امریکہ : بھارت کے حوالے سے جانبدارانہ اقدامات
07 ستمبر 2018 2018-09-07

جمعرات کوبھارت اور امریکہ کے درمیان فوجی حساس معلومات کے تبادلے کے معاہدے پردستخط غیر متوقع نہیں۔اسی روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جیمز میٹس نے بھارتی ہم منصبوں سے انتہائی خوشگوار اور حسب روایت حلیفانہ ملاقات کی۔ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جیمز میٹس نے بھارتی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کا دورہ کیا۔ اس موقع پر بھارتی ہم منصب سشما سوراج اور نرملا سیتھارمن نے ان کا استقبال کیا۔ بے تکلفی کا عالم یہ تھا کہ وزیر خارجہ پومپیو اور سشما سوراج میڈیا سے بات چیت کئے بغیر مذاکرات کے لئے کمرے چلے گئے۔ دوسری جانب وزیر دفاع میٹس نے چلتے چلتے کہا روسی میزائل کے سودے اور ایران سے تیل کی خریداری کے علاوہ دوسرے موضوعات پر بھی بات چیت ہو گی۔مزید بر آں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور بھارتی وزیر خارجہ اور دفاع بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا’’ امریکہ کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنرشپ ہماری سب سے اہم ترجیح ہے،نیوکلیئرسپلائرز گروپ میں بھارت کی شمولیت پر اتفاق کیاگیا‘‘۔ سشماسوراج اور نرملا سیتھارمن کا کہنا تھا’’ ملاقات کے دوران دہشت گردی کیخلاف تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا‘‘۔ انہوں نے کہا’’ امید ہے امریکہ بھارتی مفاد کے خلاف خلاف نہیں چلے گا، روس سے معاہدہ ماسکو پر امریکی پابندیوں سے پہلے ہوا تھا اس لئے اسے منسوخ نہیں کیا جائے گا، جبکہ ایران سے تیل خریداری فوری بند کرنا ممکن نہیں کیونکہ بھارت سب سے زیادہ تیل تہران سے خریدتا ہے، سرحدی دہشت گردی روکنے کیلئے دونوں ملکوں کا نقطہ نظر ایک ہے، افغانستان کیلئے امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہم دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مل کر کام کر رہے ہیں،جمہوریت کی آزادی کا عزم بھی یکساں ہے‘‘۔ علاوہ ازیں ملاقات کے بعد بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتھارمن نے میڈیا کو بتایا کہ’’ دونوں ممالک اگلے سال پہلی مرتبہ بڑی مشتری فوجی مشقیں کریں گے، فوجی مشقوں میں تینوں مسلح افواج حصہ لیں گی اور یہ مشقیں بھارت کے مشرقی ساحل پر ہوں گی، دونوں ملکوں نے حساس فوجی معلومات کے تبادلے سے متعلق معاہدے پر بھی دستخط کئے‘‘۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے جن خیلات کا اظہار کیا ان کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان اور چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے امریکہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کا تہیہ کیے ہوئے ہے ۔ بھارتی وزیر خارجہ اور دفاع کے وزیر سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا’’ بھارت ابھرتی عالمی طاقت ہے، امریکہ بھرپور حمایت کرتا ہے‘‘۔ اس سے قبل بھارت اور امریکہ کے درمیان کمیونی کیشن‘ سکیورٹی معاہدے پر دستخط ہوئے۔
واضح رہے کہ امریکی اور بھارتی وفود کی ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہاگیا کہ متحد‘
خودمختار‘ جمہوری‘ مستحکم‘ خوشحال و پرامن افغانستان کیلئے پرعزم ہیں، امریکی و بھارتی وزراء نے افغان امن و مفاہمتی عمل میں تعاون کا اظہار کیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت اورامریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت بھارت جدید امریکی دفاعی موا صلاتی ٹیکنالوجی خرید سکے گا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ مذاکرات کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی‘ سکیورٹی تعاون بڑھانا ہے۔ بھارت اور امریکہ نے امن‘ خوشحالی‘ سکیورٹی کی عالمی کوششوں کی سربراہی جاری رکھنے کا عہد کیا۔ علاقائی و عالمی مسائل کے حل کیلئے ہر پلیٹ فارم استعمال کرنے کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ‘ وزراء دفاع میں محفوظ کمیونیکیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ نے بطور اہم دفاعی پارٹنر بھارت کی سٹریٹجک اہمیت کا اعتراف کیا۔ دفاعی ساز و سامان کی تجارت اور پیداواری رابطوں میں توسیع کا فیصلہ کیا۔ دفاعی صنعتی سکیروٹی پر مذاکرات شروع کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی۔ مغربی بحرہند میں دونوں ملکوں کے درمیان بحری جنگی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ بھارت امریکہ نے اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف جیسے پلیٹ فارمز میں دوطرفہ تعاون جاری رکھنے کا عزم کیا۔ دونوں ملکوں نے انسداد دہشتگردی تعاون میں توسیع‘ معلومات کے تبادلے میں اضافے کا فیصلہ کیا۔ دونوں ملکوں نے سول ایٹمی توانائی پارٹنر شپ کے مکمل اطلاق پر رضامندی ظاہر کی۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان اگلی ٹو پلس ٹو ملاقات 2019ء میں امریکہ میں ہو گی۔
اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دونوں وزراء کی اپنے بھارتی ہم منصبوں سے ملاقات میں تعلقات کو تیزی سے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا لیکن امریکی عہدیداروں نے بھارت کو روسی میزائلوں کی خریداری سے روکا ہے۔ دونوں ملکوں نے چین کو روکنے کیلئے باہمی تعلقات کو بڑھانے پر بات کی۔ پومپیو اور میٹس نے بھارتی ہم منصبوں پر واضح کیا کہ روس سے اسلحہ کی خریداری کے حوالے سے امریکی پابندیوں کے بعد تیسرے ملک کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اگلے سال بحرہند میں پہلی مرتبہ اتنے بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں ہوں گی۔
یہ تو طے ہے کہ امریکہ نے بھارت کے بارے میں جو رویہ اپنایا ہوا ہے وہ خطے کے دیگر ممالک کے لئے خاصا تکلیف دہ اور پریشان کن ہے۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے کہ 2015ء میں گجرات کے قصاب نریندرا مودی کو جان کیری نے بھارتی دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کی اور ان کو وژنری لیڈر قرار دیا تھا۔یاد رہے کہ یہ وہی نریندرا مودی ہے ، جسے امریکی میڈیا اور انتظامیہ نے ا س کے وزیر اعظم بننے سے پہلے گجرات کے 2 ہزار مسلمانوں کا قاتل قرار دے رکھا تھا اور ا سے امریکہ کا ویزا دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ جونیئر بش کے بعد اوباما اور اب ٹرمپ بھارت کے حوالے سے ایک ایسے ہی جذبات اور خیلات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ یادش بخیر سابق امریکی صدر اوباما نے جنوری 2015 کے آخری عشرے میں بھارت آمدسے قبل بھارتی جریدے انڈیا ٹو ڈے کے نمائندے شیکھر گپتا کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما نے کہا تھاکہ ’ پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قبول نہیں ،پاکستان کو ممبئی حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں ضرور لانا چاہئے، میں نے اپنے سابقہ دورہ بھارت کے دوران ممبئی حملوں کے متاثرین کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہارکرنے کے لئے تاج ہوٹل میں پہلا قیام کیا اور بھارتی عوام کو یہ پیغام دیا کہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لئے ہم ایک ساتھ کھڑے ہیں، بھارت حقیقی گلوبل پارٹنر ہے ، نائن الیون اور ممبئی واقعات کے بعد امریکا اور بھارت دفاع اور سلامتی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں،ہم نے دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید گہرا کردیا ہے،ان تعلقات میں ایک دوسرے کے مفادات کو مدنظر رکھا جارہا ہے،میں اس پر یقین رکھتا ہوں کہ بھارت کو سلامتی کونسل میں مستقل رکن کی حیثیت سے شامل کیا جائے، دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں میں بھی اضافہ ہو،افغانوں کی حالت بہتر بنانے میں نئی دہلی کی مدد کے شکر گزار ہیں ، جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے میں مل کر کام کریں گے‘۔ کون نہیں جانتا کہ امریکہ نے منموہن سنگھ کے دور میں ہی بھارت کو سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں معاہدہ کرکے رسائی دی تھی۔اس معاہدے کے باوجود امریکی سرمایہ کار اس شعبے میں بھارت میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ اس کی ایک وجہ بھارت میں ایٹمی تنصیبات پر حفاظتی انتظامات کا ناقص معیار ہے۔ سرمایہ کاروں کو 1984ء میں بھوپال میں یونین کاربائیڈ کا حادثہ ابھی تک یاد ہے۔
یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ امریکی اور بھارتی وفود کی ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ کے مندرجات کا کا ایک ایک لفظ بزبانِ حال اس امر کا اعلان کر رہا ہے کہ امریکہ بھارت کے حوالے سے جانبدارانہ اقدامات کو جاری و ساری رکھے گا۔ اس اعلامیہ سے ظاہر ہوتا ہے ہوتا ہے کہ امریکہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے اتحاد و اشتراک کا واحد مقصد کمزور ہمسایہ ممالک کو مرعوب کرنے کے ساتھ ساتھ چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔ امریکی خواہش ہے کہ بھارت کے چھوٹے ہمسایہ ممالک کو سکم، نیپال اور بھوٹان کی طرح بھارت کا تابع مہمل بنا دیا جائے۔ اس منفی خواہش کو پروان چڑھاتے ہوئے امریکی و بھارتی پالیسی ساز بھول جاتے ہیں کہ پاکستان عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان خطے میں کسی طور بھی بھارت کی کسی قسم کی بالادستی کو قبول نہیں کرے گا۔ بھلے سے امریکہ نے بھارت کے این ایس جی گروپ میں شمولیت پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ اس حس منظر میں پرسوں وزیر اعظم کی تقریر کا یہ حصہ عوام کے لیے حوصلہ افزا ہے کہ’ پاکستان کبھی کسی اور کی جنگ نہیں لڑے گا، پاکستان کے آج بڑے مسئلے ہیں، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، ہماری خارجہ پالیسی بھی قوم کی بہتری کیلئے ہو گی، سول اور عسکری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں، ہم سب ایک ہیں، سب کا ایک ہی مشترکہ مقصد ہے کہ پاکستان کو آگے لے جانا ہے،جب کوئی قوم متحد ہوتی ہے تو اعلیٰ مقام حاصل کرتی ہے، مقصد کے حصول کیلئے ہر شہری کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔ کمزور طبقے کو ان کے حقوق دینے ہوں گے۔


ای پیپر