” وزیر اعظم کا امتحان یا آزمائش“

07 ستمبر 2018

نواز خان میرانی

آثار یہ بتاتے ہیں کہ لوگوں کی اُمیدیں رنگ لے آئیں گی، اور بزرگوں کی بشارتیں بھی اور غریبوں کے خوابوں کو بھی تعبیر مل جائے گی۔ انشاءاللہ خدا کرے اس دور میں ہو جائے مگر ایک بہت ہی باریک نکتہ ، جس کو شاید حکومت کے اکابرین ، اور تحریک کے نام نہاد معترین شاید سمجھنے سے قاصر ہیں، وہ یہ ہے کہ اقلیت ، اور مرتد میں جو فرق ہے وہ مسلمانوں کے نزدیک تو زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے، اگر یقین نہ آئے، تو ریاست مدینہ سے لے کر قیام پاکستان کی تاریخ کی ورق گردانی کر کے دیکھ لیں، اس مسئلے پہ جنرل اعظم خان کے دُور میں ، جو ابھی کل ہی کی تو بات ہے ، دس ہزار مسلمان شہید ہو کر اپنے خدا کے حضور سرخرو ہو چکے ہیں، اور یہ دس ہزار شہدا صرف لاہور شہر میں اپنا نام اَمر کر گئے ہیں۔
اقلیت میں عیسائی، سکھ ، یہودی غرضیکہ غیر مسلم ہندو، پارسی آتے ہیں، اُن کا تحفظ ہر مسلمان کا بین حکومت وقت کا فرض ہے، لوگوں کا سوال جیسے ہمارے وزیر اطلاعات گول کر جاتے ہیں، اور اُس کی لمبی چوڑی تفصیل بیان کرنے کے باوجود تسلی نہیں کراسکے دَراصل کِسی بھی مسئلے پہ لب کشائی کرنے سے پہلے اُس کی تمام تر تفصیل اور جزویات سے آگہی ضروری ہوتی ہے کوئی انسان عقل کل نہیں ہوتا۔
ریاست مدینہ ، اور صادق اور امین کی جو آج کل اصطلاحات بیدردی سے استعمال کی جا رہی ہیں۔ اور اِسے حکمرانوں سے منسوب کرنے کی روایت قائم کر دی گئی ہے، ہمارے لئے تو ناقابل برداشت ہے، کیونکہ مسلمان جب بھی حضور سے مخاطب ہوتے تو عرض کرتے کہ ہمارے ماں باپ اور آل اولاد آپ پہ قربان ، اور پھر آپ سے عرض پرداز ہوتے تھے،
خواجہ ہمام الدین علاءتبریزی ؒ فرماتے ہیں کہ
ہزار بار بشویم دین بہ مُشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبیت
بہتر تو یہ ہوتا ، کہ ہم حضور کے تربیت یافتہ اور تیار کردہ حکمران حضرت عمر ؓ بن خطاب کا نام لے لیتے حضور کے دور میں بھی منافقین اور مرتد لوگ وجود میں آ گئے تھے، لٰہذا اقلیت تو ہر غیر مسلم کو اور مرتد اُس کو کہتے ہیں کہ جو اسلام قبول کرنے کے بعد یعنی مسلمان ہو جانے کے بعد پھر دوبارہ اپنے سابقہ مذہب پہ چلا جائے یا پھر قادیانیوں کی طرح نیا مذہب ایجاد کرے۔
اب مرتد لوگوں کے ساتھ ریاست مدینہ میں کیا سکوک ہوا، اُس کے مطابق تحریک انصاف اپنا فکر و عمل متعین کر لے، قرآن پاک تو یہاں تک درس دیتا ہے، کہ یہودی اور عیسائی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست ثابت نہیں ہوسکتے، لہٰذا اِن پہ اعتماد نہیں کرنا چاہئے، کیا جمائما اِس حوالے سے قابلِ اعتبار ہے، وقفے وقفے سے ٹویٹ کرنا، یا پیغام بھیجنا اور مبارک باد دے دینا، اس لئے مخلصانہ رویے اور کردار کی غازی نہیں کرتا، کہ جمائمہ کی تصاویر اور چینلز پر غیر مردوں کے ساتھ سرگرمیاں عوام دیکھ چکے ہیں، عمران خان نے اُسے مسلمان بنا کر ہی شادی کی تھی، کیا وہ اب بھی اگر مسلمان ہے، تو انتہائی قابل احترام ہے ، اور اگر مسلمان ہونے کے بعد اُس نے دوبارہ اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے، تو پھر وہ بھی مرتد ہے،
میری وزیر اعظم سے یہ اپیل ہے کہ خدارا وہ اپنے بچوں کی اسلامی تعلیمات کا خیال رکھیں میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پڑھ کر اور سیرت مبارکہ کا مطالعہ کر کے کوئی غیر مسلم بھی مسلمان بننے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اقلیت اور مرتد کا فرق سمجھنے کیلئے عمران خان صاحب کو صرف ، طاہر عبدالرزاق صاحب یا خالد متین صاحب، یا حافظ شفیق الرحمن صاحب اگر یہ بھی نہیں تو حامد میر کی اِس حوالے سے کسی کاوش کو پڑھ لیں، میں اپنا تو نام نہیں لیتا۔
اپنی کابینہ کے ممبران کو بھی اس مسئلے کی طرف دھیان دلائیں اور مسلمانوں اور قادیانیوں کا فرق سمجھائیں، جہانگیر ترین میرے خیال کے مطابق اِس حوالے سے بالکل ہی فارغ ہیں، شاید صرف گوگل میں فواد چودھری کی طرح دیکھ کر جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی لعین و مرتد کے پوتے عاطف میاں، جس کے نام کے بارے میں عمران صاحب بالکل لاعلم تھے، اور سٹیج پہ انہوں نے پیچھے مڑ کر جہانگیر ترین سے اِس بدترین شخص کا نام معلوم کیا تھا، اور پھر بتایا تھا کہ یہ شخص غالباً ہارڈوڈ یونیورسٹی کے دس ٹاپ کے ناموں میں سے ایک ہے، جن کو اقتصادی علوم پہ عبور حاصل ہے، اور میں اِسے وزیر خزانہ بناﺅنگا۔
خدا کیلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والے عمران خان ، پورے ” جل “ کو بچائیں صرف میں حیران نہیں بلکہ میرے ساتھ سینئر کالم نگار جن میں سے ایک کو وزیر اعظم سے دعویٰ دوستی ہے، اور وہ بھی اتنے عرصے سے تحریک انصاف کے لئے قلمی تحریک میں دِل و جان کے معاون و مدد گار رہے ہیں، وہ بھی پریشان ہیں، برادرم توفیق بٹ صاحب نے ” حقِ غلامی رسول “ ادا کر دیا ہے، اور عمران خان کو کبھی غلط مشورہ نہیں دیا۔
دوسرے جناب ہارون الرشید ہیں، جنہوں نے اتالیق خاص کا کردار ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم کی مسند اقتدار پہ قدم قدم پہ راہ نمائی کر کے بلکہ انگلی پکڑ کر خلوص و وفا نبھائی ہے، انہوں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی آنے پہ وزیر اطلاعات کے خلاف علم بغاوت ادا کر کے ” اُمتی “ ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔
میری بھی عمران صاحب سے یہی گذارش ہے، کہ وہ مستند قادیانی عاطف میاں ، کو حکومت میں وزیر یا مشیر رکھنے کی بجائے اپنے اہل ایمان ماہرین معاشیات پہ اعتبار کریں بلکہ اللہ پہ تکیہ کریں، اور اللہ کا نام لے کر اسلامی ممالک سے رجوع کریں، کیا سعودی عرب کے شاہ سلمان ، اور ولی عہد آپ کو پیغام مبارک بادی، اور سرمایہ کاری نہیں دے چکے ، آپ پہلا دورہ افغانستان کرنے کی بجائے حرمین شریفین میں جا کر سجدہ شکر ادا کریں، اور اپنی گذارشات اور مشکلات ان کے حضور پیش کریں اگر ایمان مضبوط ہو، اور توکل اس بلندی اور اوجِ کمال کو پہنچ جائے تو گذارشات کا جواب بھی مِل جاتا ہے، اور مشکلات کا سد باب بھی کر دیا جاتا ہے، اگر جناب حفیط تائب ؒ کی ادھوری حمد و نعت کو اور قصیدہ بردہ شریف کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفیس پورا کرادیتے ہیں اور خود تشریف لا کر نعت شریف مکمل کرا دیتے ہیں، تو اللہ اور اپنے نام پہ بنائے گئے ملک کی حفاظت نعوذ با اللہ نہیں کر سکتے؟ سب کچھ جانتے بوجھتے اور احوال حقیقی سے مکمل آگہی کے باوجود بھی کچھ عناصر حتیٰ کہ بعض لوگوں نے کائنات ارضی پہ بسنے والے انسانوں کا عالمی منشور آخری خطبہ آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل دینے والی ہستی کے خلاف ایسی محاذ آرائی شروع کر دی ہے کہ اُن کے حق مین اٹھے ہوئے ہر قدم کی نہ صرف بھر پور مخالفت کی بلکہ ہر لمحے اور ہر ساعت اور ہر لمحے ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا جال بننے میں صرف کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ ازل سے لیکر ابد تک حق اور سچ کی مخالفت میں اور جھوٹ، مکرو فریب دھوکہ دہی کو ملمع سازی کے مخملی لباس اور غلاف میں لپیٹ کر سادہ لوح عوام کو سیاست کی بھول بھلیوں ، شعبدہ بازیوں کی فتنہ گریوں میں اِس طرح جکڑا جاتا ہے، کہ اصل حقائق کو مسخ کر کے اُسے آئینی لبادہ پہنانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ، اور وہ قانون بے لباس ہو کر سنجیدہ حلقوں اور عالمی تناطر میں سُبکی کا باعث بن جاتا ہے۔ عمران خان اپنی کابینہ کے وزیروں اور مشیروں سے ایک حلف نامے پہ دستخط کروائیں جس میں لکھا جائے کہ میں خاتم النبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پہ مکمل ایمان رکھتا ہوں کہ وہ اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا، میں مزا غلام احمد قادیانی پہ لعنت بھیجتا ہوں۔ اس وقت شاید بعض مسلمانوں کو کو میری یہ بات بُری لگے ، مگر ملعون مرزا، اس کے منہ میں خاک وہ ایسی بکواس کرتا رہا ہے، اور مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد کہتا رہا ہے، میرے پاس اُس کی کتابیں موجود ہیں اور مکمل ثبوت بھی موجود ہیں۔ لہٰذا ارکان پارلیمان اور کابینہ سے دستخط اور انگوٹھے لگوا کر حلف نامے پہ دستخط کرائے جائیں، ایسا نہ کیا گیا تو اللہ خود بدلہ لے گا، وہ بدلہ کِس سے لے گا، اِس کا تعین حکمران خود کریں یا بشریٰ بی بی سے پوچھ لیں۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں