ستمبر کی ایک یاد
07 ستمبر 2018 2018-09-07

مجھے اچھی طرح ےاد ہے کہ ُاس رات ہمارے گھر کے چولہے مےں آگ نہےں جلی تھی۔اس رات ہماری لالٹےن کی روشنی ماند پڑ گئی تھی۔ گاﺅں کے مولوی صاحب مجھے اپنے گھر لے گئے تھے ۔اس رات مےں وہیں سوےا تھا کہ ہمارے گھر مےں اےک ہجوم امڈا ہوا تھا۔ شام ۴بجے ہی سے ہمارے گاﺅں کے ڈےرے پرسبھی انتظار میں تھے۔مےری ماں کو کسی نے بتاےا تھا کہ محاذِ جنگ سے کوئی خبر آنے والی ہے اور پھر اےک فوجی ٹرک ہمارے دروازے کے آگے آرُکا تھا۔۔جس مےں سے فوجی اترے تھے جنہوں نے اےک تابوت اتار کر ہمارے صحن مےں رکھ دےا تھا۔
مجھے اپنے گاﺅں کی شامےں بہت اچھی لگتی تھےں،ان کی ےاد آج بھی مےرے لہو مےں رواں دواں ہے۔شام کے سائے پھےلتے ہی جب تنوروں کا دھواں، ہر گھر سے اوپر اٹھتا دکھائی دےتا تو دُور سے دُھول اُڑاتے موےشی گلے کی گھنٹےاں بجاتے ،گاﺅں مےں داخل ہو اکرتے تھے۔شام کے ملگجی ساےوں مےں دھول اڑاتے چرواہے جب گھروں کو لوٹتے تو شام کے چہرے پر اےک سرخی سی چھاجاتی۔مگر وہ شام تو بے حداداس تھی ۔ےوں لگ رہا تھا جےسے شام نے اپنے بال کھول لےے ہےں اور وہ بےن کر رہی ہے ۔آٹھ ستمبر کی وہ شام مےں اپنی نگاہوں سے کھرچ ہی نہےں سکتا۔گاﺅں کی عورتےں، مےری ماں کے غش کھانے کے بعد اس کے منہ مےں چمچ سے پانی ڈالتی تھےں مگر اس کا دندل نہیں کھلتا تھا،بمشکل ناک پر ہاتھ رکھنے سے وہ ہوش مےں آتی تو دوبارہ بے ہوش ہو جاتی۔اس ہجوم مےںاےک آواز مجھے ےاد آتی ہے،مولوی غلام رسول کی گھر والی ہماری بے جی نے مےری ماں کے سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا،ماں کے سر پر دوپٹہ درست کرتے ہوئے وہ کہہ رہی تھیں : ’ ’شہےدوں کی بےوائےں روتی اچھی نہےں لگتیں ۔ان کی آنکھوں مےں شکر گزاری کے آنسوہوتے ہےں۔تم اےک شہےد کی بیوہ ہی نہیں، شہےد کے بےٹے کی ماں بھی ہو ۔جسے تمہاری آغوش کی ضرورت ہے“۔ اور پھرجوں جوں مےرے شعور کو توانائی ملتی گئی بہت سی باتےں مجھ پر منکشف ہوتی چلی گئیں۔
مجھے اپنے شہےد والد کا صرف چہرہ ےاد ہے، جس پر ہر وقت مسکراہٹ کے پھول کھلے رہتے تھے۔مجھے ان کی آواز ےاد نہےں۔۔مےری دادی نے مجھے بتاےا تھا کہ میرے دادا بھی انگرےزوں کے دور مےں برما کے محاذمےں شہےد ہوئے تھے۔ان کی خواہش تھی کہ اُن کا بےٹا بھی فوج مےں جائے اور اپنی جوانمردی کے جوہر دکھائے ۔دادی نے بتاےا کہ مےری بھی آرزوتھی کہ بےٹا محاذ جنگ پر دشمن کی گولےوں کے آگے سےنہ سپر دکھائی دے۔گولےاں ہی مقدرہوں تو انہیں سےنے سے لگائے اور پھر آٹھ ستمبر کو فوجی جوانوں نے گواہی دی کہ مےرے شہےد والدنے دشمن کا ہر وار اپنے سےنے پر روکا تھا ۔بتاےا گےا کہ انہوں نے اےک رات تن تنہا دشمن کی اےک پوری بٹالےن کو رو کے رکھا اور بالآخر اپنی جان وطن پر نچھاور کر دی۔
