سودوزیاں کا احساس
07 اکتوبر 2020 (13:09) 2020-10-07

پاکستان سے اکثر نالاں رہنے والے اشرف غنی کچھ عرصہ سے ناراضگی کا اظہار کرنے میں نہ صرف محتاط ہیں بلکہ امن کے حوالہ سے پاکستانی کردار کے معترف ہیں اسی طرح عبداللہ عبداللہ کے لہجے میں تبدیلی نمایاں ہے حکومتی سطح پر تلخی کا خاتمہ دیرپا ہواتو کئی دہائیوں سے اُتار چڑھاؤ کاشکار پاک افغان مراسم پردوستانہ رنگ نمایاں ہوجائے گا افغان قیادت میں یہ تبدیلی کیوں آئی سمجھنا کوئی مشکل نہیں مستقبل کے سیاسی سیٹ اَپ میں کردار کی مانگ واضح نظر آتی ہے اب تو امریکہ بھی طالبان کو تشدد میں کمی لانے اور مذاکرات پر آمادہ کرنے کا اعتراف کرنے لگا اور کچھ عرصہ سے ڈومور کا تقاضا کرنا بھول گیا ہے جس سے افغان امن کے حوالے سے پاکستان کا کردار بڑھ گیا ہے اگر افغانستان میں بھارتی کردار کی وسعت پر امریکہ بضد نہ ہوتو علاقے سے عسکریت پسندی کا خاتمہ اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔

پاکستان اب افغانستان سے فوری فوجی انخلا کی مخالفت کر رہا ہے حالانکہ غیر ملکی افواج کو نکالنے کے لیے پاکستان نے ڈھیروں نقصان اُٹھایا ہزاروں جانیں گئیں کھربوں کی املاک تباہ ہوئیں مگرپاکستان کے موقف میں نرمی پیدا نہ ہوئی بلکہ افغانوں کو خود اپنے نمائندوں کا انتخاب اور مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کی بات کی اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ افغان حکومت اور پاکستان کا موقف ایک ہوگیا ہے دونوں ہی چاہتے ہیں کہ سیاسی حل کے بغیر غیر ملکی افواج کا انخلامناسب نہیں یہ تبدیلی کیوں آئی اور وجوہات کیا ہیں؟سمجھنا اور جاننا بہت آسان ہے۔

افغان حکومت حالات کے تغیروتبدل سے کافی پریشان ہے قبل ازیں جب بھی طالبان سے مصالحت کی بات ہوئی امریکہ آڑے آجاتا اور دہشت گردی کا الزام لگا نے لگتا جس کی بنا پر طالبان کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کی بات ختم کردی جاتی مگر اب امریکیوں نے خود طالبان سے امن معاہدہ کرلیا ہے جس سے افغان حکومت کی حیثیت بہت کمزور نظر آنے لگی ہے اشرف غنی کٹی پتنگ کی طرح بے یارومددگار ہوتے دکھائی دینے لگے ہیں اور یہ خطرہ منڈلانے لگا ہے کہ کسی وقت بھی طالبان کابل پر چڑھائی کر سکتے ہیں کیونکہ امن معاہدہ ہونے اور سیاسی عمل میں شرکت کے لیے جاری مذاکرات کے باوجود طالبان نے مسلح جدوجہد ترک نہیں کی بلکہ وہ پوری قوت سے حکومتی اِداروں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جواب میں فضائیہ کو استعمال کرنے کے باوجود اشرف غنی حکومت حملوں میں کمی نہیں لاسکی یہ صورتحال بہت پریشان کُن ہے اسی لیے کسی نہ کسی طرح غیر ملکی افواج کو کچھ عرصہ مزید روکنے کی آرزومندہے مگر امریکی اب رُکنے یا امن عمل میں کردارادا کرنے کے متمنی نہیں وہ جلد از جلد افغان سرزمین ایسی حالت میں چھوڑنا چاہتے ہیں جس میں تشدد اور جنگ وجدل کے آثار مکمل طور پر معدوم نہ ہوں۔ چین کی وسعت پاتی معیشت کی صورت میں پُرامن افغانستان اُس کی ضرورت نہیں بلکہ بدامنی کی آگ میں جلتایہ ملک زیادہ سود مند ہے وجہ یہ ہے کہ اگر افغانستان میں امن بحال ہوجاتا ہے اور کاروباری سرگرمیاں شروع ہوتی ہیں تو یہ حالات چین کی ضرورت کے عین مطابق ہونگے اور اِس صورت میں 

چین کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک  آسان رسائی مل سکتی ہے جو اُس کی معیشت کی بہتری میں ممدومعاون ہوگی مگر افغانستان میں انتشار و بدامنی کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکے گا یوں اُس کی معاشی سرگرمیاں محدود کی جاسکیں گی اِس لیے امریکہ چاہتا ہے کہ خطے میں سیاسی عمل مستحکم کیے بغیر ہی کوچ کیا جائے کیونکہ اِس صورت میں اُسے یقین ہے کہ پختون،ازبک،ہزارے اور تاجک برسرِ پیکار رہیں گے جس کے نتیجہ میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ نہیں ملے گا یوں چین کی وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کی آرزوپوری نہیں ہو گی۔

