file photo

ہر سال شادی رچانے والے بادشاہ سے متعلق حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں
07 اکتوبر 2020 (13:47) 2020-10-07

سوازی لینڈ: افریقی ملک سوازی لینڈ کے بادشاہ ہر سال نئی شادی رچانے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے محل میں اس وقت 14 ملکائیں موجود ہیں۔ شادی کی تقریب ہر سال منعقد ہوتی ہے جس میں ریاست بھر سے لڑکیاں شرکت کرتی ہیں۔ جو لڑکی بادشاہ کو پسند آجائے، اس کی قسمت کھل جاتی ہے۔

ہر سال شادیاں رچانے والے اس بادشاہ کا نام راجہ مسواتی ترتیے ہے۔ اس کا ملک سوازی لینڈ جنوبی افریقہ سے متصل ہے۔ خبریں ہیں کہ اپنی شادیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور راجہ مسواتی نے ایک شاہی فرمان جاری کر رکھا ہے جس میں تمام شہریوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ پانچ شادیاں کریں، اس حکم کو نہ ماننے والوں کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ سوازی لینڈ کا بادشاہ مسواتی اب تک 15 شادیاں کر چکا ہے لیکن اب اس کے محل میں 14 ملکائیں موجود ہیں کیونکہ اس کی ایک بیوی نے گزشتہ سال مبینہ طور پر خود کشی کرلی تھی۔ گزشتہ سال ریاست کی کئی لڑکیوں نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن حکم عدولی پر اور پریڈ میں شرکت نہ کرنے پر انھیں سزا کے طور پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

بادشاہ مسواتی کی پندرہ بیویوں میں سے 23 بچے ہیں اور اس کا شاہی محل دارالحکومت سوازیہ لوبامبا میں کئی میل پر پھیلا ہوا ہے۔ مسواتی نے انگلینڈ سے تعلیم حاصل کی اور 1986ء میں ان کے والد کی وفات کے بعد انہیں مملکت کا بادشاہ مقرر کیا گیا۔ اس وقت مسواتی کی عمر محض چودہ سال تھی۔

2002 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسواتی اور اس کے ایجنٹوں پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام عائد کیا تھا۔ انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا تھا کہ سوازی لینڈ کے بادشاہ نے ایک 18 سالہ لڑکی زینا ماھلانگو کو سکول سے اغوا کیا اور اس کے ساتھ زبردستی شادی کر لی تھی۔ بچی کے والدین اپنی لخت جگر کا مقدمہ بھی نہیں لڑ سکے۔

2011 میں وہی لڑکی کیٹ میڈلٹن کی شادی کی تقریب میں مسواتی کے ہمراہ دیکھی گئی تھی۔ بادشاہ نے ایک حالیہ شادی اپنے ایک وزیر کی انیس سالہ بیٹی سیفیلی ماشواماما کے ساتھ رچائی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بادشاہ مسواتی کی جس اہلیہ نے خود کشی کی اس کا نام مسانگو تھا جو کچھ عرصے سے سخت نفسیاتی دباؤ اور ڈیپریشن کا شکار تھیں۔ مسواتی نے 2000ء میں مسانگو سے شادی کی۔ اس وقت خاتون کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ اس کا انتخاب بادشاہ کے سامنے پیش کی گئی لڑکیوں میں سے کیا گیا تھا۔ بادشاہ سے اس کے بطن سے دو بچے بھی ہیں۔


ای پیپر