وزیرِ اعظم کی تقاریراور Stunted Growth
07 ستمبر 2018 2018-09-07

ایک تقریر جس کے سحر سے ابھی قوم نکلی نہیں اور پھر ایک دوسری حوصلہ افزا تقریر، اور وزیرِ اعظم کی دونوں تقریروں میں Stunted Growth کا ذکر۔ خوراک کی کمی، بار بار بیماریوں کے حملوں اور گندگی کے باعث بچوں کی نشوونما اور بڑھوتری میں کمی آ جاتی ہے۔ پانچ سال تک کے بچے شکار ہوتے ہیں۔ ماں کو اگر خوراک نہ ملے تو بچہ پیدائش سے پہلے بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔متاثرہ بچے جہاں مختلف بیماریوں میں گھرے رہتے ہیں وہاں زندگی کے معاملات اور خاص طور پر پڑھائی میں صحیح کارکردگی کا مظاہرہ بھی نہیں کرپاتے ۔ اس Stuntingکا اثرزندگی کے دیگر مراحل پر بھی مختلف بیماریوں اور پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ ناقص کارکردگی کی شکل میں نظر آتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 44فیصد بچے Stunted ہیں۔ وجہ ایک تو وہی غربت اور پسماندگی کہ کئی جگہوں پر کھانے کو کچھ ہی نہیں ۔ خوراک کی قلت سے جسم کو غذا نہیں ملتی جس سے ان بچوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح ماں میں غذا کی کمی، آنے والے بچے کے لئے مسائل پیدا کرتی ہے۔ خوراک کی کمی کے ساتھ ساتھ گندگی اور علاج معالجے کی ناقص سہولیات بھی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

خوراک کی کمی سے ہٹ کر خوراک کی کوالٹی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر کہتی ہے کہ ماں کو کمزوری ہے ، اسے جوس وغیرہ پلائیں۔ اب جوس کے لئے شیشے کی فرج سے ایک ڈبہ نکالا جاتاہے جس پرآم یا سیب کی تصویر بنی ہوتی ہے۔ اب اہم بات یہ ہے کہ اس ڈبے میں موجود مشروب کیا اصلی آم ، سیب، انگور، آڑو، امرود سے بنایا گیا ہے یا سائنس کے کسی کارنامے کا نتیجہ ہے۔

خیر جعلی جوس، جعلی مشروبات، جعلی جام، جعلی کیچپ، جعلی دودھ،جعلی دہی، جعلی آئس کریم، جعلی دودھ کی مٹھائیاں ، جعلی دودھ کی بیکری ، یہ سب مقد ر بن چکا ہے اس قوم کا۔ یہ وہ سب کچھ ہے جو بچے بھی کھاتے ہیں اور بڑے بھی ۔ پھر ملاوٹ شدہ مرچیں، آٹا،مصالحے، دالیں ۔ انسانیت سے گری حرکتیں الگ کہ وہ ایک انسان ہی ہو گا جو گدھے کا گوشت سپلائی کرتا ہے، اور اس شخص میں بھی دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت والا ہی ہو گا جو اسے خریدتا ہے اورپکا کر اپنے ہاتھوں سے انسانوں کو پیش کرتا ہے۔

وہ دور اچھا تھا جب ہم احساسِ کمتری کا شکا رنہیں تھے۔ بچوں کو وہی کھلاتے تھے جو ہم کھاتے تھے، یعنی قدرتی خوراک۔ ماں کا دودھ جس کا کوئی نعم البدل ہی نہیں، اس سے بھاگنے والی عورت کے لئے تو جینا حرام ہو جاتا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو بچے کو روٹی کا ٹکرا پکڑا دیا، تھوڑے چاول پلیٹ میں ڈال کر چھوٹا چمچ ہاتھ میں دے دیا۔ کسی پھل کا ٹکرا پکڑا دیا کہ ہلکا ہلکا چوستا رہے۔ ملک شیک بنا دیا کیلے، سیب ،آم کا۔ کھچڑی پکالی یا دلیا چڑھا لیا ۔ گاجر کا جوس، مالٹے کا جوس، مسمی کا جوس، یہ سب بچوں کو دیتے تھے۔ اب قوم کو ڈرمیں مبتلا کر کے بچوں کو مصنوعی خوراکوں پر لگا دیاگیا۔ خوبصورت پیکنگ میں موجود طرح طرح کی اشیاء اور پھر خوف کے اعلانات اور پھر بلیک میلنگ، سفید پوش کی زندگی اجیرن بنا دی اس مافیا نے ۔ ستم ظریفی کہ نہ صرف اپنی نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ گھر کے معاشی سسٹم کو بھی۔

دودھ ہر گھر کی بنیادی ضرورت تھی۔ گھر میں آٹا چاہے ختم ہو جائے مگر دودھ کے ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ناغہ کرنے پر اگلے دن دودھی کی زندگی حرام بنا دی جاتی۔ روٹی پکے یا نہ پکے، بچے کا فیڈر ضرور بنتا۔اس فیڈ ر میں گائے بھینس، بھیڑ، بکری، اونٹنی وغیرہ کا قدرتی دودھ ہوتا ۔ دودھی ملاوٹ بھی کرتا مگر زیادہ سے زیادہ پانی کی یا برف کی۔ اب اس فیڈر میں بھی زہر بھری جانے لگی یعنی وہ دودھ جس میں گائے بھینس کا تصور ہی نہیں۔ جعلی دودھ یا غیر معیاری پاؤڈر سے بنا دودھ ہمارا اور ہمارے بچوں کا مقد بن گیا۔

Stunted Growthکو روکنا ہے تو دو کام کر لے یہ گورنمنٹ، ایک تو یہ کہ پانچ سال کے لئے فوڈ اتھارٹی عائشہ ممتا زیا اس جیسے کسی افسر کے حوالے کر ے اور اسے فری ہینڈ دے ۔دوسراکام یہ کہ لائیوسٹاک سیکٹر پر توجہ دے۔ فارمولے نہیں بلکہ دودھ، گوشت اور انڈوں کی ضرورت ہے ہمارے بچوں کو اور اس کے لئے کسی بڑے منصوبے کی ضرورت نہیں کہ پہلے سے موجود قدرتی نظام پر صرف توجہ دینی ہے اور اس کی بقا کے لئے اقدامات اٹھانے ہیں۔ حکومت کو لائیوسٹاک سیکٹر کو ترجیح بنانا ہوگا جو کہ بدقسمتی سے کسی بھی حکومت کی کبھی بھی نہیں رہا۔ یاد رکھیں کہ دودھ ہمارے بچوں کی بنیادی خوراک ہے اور Stutnted Growthجیسے مسائل اس وقت تک حل نہیں ہو سکتے جب تک بچوں کو معیاری اور اصلی دودھ فراہم نہیں کیا جائے گا۔ اصلی دودھ کی فراہمی کے لئے بنیاد پر جانا ہو گا اور اس کے لئے باہر سے غیر معیاری سوکھا دودھ جو مختلف طریقوں سے پاکستان میں پہنچتا ہے،اور پاکستان میں مختلف شکلوں میں جو جعلی دودھ تیار ہوتا ہے ، اس پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے پابندی لگانا ہو گی۔ جعلی دودھ کی کمی سے اصلی دودھ کی مانگ میں اضافہ ہوگا، جانور پالنے والے کو حوصلہ ملے گا اور مجموعی طور پر لائیوسٹاک سیکٹر کو تقویت ملے گی۔


ای پیپر