اسحاق آشفتہ، ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم کا لالہ موسیٰ۔۔۔؟؟
07 ستمبر 2018 2018-09-07

میڈیم جی ۔۔۔ بھی پامسٹری کو سمجھتی ہیں لیکن وہی دنیا میں پھیلی جہالت کہ عورت میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم ہے یا مرد ہی بہادر ہوتا ہے، میڈیم میں میں نے Confidence کی کمی دیکھی ۔۔۔؟ میں نے جب امریکہ میں الیکشن تھے تو میڈیم سے کہا تھا کہ ’’ہیلری‘‘ ہار جائے گی ۔۔۔ ’’میڈیم‘‘ نے بے ساختہ وہ قہقہہ لگایا جس کا انجام ۔۔۔ ’’خشک کھانسی‘‘ ہوتی ہے، ایسے قہقہے پہ انسان کا کنٹرول نہیں ہوتا ۔۔۔ جس طرح آج صدارتی الیکشن ہے اور ایسا ہی قہقہہ آصف علی زرداری لگائیں گے اور ’’انجام‘‘ آپ خود جانتے ہیں کبھی کبھی ایسے قہقہے عجلت میں لگ جاتے ہیں ۔۔۔ دراصل ایسا قہقہہ لگانے سے پہلے انسان کا رونے کا ارادہ ہوتا ہے لیکن وہ دنیاوی Pressure کے خوف سے رو نہیں پاتا اور اُس کا قہقہہ ’’چھوٹ‘‘ جاتا ہے جیسے ضبط کے بندھن چھوٹ جاتے ہیں ۔۔۔ صدارتی الیکشن کے بعد آپ زرداری صاحب کا قہقہہ بھی سنیں گے ۔۔۔ آپ کو اوپر بیان کردہ میرا بیان یاد آئے گا اور آپ بھی بے ساختہ ہنس دیں گے ۔۔۔؟! کہ کچھ عرصہ سے آصف علی زرداری صاحب ایسے ’’قہقہے‘‘ عوام میں بھی لگا رہے ہیں اور چھپ چھپ کے بھی ۔۔۔؟!

فہیم انور چغتائی کا اصرار ہے کہ ہم دونوں مل کر ایک فلم بنائیں ۔۔۔ جیسا کہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ میاں چنوں سے لاہور Land کیا تو فہیم انور چغتائی سیدھا ۔۔۔ ’’رائل پارک‘‘ ۔۔۔ (نئی نسل سوری ٹو say رائل پارک اور رائل پام کو ایک ہی سمجھتی ہے ۔۔۔؟ آپ بھی؟؟!) جا ٹھہرے وہاں اُن کے تلمبہ کے ۔۔۔ (جی ہاں جی ہاں مولانا طارق جمیل والا تلمبہ ۔۔۔ جی جی وہی مولانا جن کی مختلف انداز کی تصویروں نے فیس بک پر آجکل دھوم مچا رکھی ہے؟) ایک فلمی دنیا سے وابستہ دوست قیام پذیر تھے ۔۔۔ اُنھوں نے کہا کہ لاہور ’’کوئی‘‘ اچھا شہر نہیں ۔۔۔ تم ٹھہرے ایک مذہبی گھرانے سے ۔۔۔ بس تمہارے لئے یہ ’’رائل پارک‘‘ والا علاقہ ہی ٹھیک ہے ۔۔۔ حالانکہ میں نے کہا تھا کہ تلمبہ والا فلمی دنیا سے وابستہ گرُو ۔۔۔ غلط کہہ رہا ہے ۔۔۔ Misguide کر رہا ہے ۔۔۔ رائل پارک کی تو ہوا میں ہی سوز ہے ۔۔۔ آپ پان منہ میں ڈال کر نکلیں یوں لگتا ہے جیسے یہ نیویارک کے پلازے ہوں اور آپ اپنی پھٹیچر مہران پر نہیں کسی ’’سیاہ‘‘ رنگ کی لیموزین پر پھر رہے ہیں ۔۔۔ ریڈیو پر گانا لگا ہو بندے کو لگتا ہے جیسے Live میوزک ہو اور میڈیم جی چاندنی رات کے پچھلے پہر Perform کر رہی ہوں اور فضاؤں میں قہقہے بلند ہو رہے ہوں ۔۔۔ جی ہاں جی ہاں ۔۔۔ حاضرین (وہی تماش بین) کے ۔۔۔ ادھر سلیمان آرٹ پریس کے سامنے صبح چار بجے حلوہ پوڑی اور چنے والے دیگچے ’’کھڑک‘‘ رہے ہوں ادھر ۔۔۔ ’’ڈانس‘‘ اپنے اختتام پر ہوں ۔۔۔ میری بات سچ ثابت ہوئی ۔۔۔ ’’رائل پام‘‘ ۔۔۔ سوری ۔۔۔ رائل پارک میں رہتے ہوئے اور ہماری وہاں اُن سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہونے کے بعد ہم دونوں نے ’’فلم‘‘ بنانے کا ارادہ کر ہی لیا ۔۔۔

