اداروں کے ساتھ ہیں اور ادارے ہمارے ساتھ : فواد چوہدری
07 ستمبر 2018 (13:38) 2018-09-07


اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد احمد چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کے لئے پاک فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے لیکن ابھی تک نئی دہلی حکومت کی جانب سے مثبت جوابی اشارے نہیں ملے، اداروں کے ساتھ ہیں اور ادارے ہمارے ساتھ ہیں ، عمران خان کی پالیسی پاکستان کی پالیسی ہے، ہم بھارت سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں اور ہمیں پاک فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے، وزیراعظم سمجھتے ہیں افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہونا چاہیے اوراب امریکا میں بھی یہ سوچ پیدا ہوئی ہے، اپوزیشن کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ پورا کیا جائے گا۔


برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور فوج دونوں ہی خطہ میں امن کے لئے بھارت سے بات چیت کرنے کے خواہشمند ہیں اور عمران خان نے مذاکرات کے حوالے سے کئی اشارے دیئے لیکن ابھی تک ان کا مثبت جواب ملا۔ انہوں نے وزیراعظم بنتے ہی بھارتی کھلاڑیوں کو دعوت دی۔ انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ نئی دہلی ایک قدم بڑھائے تو ہم دو بڑھائیں گے۔ انھوں نے بھارت کے وزیراعظم سے بات چیت بھی کی لیکن ابھی تک ان کا مثبت جواب نہیں ملا۔وزیراطلاعات نے کہا کہ بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ نریندرا مودی نے جس طرح پاکستان مخالفت پراپنی انتخابی مہم چلائی ہے اب بی جے پی اس سوچ میں پھنسی ہوئی ہے کہ کہیں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے ان کے ووٹرزپرکوئی فرق نہ پڑ جائے۔


انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی کی بھارت کے حوالے سے پالیسی اور گذشتہ حکومت کی پالیسی میں سب سے بڑا فرق یہ ہے۔ اس میں تمام ادارے ایک پیج اور ایک سوچ پر جمع ہیں یہ نوازشریف کی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے۔ماضی میں امریکا اور مغرب کو یہ شکایت تھی کہ پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت الگ الگ باتیں کرتی ہے لیکن اب یہ شکایت دورہوگئی ہے، اداروں کے ساتھ ہیں اور ادارے ہمارے ساتھ ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کوتعلقات میں بہتری کے جواشارے دئیے ہیں اسے فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ ایک ملک اکیلا ترقی نہیں کرتا بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں ۔ اوروہ دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ اگرخطے میں مکمل امن نہیں ہوگا تو سب ہی پیچھے رہ جائیں گے۔


فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان جلد ہی سکھ یاتریوں کے لیے کرتار سنگھ بارڈر کھول دے گا، سکھ یاتریوں کے لیے سرحد کھولنے سے متعلق ایک نظام وضع کیا گیا ہے اور وہ ویزے کے بغیر گرد وارہ دربار صاحب کے درشن کر سکیں گے۔انٹرویو کے دوران فواد چوہدری نے بتایا کہ امریکی وفد سے ملاقاتیں بہت خوشگوار ماحول میں ہوئیں اور وزیراعظم نے انہیں خود بتایا کہ ماحول توقع سے بالکل برعکس تھا، ہماری اور امریکی وفد کی سوچ میں اتنا فرق نہیں تھا جتنا پہلے لگ رہا تھا۔افغانستان میں امن کے حوالے سے وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ عمران خان کسی بھی دوسرے وزیراعظم کی نسبت افغانستان اورپشتون کلچر کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور ان کی مقبولیت بھی کافی مدد گارہوسکتی ہے۔ وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہونا چاہیے اوراب امریکا میں بھی یہ سوچ پیدا ہوئی ہے جو مفید ثابت ہوگی۔


25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے وفاقی وزیرنے کہا کہ وزیراعظم پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ پورا کرنے کی یہ یقین دہانی پہلے ہی کروا چکے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ پورا کیا جائے گا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن اپنے اس مطالبے میں سنجیدہ ہی نہیں ہے اور وہ اس پر زور ہی نہیں دے رہی، لگتا ایسا ہے کہ پی ٹی آئی 11 برس سے حکومت میں ہے، یہ سب میڈیا کی مہربانی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام کی بیداری اور حکومت کے اقدامات پر گہری نظر ملک کے لیے اچھی ثابت ہوگی۔


ای پیپر