اماں بتاتی ہےں کہ ابا فوج مےں بھرتی ہی اس لےے ہوئے تھے تاکہ وہ اپنے شہےد والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاک وطن پر اپنی جا ن قربان کر سکےں ۔ستمبر جب بھی آتا ہے مےرے اندر خون کھولنے لگتا ہے ، مجھے فضاﺅں سے اپنے شہید والد کی خوشبو آتی ہے ،اور مےرا دل بھی وطن عزےز پر نثار ہو نے کو تڑپ تڑپ جاتا ہے۔مےں نے اسی تڑپ کے ہاتھوں ،کھیلنے کودنے کی عمر میں آرمی جائن کی تھی مگر مےری خو ش قسمتی مےرا ساتھ نہ دے سکی ۔مجھے مشرقی پاکستان کے محاذ پر جانا پڑا اور وہےں مےرے سےنے پر اےسا گھاﺅ لگا جس کی کسک آج بھی اپنے سےنے مےں محسوس کرتا ہوں ۔ستمبر سے اکتوبر تک مےں اےک عجےب درد کے حصار مےں رہتا ہوں ۔کاش ڈھاکہ کی سرزمےن مےری متاعِ جاں کا نذرانہ قبول کر لےتی اور مےں والد کے نقش قدم کو چھوتے ہوئے اپنے قبےلے کی رواےت برقرا رکھ سکتا لےکن مجھے ۱۹۷۱ ءکے گھاﺅ نے اندر سے کھوکھلا کر دےا ہے۔مجھے شہادت کے رتبہ کی بجائے ایک جنگی قےدی بننے کی رسوائی ملی ،کئی باردشمن کی قےد سے بھاگنے کی کوشش کی تاکہ آزادی کی جدوجہد مےں ےہ جان کام آجائے اور مےں غلامی کا طوق گلے مےں ڈالے وطن کی سرحد عبور نہ کروں مگر نصےبوںکا لکھا کون ٹال سکتا ہے؟جنگی قےدےوں کی واپسی ہوئی تو ناتواں قدم جسم کا ساتھ نہےں دےتے تھے ۔مےں پشےمانی کا بوجھ اٹھائے وطن کی سرزمےن پر قدم نہیں رکھنا چاہتا تھامگر اب مےں کسی کو کےا بتاﺅں کہ ستمبر اور اکتوبر مےرے لےے بےک وقت احساس ِتفاخر اور احساسِ ندامت ساتھ لاتا ہے۔زندگی اللہ تعالیٰ کی دےن ہے مگر میں اسے وطنِ عزےز کی امانت سمجھتا ہوں مگر مےرے بھاگ مےں سرخرو ہونا نہیں تھا۔مےں محاذِ جنگ سے ناکام لوٹا، میری زندگی مےرے وطن کے کام نہ آسکی، مےں تاحال سسک رہا ہوں، کاش مےں اپنے دادا اور والد کی طرح اپنے پاک وطن پر قربان ہو سکتا تو مےری ماں بھی فخر سے کہہ سکتی
اے پُتر ہٹاں تے نئیں وِکدے
کاش مےرے گاﺅں مےں مےرے قبےلے کے جوانوں کے سر اےک بار پھر بلند ہو سکتے، اےک بار پھر فوجی ٹرک ہمارے ڈےرے پر آرُکتا تو فضاﺅں مےں شہادت کے لہو کی خوشبو سراےت کر جاتی ۔لےکن اب ہمارے گاﺅں مےں اےک مدت سے کسی شہےد کی لاش نہیں آئی ۔گاﺅں کے قبرستان کے پےڑ، پیلی سرسوں، اورپھلاہےوں کے پھول، وطن کے شہےدوں کی راہ دےکھ رہے ہےں ۔مےں بھی دُور سے آتے ہوئے فوجی ٹرکوں کو حسرت سے دےکھتا ہوں ۔راستوں کی دُھول سے سرسوں کے پھول اٹ چکے ہےں۔گاﺅں کی منڈےروں پر گہری شام ہاتھوں مےں ستاروں کے دئےے لےے ،دُور فضا مےں ٹکٹکی باندھے دےکھ رہی ہے۔ستمبر اےک بار پھر طلوع ہو رہا ہے۔ سرحد پر بزدل دشمن ہمیں گھوُرتا رہتا ہے اور مےرے دل کی دھڑکنوں مےں پھر اےکبار وہی گےت گونج رہا ہے :
اے راہِ حق کے شہےدو وفا کی تصوےرو
تمہےں وطن کی ہوائےں سلام کہتی ہےں
اب فضا مےں اےک سکوت طاری تھا۔صوبےدار گُل محمد کی داڑھی آنسوﺅں سے تر ہو چکی تھی۔مےں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تو جےسے وہ چونک گےا ۔اُس نے اپنے کاندھے کے پٹکے سے اپنا بھےگا ہوا چہرہ خشک کےا اور بولا : ”صاحب معافی چاہتا ہوں نجانے کہاں پہنچا ہوا تھا ،نجانے جذبات مےں کےا کےا باتےں کرتا رہا۔سچی بات ےہ ہے کہ اب ےہ زندگی اےک بوجھ سی لگتی ہے۔اب تو بھارت ہمیں للکار تا ہے اور ہم امن اور دوستی کی باتیں کر رہے ہیں۔کےا ہم لوگ اپنے لہو سے ستمبر کو نکال سکتے ہےں ۔کم ازکم ہم تو نہےں نکال سکتے ۔صاحب بتائےں ہم دشمن کے ساتھ بےٹھ کر کےسے مسکرا سکتے ہےں؟ہمارے جنگی قےدےوں کے ساتھ دشمن نے جو سلوک کےا وہ فراموش کےا جا سکتا ہے ؟


ای پیپر