کاش یہ فیصلہ والد صاحب کی زندگی میں کیا ہوتا اور پھر ۔۔۔ زندگی میں دوسری بار ۔۔۔ ابا جی کے ہاتھوں چھترول کا مزہ سہنا پڑتا ۔۔۔ ابا جی کے ہاتھوں چھترول کے دوران ’’وہی‘‘ اوپر بیان کردہ قہقہے تو پھر بے ساختہ گونجتے ہیں ۔۔۔

بات شروع ہوئی تھی ’’میڈیم جی‘‘ کی پامسٹری سے وابستگی سے ۔۔۔ کل میڈیم جی کا فون آیا ۔۔۔ میں نے میڈیم جی کے چہرے پر کیل مہاسے دیکھتے ہوئے ایک دن درخواست کی ۔۔۔ ’’میڈیم جی ۔۔۔ اس کا کوئی علاج کروائیں‘‘ ۔۔۔ ’’داڑھی ہی ناں رکھ لوں‘‘ میڈیم جی نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔؟! (کبھی کبھی بے ساختہ انسان سے ایسی باتیں یا کچھ حرکتیں سرزد ہو جاتی ہیں یہ چینلز والے نہ جانے کیوں ایسی غلطیوں پکڑ لیتے ہیں جان ہی نہیں چھوڑتے ۔۔۔ ہے ناں بُری بات ؟!) ۔۔۔

وہ تمہارے اسحاق آشفتہ ۔۔۔ وفات پا گئے ۔۔۔ میرا دل گھبرا سا گیا ۔۔۔ شاہد جاوید پر غصہ آتے آتے رہ گیا کیونکہ شاہد جاوید نے مجھے بار بار کہا ۔۔۔ میں مل آیا ہوں اسحاق آشفتہ اور لالہ موسیٰ میں آپ سے ملاقات کے متمنی ہیں میں نے حسب عادت سستی کا مظاہرہ کیا اور ہم دونوں اسحاق آشفتہ سے تفصیلی ملاقات سے پھر محروم رہ گئے ۔۔۔ آپ کا سوال ٹھیک ہے کہ سستی میری تھی پھر بھی شاہد جاوید پر غصہ کیوںآیا ۔۔۔؟! یہ غصے کی مرضی ہے ۔۔۔ غصہ لیکن شاہد جاوید اور مدثر عنائت بھٹی آف ’’جناں والی سرکار‘‘ پر نہیں آ سکتا ۔۔۔ صرف آنے کا سوچ سکتا ہے، ویسے اُن کو مجھ پر کئی دفعہ غصہ آ چکا ہے ۔۔۔ لیکن محبت میں وہ بھی قہقہہ لگا کے معاملہ ’’دفع دفع‘‘ کر دیتے ہیں یہ محاورہ آپ کو بُرا لگا ’’رفعہ دفعہ‘‘ ۔۔۔ تو اب تو یہ محاورہ اردو لغت میں بھی اس انداز میں لکھا جائے گا کیونکہ ’’دفع دفع‘‘ والا محاورہ تو اب اپنے مطلب معنی کھو چکا ہے ۔۔۔ نئی روایات نئے رسم و رواج اور عدالتوں میں نئی طرح کے Cases ۔۔۔؟!

