوں نہ ہو، ہمیں اس کی پروا ہی نہیں ہوتی۔ اب مختلف اقسام کی غلاظتوں سے بھرا ہوا پورا معاشرہ لٹھ لے کر پولیس کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ پولیس خود کو بعض اوقات اس رویّے کی مستحق بھی بنا لیتی ہے۔ خصوصاً مظلوموں اور ایسے کمزور لوگوں کے ساتھ پولیس کا جو رویّہ ہے جن کی کوئی سفارش نہیں ہوتی، یا پولیس کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ پولیس تفتیش کا جو گھٹیا نظام یا طریقہ کار ہے جس کے نتیجے میں بعض اوقات دوران تفتیش ملزموں کی ہلاکت تک ہو جاتی ہیں ۔ ان سب خرابیوں کی وجہ سے پولیس کے ساتھ لوگوں کی نفرت میں اضافہ ہوتا چلے جا رہا ہے۔ دوسری طرف پولیس کو خود جن محکمانہ مسائل کا سامنا ہے۔ جس ماحول میں وہ فرائض انجام دیتی ہے وہ بھی ایک المیہ ہے۔ پولیس ملازمین کی ڈیوٹی کے جو اوقات ہیں ۔ خصوصاً اعلیٰ افسران کا ان کے ساتھ جو عمومی رویہ ہے اس کے نتیجے میں ان کی فرسٹریشن کا نشانہ عوام ہی بنتے ہیں ۔ سو جہاں ہم یہ توقع کرتے ہیں پولیس عوام کے ساتھ اپنا رویہ درست کرے وہاں ہمیں اس پر بھی زور دینا چاہئے کہ پولیس جن محکمانہ زیادتیوں کا شکار ہے کچھ نہ کچھ ازالہ ان کا بھی ہونا چاہئے۔ موجودہ آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کی اس ضمن میں کوششیں قابل قدر ہیں ۔ ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ طارق مسعود یٰسین پولیس ٹریننگ کے نصاب میں انقلابی تبدیلیاں لے کر آئے ہیں ۔ ہم امید کرتے ہیں اس ٹریننگ کے بعد مستقبل میں پولیس کا عوام کے ساتھ عمومی رویہ شاید تبدیل ہو جائے۔ جس کے نتیجے میں ایسے واقعات یا سانحات شاید کم ہو جائیں جو عالمی سطح پر پولیس کی بدنامی کا باعث بن جاتے ہیں ۔ جیسا کہ حال ہی میں ایک مبینہ ملنگ صلاح الدین کی پولیس تشدد سے ہلاکت کا واقعہ بنا۔ یا لاہور کے تھانہ شمالی چھاﺅنی میں ایک نوجوان کی ہلاکت کا بنا۔ ان دونوں واقعات کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا گیا۔ کچھ پولیس والوں کو معطل کر دیا گیا، کچھ کو تبدیل کر دیا گیا اور کچھ کے خلاف مقدمے درج کر کے انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا۔ اس کے باوجود لوگوں کا غم و غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ معاشرے کے زندہ ہونے کی ایک علامت ہے کہ وہ ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ مگر معاشرے کی ”زندگی“ بڑی مختصر ہوتی ہے۔ چند دنوں بعد لوگ ظلم و زیادتی کے اس واقع پر کھپ شپ ڈال کر یا سوشل میڈیا پر چند پوسٹیں وغیرہ لگا کر، یا ہم قلم کار دو چار کالم وغیرہ لکھ کر ظلم کا نشانہ بننے والوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں ۔ پھر وہ بےچارے کچھ قومی اداروں یا عدالتوں وغیرہ کے رحم و کرم پر آ جاتے ہیں اور اکثر یہ ہوتا ہے انہیں ان کے حق کے مطابق انصاف نہیں ملتا۔ جیسا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مقتولین کے ورثاءکو ابھی تک نہیں ملا۔ یا سانحہ ساہیوال کے مقتولین کے ورثاءکو بھی ابھی تک نہیں ملا۔ اگر معاشرہ اپنی ”کھپ شپ“ پر مسلسل پہرہ دے اور یہ سلسلہ اس وقت جاری رہے جب تک مظلوموں کو مکمل طور پر انصاف نہیں مل جاتا تو اس کا فائدہ یہ ہو گا کچھ سوئے اور اپنے اپنے ذاتی مفادات میں کھوئے ہوئے اداروں کو جاگنا پڑ جائے گا، اور وہ عدل و انصاف میں خواہش یا کوشش کے باوجود ڈنڈی نہیں ما رسکیں گے۔ معاشرے کے اس کردار کو یقینا ہمیں سراہنا پڑے گا کہ وہ ظلم و زیادتی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتا ہے۔ مگر اس کردار کی مذمت بھی کرنا پڑے گی بعض اوقات بلکہ اکثر اوقات حقائق جانے بغیر ہی اٹھ کھڑے ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کئی اقسام کی قباحتیں جنم لیتی ہیں ۔ لوگ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ کسی ”مظلوم“ کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے جسے وہ مظلوم سمجھ رہے ہوتے ہیں کسی نہ کسی حوالے سے وہ خود ظالم ہوتا ہے۔ اس کی ”مظلومیت“ کے ڈھونگ کا نشانہ کچھ بے قصور لوگ بھی بن جاتے ہیں جو بذات خود ایک ظلم ہے جس کا ذمہ دار معاشرہ ہوتا ہے.... گزارش بس اتنی ہے ہم سب کو اپنے اپنے کردار کا ازسرنو جائزہ لینا چاہئے۔ یہ درست ہے پولیس کے ساتھ عوام کی نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف جب عوام پولیس سے جھوٹ بولتے ہیں ، دوران تفتیش قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسمیں تک لیتے ہیں ، پولیس کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں ، انہیں گالیاں دیتے ہیں ، ان کی قربانیوں خصوصاً دہشت گردی کو کم یا ختم کرنے کے لئے ان کی جانی قربانیوں کی قدر نہیں کرتے تو پولیس کی عوام کے ساتھ نفرت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ سو ”آگ دونوں طرف ہے برابر لگی ہوئی“ اس آگ کو بجھانے یا کم کرنے کے لئے صرف پولیس کو نہیں عوام کو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنا پڑے گا۔ اب پولیس تشدد کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے دو واقعات ہوئے اور عوام پورے محکمہ پولیس کو ایسے بدنام کرنے پر تل گئے جیسے یہ دو ہلاکتیں پورے محکمہ پولیس کی مشاورت سے ہوئی ہوں۔ ان ہلاکتوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس کے ذمہ داران کو قانون کے مطابق پوری سزائیں ملنی چاہئیں اور جلد ملنی چاہئیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے کوئی بے گناہ اس ”رگڑے“ میں نہ آجائے۔ کسی ایک کو انصاف دینے کی کوشش میں کسی دوسرے کے ساتھ ناانصافی نہ ہو جائے ۔ جو ہمارے جذباتی عوام کے رویے کے نتیجے میں اکثر ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ حقیقت پیش نظر رکھنا پڑے گی پولیس بھی اس کریمنل اور کرپٹ معاشرے کا حصہ ہے جس کا ہم سب حصہ ہیں ۔ خود کو ٹھیک کئے بغیر ہم کیسے یہ توقع کر سکتے ہیں سارا سسٹم ٹھیک ہو جائے؟۔ خصوصاً پولیس ٹھیک ہو جائے ؟ بطور ایک قلم کار کے یا بطور ایک استاد کے جو ذمہ داریاں معاشرے کی درستگی کے لئے میری بنتی ہیں میں خود تو وہ ادا کرنے سے قاصر ہوں، مگر میری شدید ترین خواہش ہے پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ فوج اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ، حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، عدلیہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے.... جب میں خود اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ڈنڈی مار رہا ہوں تو دوسروں سے اس کی توقع کرنا منافقت کی وجہ سے یوں محسوس ہوتا ہے قدرت نے مستقل طور پر ہم سے منہ موڑ لیا ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر