چہکارکیا ہوئی، وہ پکھیرو کہاں گئے؟
07 ستمبر 2018 2018-09-07

زندگی روزازل سے تغیرپسندہے۔ بقول اقبال زندگی اپنی کمرپرماضی کا بوجھ اٹھائے ہمیشہ آگے کی طرف سفرکرتی ہے اوران تجربات کی بصیرت سے اپنے رخ کا تعین کرتی ہے۔زندگی جو معلوم تاریخ میں پتھرکے دورسے چلی، پھرلوہے کی دریافت سے دھاتی دورمیں پہنچی، کاشت کاری سے زرعی دورمیں داخل ہوئی، صنعتی انقلاب سے جوان ہوئی، سائبردورمیں پہنچ کرمیچیورہوئی۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دورمیں داخل ہوکرغرورونخوت کی انتہا پرآگئی ہے۔سائنس اورٹیکنالوجی کی ترقی نے ایک خدابیزارتہذیب کو جنم دیا ہے جس کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ وہ مریخ اورپلوٹو پرمیزائل داغ رہاہے اخلاقی انحطاط کا یہ عالم کہ وہ چندڈالرزکے عوض اپنی قوم وملت کے خلاف بک جاتا ہے۔ڈاکٹرعلی شریعتی سے کسی یورپی دوست نے کہا " حیرت ہے افریقہ میں ابھی بھی انسانوں کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ شریعتی نے کہا کہ میں نے آکسفورڈ اورہارورڈ میں انسان بکتے دیکھے ہیں ، ڈگریوں سے پہلے روس، سنگاپوراورجاپان بولیاں لگاکر لوگ مہنگے داموں اٹھا لیتے ہیں۔ساربون یونیورسٹی پیرس میں قیام کے دوران ڈاکٹر شریعتی کے ایک دوست نے قرآن پرمقالہ تحریرکیا اورکہا کہ قرآن نے ابن آدم کیلئے بشراورانسان کی دواصطلاحات استعمال کی ہیں بشرانسان کے حیاتیاتی پہلوؤں کو بیان کرتا ہے جبکہ انسان "انسان کے بننے کے عمل کا نام ہے" جواخلاقی عروج وپستی سے عبارت ہے، مگرسارترکے نظریہ وجودیت نے تو مذہبی اخلاقیات کو فرسودہ قراردے کرکہا کہ ہرچیزکا مستقبل طے شدہ ہے کہ ایک بیج سے کیسا درخت بننا ہے، گائے ، بھینس کے بچے نے ایک مکمل جانوربننا ہے تاہم انسان کی Destiny طے شدہ نہیں ہے، یہ خوداپنی تکمیل کرتا ہے یہ اپنا خدا خود ہے لہٰذ اسے اپنی منزل کے تعین کا پورا پورا حق ہے۔
بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ذرائع پیداوارکی تبدیلی سے اقدارتغیروتبدل کا شکارہوتی ہیں۔نکتہ ہائے نظربدل جایا کرتے ہیں، کئی فلسفوں کی قندیلیں بجھتی ہیں اورکئی ادب خاک کا پندارہوتے ہیں۔پادھربساط ذہن پرعلم کی نئی شاخ نکلی ادھرکئی فصیلیں ہٹ گئیں اورکتنے حصارکٹ کرریت ہوئے۔دوام دمادم صدائے کن فیکون کو ہے ۔تاہم مذہبی سماجیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ارتقاء کے عمل نے ہرشئے اورہرخیال کو ترقی دی ہے، مگرشروع کی سادہ زندگی میں انسان کا تصورتوحیدجتنا خالص اورپائیدارتھا وہ ارتقائی عمل میں کمزورہوتا گیا۔ذرائع پیداوارکی ترقی نے زندگی کو سہل مگرزندگی کے مسائل کو پیچیدہ تربنایا۔یوں زمین کو ترازو میں تولنے اورہواؤں اورسمندروں کو پایاب کرنیوالا انسان زمین کے مسائل کو سلجھانے میں ناکام رہاہے۔شیخ سعدی نے کہا تھا" کارزمیں رانکوساختی،،، نیزآسماں پرداختی" تونے زمین کے کام سلجھا لیے ہیں کہ آسماں کو سنوارنے چلا ہے۔علوم سماجیات ومذہب سے بے نیازسائنس اورٹیکنالوجی کی ترقی نے ول ڈیورانٹ کو یہ کہنے پرمجبورکیا" کہ سائنس پرچون میں زندگی دیتی ہے اورتھوک کے حساب سے مارتی ہے" ٹیکنالوجی اپنی کارکردگی میں درست وصحیح مگرظالم ہے اورمزاجاًایسا ہی یہ اپنے استعمال کرنیوالوں کو بنادیتی ہے۔"انقلاب حیات کیا کہیے، آدمی ڈھل گئے مشینوں میں "۔
ایسے میں وہ افرادجنہیں نوے کی دہائی سے پہلے کا پاکستان میسرہواوہ زرعی معاشرت کی اقدارکا ناسٹیلجیہ رکھتے ہیں ۔جب سیاہ رات میں تارے آنگن میں اتراکرتے تھے، چاندکمسنوں کو لوریا دیا کرتاتھا، بچے جگنوؤں اور تتلیوں سے کھیلاکرتے تھے۔سانجھے کے چبوترے تھے، دوپہرکی دھوپ میں برگداورپیپل اپنے سائے میں گاؤں بھرکو جمع کرلیا کرتے تھے۔کوئی بچہ غیراخلاقی حرکت کا مرتکب ہوتاتو گاؤں یا محلے کا ہربزرگ اسے ٹوکنے کا حق رکھتاتھا۔کسی گھرمہمان ہیں تو وہ بلا پوچھے دوسرے گھرسے دودھ اٹھا لیا کرتا تھا۔کوئی مریض ہوتا تو پورا پورا گاؤں اسپتال امڈآیا کرتا تھا۔کہیں مرگ ہوئی تو پڑوسیوں کا چولہا بھی سوگ کے عالم میں کئی کئی روز تک ٹھنڈا رہتا۔خودتکلیف سہہ کرمہمان کو راحت پہنچانے کا چلن تھا۔ایک گھرلڑائی ہوتی تو پورا محلہ یا گاؤں صلح کی کوششوں میں لگ جایا کرتا تھا۔چوپالوں میں حقے پرمحفلیں جماکرتیں، جو گاؤں اورمحلے کا نشریاتی مرکزہواکرتے تھے۔مہمانوں کو رخصت کرتے وقت کیا مہمان کیا میزبان سب کی آنکھیں وفورجذبات سے نم ہوجایا کرتی تھیں ۔کچھ بزرگوں کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جانوربھی ان کی زبان سمجھتے تھے، کتے کو چلے جانے کا کہتے توسرجھکائے چلا جاتااورکہیں دورسے آوازدیتے تو دوڑاچلا آتا۔گائے ، بھینس اوراونٹ کوان کی بولیاں سمجھتے اورعمل کرتے پایا۔ اس عہدنے جسموں کو فربہ کیا ہے روح مضمحل ہوگئے ہیں۔
تہذیب مغرب کے سیکولرنظام تعلیم نے زرعی معاشرت کی اقدارکو تہہ وبالا کردیا ہے۔مالک اور بھینس دونوں کے بچے بلکتے رہ جاتے ہیں دودھ ملٹی نیشنل کمپنیاں لے جاتی ہیں۔پورا گاؤں مل کربچے پالتاہے، کیرئرکے نام پربچوں کوبڑے شہراچک لیتے ہیں۔کیا مذہب؟ کیا مٹی ؟ کیا قوم و ملت؟ ہمارے عہد کا سب سے بڑا بت "کیرئر" ہے جسے مشرق ومغرب میں معبودسمجھا جارہاہے۔کیا غضب ہے کہ دیارغیرمیں آسودہ حال اپنے بزرگ والدین کو خرچ بھیجتے ہیں مگراس کیرئرکی محبت میں کئی کئی عشرے والدین سے مل نہیں پاتے، یہ اسی مادہ پرست تہذیب کے ہوکررہ جاتے ہیں جسکا فرداپنے دفتری ساتھی سے کہتاہے کہ میں اپنے والد سے رابطے میں رہتاہوں پچھلے سال سالگرہ پرانہیں ٹیبل لیمپ بھیجا تھا، مگریہ نہ جانتا تھا کہ اس کا والد پچیس سال سے نابیناہوچکا ہے۔پہلے اپنوں کے بغیرعیدیں پھیکی پڑجایا کرتی تھیں، آج عید اسی کی ہے جس کا شوہرباہرہے ۔
تہذیب مغرب نے جہاں ہماری کچھ فرسودہ روایات کو روندڈالاوہاں بہت قیمتی روایات کو بھی نگل گئی ہے۔نیلسن منڈیلا لکھتے ہیں کہ میں نے قیادت کا ہنراپنے علاقائی سردارسے سیکھا۔جب ان کے ہاں کوئی مسئلہ پیش ہوتاتوساراسارادن بحث ہوتی، اختلافات ہوتے، اتفاقات بھی ہوتے مگروہ چیف خاموش سنتا رہتاتاوقتیکہ سب کسی متفقہ فیصلے پرپہنچتے اورآخرمیں قبائلی سرداراس فیصلے پرمہرتصدیق ثبت کرتا۔میں نے پوچھاکہ آپ کا کردارتو علامتی ہے ،انہوں نے کہا کہ لیڈرکی مثال اس چرواہے کی ہے جو ریوڑکے پیچھے چلتاہے، باغی صفت جانوروں کو آگے بڑھنے دیتا ہے، کمزوراورتساہل پسندوں کا پیچھے رہ جاناگواراکرتا ہے مگرکسی کو دوسری طرف نکلنے نہیں دیتا۔یہی روایت تو ہماری پنجایت کی تھی۔پنجایت چیف کتنے سنگین مسائل گفت وشنید سے حل کرلیاکرتے تھے جوعدالت میں جائیں تو تین نسلیں فیصلوں کا انتظارکرتی ہیں۔
ہمارے عہد کے جواں شاعرشبیرنازش کا نوحہ بجا ہے " غم کی سیاہ رات میں جگنو کہاں گئے،،آنکھیں کہاں گئیں ، میرے بازو کہاں گئے۔سانجھے چبوترے تھے، محبت تھی ، گیان تھا،،، برگد کہاں چلے گئے، سادھو کہاں گئے،، وہ رکھ رکھاؤ کیا ہوا، تہذیب کیا ہوئی،، جن میں تھی اگلے وقت کی خوبوکہاں گئے۔ اے زندگی بتا تیری شوخی کہاں گئی،، سرچڑھ کے بولتے ہوئے جادوکہاں گئے، پیش نظرہے
آئینہ، گریہ گزارعکس،، حیرت کلپ رہی ہے کہ آنسوکہاں گئے.۔نازش سراپا عشق کہاں جارہے ہوتم،،کیا جانتے ہوپیکرخوشبو کہاں گئے۔حسیں روایات کے پروردہ لوگ کہاں گئے ہیں کہ ہم حرص وہوس میں گھری معاشرت کا شکارہوچکے،اورجون ایلیا کو کہنا پڑا " ہمیں تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں ،،ایساہوتا ہے خاندان میں کیا؟
سونے پڑے ہیں گھونسلے، شاخیں اداس ہیں
چہکار کیا ہوئی، وہ پکھیرو کہاں گئے


ای پیپر