پاکستان اور چین میں دوستی بہت ہی قریبی ہے موجودہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان چین جیسے تزویراتی اتحادی پربہت تکیہ کرنے لگا ہے وزیرِ اعظم عمران خان جو ہمیشہ افغان جنگ میں شرکت کے ناقد رہے اور غیر ملکی افواج کی موجودگی کو ہدفِ تنقید بناتے رہے اب وہ بھی جلد فوجی انخلا کو اچھا نہیں سمجھتے اور چاہتے ہیں کہ جب تک تمام افغان دھڑوں کو اکٹھا اور شریکِ اقتدار کاطریقہ کار طے نہ کرلیاجائے اور اقتدار میں شرکت کا فارمولا طے نہ ہو غیر ملکی افواج موجود رہیں یہ سوچ یا خواہش چین کی ہے جس کا اظہار پاکستان کی طرف سے ہورہا ہے کچھ عرصہ قبل پاک افغان تلخیوں میں بہت اضافہ ہوگیا تھا یہاں تک کہ امرتسر میں فرینڈز آف افغانستان کے دوران پاکستان کی طرف سے اعلان کی گئی امداد بھی رَد کر دی گئی لیکن اب پاک افغان حکومتیں ایک پیج پر ہیں اوراربوں کی سرمایہ کاری کے باجود نا صرف ہندوستان بے وقعت ہوتا جا رہا ہے بلکہ بھارتی کردار بھی محدود ہو رہا ہے جبکہ چین،پاکستان اور افغانستا ن مشترکہ مقاصد کے حصول کی خاطر ایک نظر آتے ہیں عبداللہ عبداللہ جیسا شخص ناصرف پاکستان کا دورہ مکمل کر گیا ہے بلکہ پاکستانی کردار کا معترف بھی نظرآنے لگا ہے حالات نے ایسا پلٹا کھایا ہے کہ افغانوں کو شدت پسندوں سے آزادکرانے کا دعویدارامریکہ اب فرار کی راہیں تلاش کر رہا ہے لیکن جنہیں افغان حکومت شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی وہ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے اور امن لانے کے لیے صمیمِ قلب سے تعاون پر آمادہ وتیار ہیں اسی بنا پر اشرف غنی سمیت عبداللہ عبداللہ جیسے لوگ پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھنے لگے ہیں اگر بھارت و افغان ایجنسیاں مشترکہ دہشت گردی کے منصوبے ترک کردیں تو جنگ زدہ افغانستان نہ صرف ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے بلکہ خطے میں معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

اشرف غنی کی سوچ میں تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ وہ  ایک ایسا کردار ہیں جو امن بحال ہونے کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ پختونوں کی نمائندگی کرتے ہیں جب کہ طالبان بھی پختون بیلٹ سے تعلق رکھتے ہیں اگر توقعات کے مطابق امن بحال ہوجاتا ہے تو اُن کا کردار ختم ہوجائے گا نا صرف چینی معیشت کے لیے فضا سازگار ہوجائے گی بلکہ اقتدار میں پختون حصے کاکردار بھی طالبان کے حصے میں آجائے گااشرف غنی چاہتے ہیں کہ ایساطریقہ کار بنایا جائے کہ مستقبل کے حکومتی سیٹ اَپ میں بھی اُن کا کردارہو ایسی یقین دہانی کے بغیروہ طالبان کو شریکِ اقتدار نہیں کرنا چاہتے این ڈی ایس کی را کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں اسی لیے شدت پیدا کی گئی ہے کہ فوری انخلا کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے وگرنہ خطے میں طویل عرصہ کے لیے بدامنی نوشتہ دیوار ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ ایسی حرکتوں سے اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے گاچاہے افغانستان کو شدت پسندوں کا دوبارہ مرکز بننے کا خدشہ ہی کیوں نہ ظاہر کیا جائے امریکی چین کے لیے سازگار فضا بنانے کے بجائے انتشار کا شکار افغانستان کو ترجیح دیں گے۔

اشرف غنی اور عمران خان اگر اغیار کے آگے دستِ سوال دراز کرنے کے بجائے دونوں ممالک میں تعاون کی راہیں تلاش کریں اور باہمی تجارت میں اضافہ کریں تو یہ صورتحال دونوں ممالک کے لیے زیادہ بہتر ہے اور اس صورت میں چین کا تعاون بھی مل سکتا ہے این ڈی ایس کی طرف سے پاکستانی اِداروں پر حملے کرانے سے اشرف غنی کا بھلا نہیں ہو سکتا اب اگر عبداللہ عبداللہ جیسا شخص پاکستان کے خلوص پر ایمان لے آیا ہے تو اشرف غنی کو بھی طرزِ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی امریکی انخلا تو نوشتہ دیوار ہے تو کیا یہ بہتر نہیں گھر میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے ہزاروں دور کلومیٹر کا پانی لانے کے بجائے ہمسائے کا تعاون حاصل کر لیا جائے جس میں دونوں ممالک کے ساتھ پورے خطے کی بھلائی پنہاں ہے شرط یہ ہے کہ سودوزیاں کا حساب کتاب کرتے وقت اقتدار کی ہوس چھوڑکر افغان قوم کا مفاد پیشِ نظر رکھاجائے وگرنہ احساس یا حساب کتاب درست نہیں ہو سکتا۔


ای پیپر