رابندرناتھ ٹیگور کا دوسرا جنم رائے محمد خاں ناصر
07 ستمبر 2018 2018-09-07

بشیر بہروپیا کون تھا کہاں سے آیا تھااس بات سے کسی کو کوئی سروکار نہیں تھا۔ بستی میں ایسے رچ بس گیا تھا جیسے صدیوں سے یہاں کا باسی ہو۔ وہ واحد شخص تھا جو ریلوے کا ملازم نہیں تھا پھر بھی ریل کی اس بستی میں آباد تھا۔ بستی کے لوگ اسے اپنا حصہ سمجھتے تھے۔ وہ بچوں کو پڑھاتا، مگر اس کے پڑھانے کا طریقہ بڑا مختلف تھا۔ وہ سہ پہر بچوں کو اکٹھا کرکے بستی کے بڑے تھڑے پر بیٹھا لیتا جس کی بڑے شاندار طریقے سے کچی مٹی اور گارے سے لپائی کی ہوتی۔وہ بچوں کو رسول حمزہ طوف کی باتیں بتاتا۔ آسمان پر جب کبھی سیاہ بادل آتے تو وہ ریلوے اسٹیشن کے راستے پر اپنی ہی دھن میں اونچی آواز میں گاتا چلا جاتا، اور جو کوئی بھی سنتا ایک لمحے کیلئے وہیں رک جاتا جہاں وہ کھڑا ہوتا ۔

مینہ وس گیا باراں تے

رب سائیں فضل کرے پردیسیاں یاراں تے

خدا جانے بار کے علاقے سے اسے کیا انس تھا، اس کو یہ بھی معلوم تھاکہ پنجاب کی دھنی کسے کہتے ہیں۔ لہندے پنجاب دیاں باراں اور اور ان کے نام کیا ہیں۔ ساندل بار، دلے دی بار، مانانوالی بار، جنگل بار، نیلی بار، راوی بار، گنجی بار، بیاس بار، سدھن بار اور اسی علاقے کا رائے احمد خاں کھرل تھا جس نے انگریزوں کی غلامی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انگریزوں سے تو وہ نہ مارا جا سکا مگر اپنوں کے ہاتھوں وہ جان کی بازی ہار گیا۔ انگریزوں سے د ھن دولت کے عوض اسے مارنے والے تو قیامت تک زلت اور رسوائی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتے چلے جائیں گے مگر احمد خاں کھرل کانام رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔

حال میں منظر عام پر آنے والی پنجابی زبان کی کتاب ’’ہڈک‘‘ میں جس طرح سے رائے احمد خاں کھرل کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہڈک کے مصنف بھی ساندل بار کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جن سے پہلی ملاقات ان کی دوسرے کتاب ہرکھ کی تقریب میں ہوئی تھی جو حال ہی میں دھان انٹرنیشنل پرائز جیتنے والے جان عزیزم زاہدحسن کے ساتھ تھی۔ان کی پہلی کتاب اوائل جوانی میں ٹھہرے ہوئے لمحے تھی، دوسرے کتاب ہرکھ جو انہیں شہرت کی بلندیوں پر لے گئی۔ اسی دن راقم الحروف نے انہیں اس دھرتی پہ رابندرناتھ ٹیگور کا دوسرا جنم کہا تھا۔ ایک دن کی بات ہے جب میں عالمی ادارہ لیبل سٹیپ کی جانب سے جنوبی پنجاب میں ایک سہ پہردریائے سندھ ، تونسہ پیراج کے مقام پہ بھائی جان کے ساتھ کھڑا تھا، سورج کسی اور بستی میں روشنی کرنے کیلئے جانے کا کہہ کے جا ہی رہا تھاکہ چھوٹے چھوٹے بچے ہاتھ اٹھائے سیلاب آنے کی دعا مانگ رہے تھے، کیونکہ جب سیلاب آتا ہے تو بہت بڑی امداد آتی ہے وہ کہاں جاتی ہے نہیں معلوم مگر ننھے منے بچوں کے اٹھے ہاتھ دیکھ کے ہرکھ کا پہلا شعر یاد آگیا۔

غربت کیوں نئیں رڑھدی نالے

ہڑھ جد کھوٹے ڈھاہ جاندا اے

کہتے ہیں کہ وحشی دور کے شکاریوں اور غذا جمع کرنے والوں کی پکار سے شروع ہونے والی شے کا نام شاعری ہے، ایک ایسا شیریں چشمہ جس سے پیاسی روحیں اپنی پیاس بجھاتی ہیں، دریائے حسن کے کنارے ایک ایسا درخت جس کا پکا ہوا پھل بھوکے دلوں کی غذا ہے، شاعری ایک پھیلی ہوئی روشنی ہے جسے تاریکی چھپا سکتی ہے نا اس پہ غالب آسکتی ہے، جب جذبے کو خیال اور خیال کو الفاظ مل جائیں تو معرض وجود میں آنے والی شے کا نام شاعری ہے، شاعری ایک ایسا چراغ ہے جسے موسیقی کے دیوتا اپالو نے روشن کیا ہے، محبت کو چھونے سے انسان شاعر بنتا ہے ، نثر پا پیادہ جبکہ شاعری تیز رفتار گھوڑے پر سواری کا نام ہے۔ تندرست مچھلی ہمیشہ رو کے مخالف تیرتی ہے، سچا شاعر وہ ہے جو دل اور ضمیر کی آواز پر چلتا رہے۔ اگر ضرورت پڑے تو عالمی رائے عامہ سے بھی ٹکرانے سے دریغ نہ کرے۔ دل اور ضمیر کی آواز پہ شاعری کرتا ہوا ، کہانی کار، فلسفی، درویش، موسیقار رائے ناصر جس کی تیسری کتاب ہونگ تھی ، جس کا لغوی مطلب آواز دینا، جس میں ختم ہوتی ہوئی اصناف پہ کام ہے۔ ختم ہوتی ہوئی اصناف ماہیا، ٹپہ، بولیاں، دوہے، اشلوک پہ جو کام ہے ان کے قد کو بڑھا کرتا ہے بلکہ آج تک کی معلوم تاریخ میں اس قد کا کوئی ڈھونڈنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ ایک اشلوک ملاحظہ ہو