اسحاق آشفتہ ایک دانشور تھا اور ہماری ماؤں جیسی محبت کرنے والی ملکہء موسیقی روشن آراء بیگم اگر لاہور میں ہوتیں تو لوگ اُن کے مزار پر جاتے ۔۔۔ نئے گلوکار وہاں سلام کر کے گلو کاری کا آغاز کرتے ۔۔۔ اسحاق آشفتہ جیسا شاعر، پامسٹ اور دانشور اگر لاہور میں ہوتا تو آج اُن کا جنازہ بھی ہزاروں لوگ پڑھتے اور امراء اُن کے جنازے میں شریک ہوتے ۔۔۔ سلفیاں بنتیں اور Facebook پر چہل پہل محسوس ہوتی ۔۔۔ ایسے ہی اسحاق آشفتہ کو سوچ کے مجھے ۔۔۔ سرائیکی دنیا کے بادشاہ ۔۔۔ شاکر شجاع آبادی یاد آتے ہیں ۔۔۔ ہم اُن کی شاعری سنتے ہیں لیکن وہ بہت بڑا معذور شاعر مشکل سی ہی زندگی گزار رہا ہے ۔۔۔ ہمارے ارب پتی سیاستدان قارون کے خزانے کی طرح اپنی اربوں روپے کی دولت کو قبر میں ساتھ لے جائیں گے لیکن ان بہت بڑے ناموں کا کبھی بھی کوئی پرسان حال نہیں اسحاق آشفتہ بھی معذوری کی حالت میں ہی اللہ رسولؐ کا محبت سے نام لیتے ہوئے دنیا سے چلا گیا فیس بک پر دو تین پوسٹیں محبت کرنے والوں نے لگا دیں اور ’’فرض‘‘ ادا ہو گیا ۔۔۔ ’’نیا پاکستان‘‘ معرض وجود میں آ چکا ہے ۔۔۔ کاش ان دور افتادہ قصبوں میں رہنے والوں کا بھی کوئی پرسان حال ہو اور کروڑوں کے فنڈز سے یہ سادہ دل شاعر موسیقار وغیرہ بھی استفادہ کر سکیں ۔۔۔ جو لگژری گاڑیاں نیلام کی گئی ہیں کاش اُن سے ملنے والی رقم سے ادباء شعراء وغیرہ کے لئے کوئی ’’فنڈ‘‘ قائم ہو جائے ۔۔۔؟!

کیونکہ ۔۔۔ آج کی سب سے اہم خبر یہ نہیں کہ صدارتی الیکشن میں عارف علوی صاحب کامیاب ہو گئے ہیں ۔۔۔ سب سے اہم خبر تو یہ لگتی ہے کہ ۔۔۔

’’شرجیل میمن کے خون کے ٹیسٹ میں الکوحل کے شواہد نہیں ملے ۔۔۔؟!؟ (ہے ناں معنی خیز خبر ۔۔۔ ایسی خبر جس پر یقین کرنے کو دل نہیں مانتا؟) ۔۔۔

یہ رپورٹ پڑھ کے قہقہہ لگانے کو دل چاہتا ہے ۔۔۔ مگر میں اسحاق آشفتہ کی وفات کے باعث کچھ شرمندہ ہوں ۔۔۔ کچھ اداس ہوں ۔۔۔؟!؟ اور اُن کی بجھوائی ہوئی کتابیں دیکھ دیکھ کر پریشان بھی ہوں کہ ہم کتاب سے محبت کرنا تو چھوڑ ہی چکے ہیں صاحب کتاب بھی اب ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے چلے جا رہے ہیں ’’اتنی بڑی تبدیلی‘‘ ۔۔۔؂

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی

اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا


ای پیپر