بور نوں آکھ ہنیریئے، اج اپنا آپ سنبھال

مڑ چگے پا جا تلسیں،جے راہسیں ٹاہنی نال

بقول ناصر نظم لفظوں کا ایسا مجموعہ ہے جو ایک دوسرے کو جوڑتے جوڑتے بہت خوبصورت انجام سامنے لائے۔ اب کے بار ان کی کتاب ہڈک جونظموں کا مجموعہ ہے۔اپنے رہتل، وسیب، مٹی سے جڑی یہ شاعری اپنے بڑا ہونے کا ثبوت ہے ۔ انہوں نے اپنی کتاب ہرکھ میں بچوں سے بات شروع کی جبکہ ہونگ میں جس طرح خواتین کی ترقی کی بات کی وہ خواتین کے حقوق کے چارٹر میں بھی نہیں ہے۔ حال ہی میں منظرعام پر آنے والی کتاب ہڈک میں جس طرح سے امن، محبت، رواداری کا پیغام دیا ہے وہ بھی اپنی تعریف آپ ہے۔ 2012ء میں راقم الحروف نے گروونانک جی کی دھرتی پر جنم لینے والے رائے ناصرکورابندر ناتھ ٹیگور کا دوسرا جنم کہا تھا اور آج یہی سب سے بڑا سچ ہے۔ ٹیگور بھی جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوا تھا رائے ناصر نے بھی جاگیردار گھرانے میں آنکھ کھولی، ٹیگور کا خاندانی پس منظر دیکھ لیں ، ناصر نے بھی شرافت اور دیانت کا پیغام ماں کی گود سے لیا۔ ٹیگور کا بچپن دیکھ لیں ، ناصر کا بچپن سامنے ہے۔ ٹیگور کی ابتدائی تعلیم کا دلچسپ قصہ پڑھ لیں، ناصر کی ابتدائی تعلیم ایچی سن سے ہے، ایچی سن آج کے دن تک رائے ناصر پر اپنے اثرات مرتب نہ کر سکا، ٹیگور نے اوائل جوانی میں شاعری کی، ناصر کی پہلی کتاب بھی اوائل جوانی کی ہے۔ ٹیگور بھی لندن سے قانون کی خشک تعلیم چھوڑ کے واپس آگیا، ناصر کی ماں نے اسے لندن جانے ہی نہیں دیا۔ ٹیگور نے شانتی نکیتن بنایا، ناصر نے وجدان بنایا جس کا چرچا دنیا بھر میں ہے۔ وہ بھی موسیقار تھا ، ناصر بھی موسیقار ہے۔ جس کا ثبوت مبینہ کا گایا ہواانورزاہد اور ناصر کا کلام دنیا بھر میں مشہور ہے۔کیا امریکہ ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، بھارت، برطانیہ، افغانستان اور کیا دوسری جگہیں ۔ ٹیگور بھی درویش صفت، ناصر بھی من کا موجی۔ وہ بھی کہانی کار، ناصر کی کتاب تیار۔ ٹیگور کا انداز سخن،فطرت اوروطن سے محبت کا حامل جبکہ ناصر کا انداز سخن اپنی مٹی سے محبت کا بھر پور ثبوت ہے۔ گروونانک جی کی دھرتی کو یہی فخر ہے یہاں پر ناصر موجود ہے جس کی روح میں اک پرندے نے جنم لیاجو خالص ان کا اپنا پرندہ ہے۔ جو دوسروں پرندوں سے قطعی مختلف ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کے کسی پرندے کا وجود نہیں ہے آج جب رائے ناصر نے اس پرندے کو عالمی ادب میں آزاد کیا ہے تو مٹی سے پیار کرنے والے بے ساختہ پکار اٹھے ہیںیہ صرف اور صرف رائے محمد خاں ناصر کا پرندہ ہے۔ آج اگر دنیا ہم سے پوچھے کہ آپ پاس کیا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس رابندرناتھ ٹیگور کا دوسرا جنم ہے اور یہی وہ جنم ہے جو اپنے گوشے میں بیٹھ کے علم کے پیاسوں کو کٹورے بھر بھرکر پلا رہا ہے، خیر پھیلا رہا ہے، نوجوانوں کو سمت دینے کا کام کررہا ہے۔ مخمصوں میں غلطاں مقہوروں کی رہبری کاکام کررہا ہے، نظریات کے خذینے باٹنے کاکام کررہا ہے۔ فکری قید کے جالے توڑنے کی سعی کررہا ہے۔ ذہنوں کوماضی کی روایا ت سے آزاد کرنے کا کام کررہا ہے۔ تاریکی میں سویرا بانٹ رہا ہے۔ ایک ایسا ہی سویرا ہڈک سے ملاحظہ ہو۔

کربل چلئیے جا کے اوتھوں

کال سمے دیاں راتاں دے لئی

فیر سویرا لے کے آئیے

سنیائے اوتھے حُر تلی تے

کال سمے دیاں راتاں دے لئی

کئی سویرے رکھ کے بیٹھا اے


ای پیپر