جمہوریت سے وفاداری کا حلف بھی
07 اکتوبر 2020 (13:01) 2020-10-07

ابھی بہت سی جگہوں پر بندروں کا راج تھا۔ کہیں کہیں انسانی تہذیبیں پھوٹ رہی تھیں مگر حکمرانی کے طور طریقے اور قانون جنگل والے ہی تھے۔ جو زیادہ طاقتور ہوتا وہی بادشاہ کہلاتا اور اس وقت تک تخت پر قابض رہتا جب تک کوئی اس سے زیادہ طاقتور پیدا نہ ہو جاتا۔ عام انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہ تھا۔ دونوں کو قابو کرکے اپنے کام کے لیے استعمال کیا جاتا۔ یہ منظر تقریباً پانچ سو سال قبل مسیح کا ہے مگر اُس جنگلی دور میں بھی یونان والے عام لوگوں کو کاروبار حکومت میں شامل کرنے میں بہت آگے جاچکے تھے۔ وہا ں کا ہرشہر خودمختار جمہوری شہر تھا لیکن شہر ایتھنز کے جمہوری رنگ ہی نرالے تھے۔ ایتھنز والوں نے اپنے شہرکو دس حصوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ ہرحصے سے پچاس افراد منتخب کیے جاتے اور پانچ سو افراد پر مشتمل پبلک اسمبلی ایتھنز کا کاروبار حکومت چلاتی۔ مذہبی رہنما، جج اور بیوروکریٹ بھی ایسے ہی منتخب کیے جاتے۔ پبلک اسمبلی باہر سے آنے والے سفارت کاروں کی بات سنتی اور اپنا ردعمل دیتی۔ پبلک اسمبلی ہی جرنیلوں کا انتخاب کرکے انہیں مختلف محاذوں پر روانہ کرتی۔ پبلک اسمبلی کے انتخاب کے لیے انہوں نے جو طریقہ کار اختیار کررکھا تھا اسے آج بھی جمہوریت کی بلندی کہا جاسکتا ہے۔ وہ حلقے کے تمام اہل افراد کے ناموں کولکھ کر بڑے سے ہیٹ میں ڈال دیتے پھر اس میں سے پچاس نام اٹھا لیتے۔ یوں لاٹری کے ذریعے وہ اپنے نمائندے منتخب کرتے۔ جو ایک مرتبہ پبلک اسمبلی کا رکن بن جاتا وہ دوبارہ لاٹری میں شامل نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ ان کا فلسفہ تھا کہ ہرشخص کو حکومتی کاموں میں ہاتھ بٹانا چاہیے۔ اس طرح روٹیشن کے ذریعے ایتھنز کا ہرفرد اپنی باری آنے پر حکومت میں ضرور شامل ہوتا۔ جو شخص انتخابات میں حصہ لینے سے گریز کرتا وہ اسے Idiotes کہتے تھے۔ انگریزی کا موجودہ لفظ Idiot اسی سے بنا ہے۔ پبلک اسمبلی ایک خاص مدت تک کام کرتی، اس کے بعد دوبارہ پھر انتخابات کا عمل شروع ہو جاتا۔ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ ایک شخص یا ایک گروہ کا کسی بااختیار عہدے پر مستقل موجود رہنا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسی لیے وہ ایکسٹنشن اور مڈٹرم انتخابات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ لہٰذا وہ لاٹری، روٹیشن اور اسمبلی کی مدت پر سختی سے عمل کرتے۔ یوں ایتھنز کے بڑھئی، کسان اور لکڑہارے بھی حکومتی عہدیدار ہوتے۔ ایتھنز والے عام لوگوں کو اسمبلیوں میں لاتے مگر اسمبلی کی کارروائی کے دوران ارکان کی طرف سے کسی قسم کی نان سینس 

برداشت نہ کرتے۔ ان کے ہاں پارلیمنٹ کے سنجیدہ کاموں میں غیرسنجیدگی کی سزا بہت سخت تھی۔ ایتھنز والے اپنے جمہوری نظام کو بچانے کے لیے صدیوں تک لڑتے رہے۔ کئی مرتبہ وہ بیرونی دشمن سے جنگ کررہے ہوتے تو ملک کے اندر موجود مفاد پرست، اعلیٰ طبقہ اور امیر لوگ جمہوری نظام کو ختم کرنے کی کوشش کرتے کیونکہ یہ اشرافیہ عام لوگوں کو حکومت چلانے کے قابل نہیں سمجھتے تھے لیکن وہ کامیاب نہ ہوتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایتھنز والوں نے وطن اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے ایک حلف تیار کررکھا تھا جس کے الفاظ کا مفہوم یہ تھا ”میں اس شخص کو مار دوں گا جو ایتھنز میں جمہوریت کو لپیٹنے کی کوشش کرے گا اور اس شخص کو بھی جو جمہوریت کو ہٹانے کے بعد اس کی جگہ خود کوئی بھی عہدہ سنبھالے گا یا اس شخص کو بھی جس نے جمہوریت کا تختہ الٹنے میں کسی قسم کی مدد کی ہوگی۔ اگر میری جگہ کوئی اور شخص جمہوریت کے دشمنوں کو مارے گا تو وہ میرے نزدیک اتنا ہی پاک اور مقدس ہوگا جتنے ہمارے دیوتا ہیں کیونکہ اس شخص نے دراصل ایتھنز کے دشمنوں کو ختم کیا ہوگا۔ میں اس بات کی قسم کھاتا ہوں اور اپنے عمل اور ووٹ کے ذریعے اس بات کا پابند رہوں گا کہ جمہوریت کے دشمنوں کی جائیداد کو بیچ کر اس کا آدھا حصہ اس شخص کو دوں گا جس نے انہیں ختم کیا ہوگا اور آدھا حصہ خزانے میں جمع کراؤں گا، اپنے پاس کچھ نہ رکھوں گا۔ اگر کوئی شخص جمہوریت کے دشمنوں سے لڑتا ہوا خود شہید ہوجاتا ہے تو میں اس کے گھر والوں اور اس کے بچوں کے ساتھ انتہائی مہربان رہوں گا“۔ ایتھنز کے لوگ یہ حلف باربار دہراتے رہتے۔ خاص طور پر جب ان کا مقدس فیسٹیول آتا تو سب مل کر یہ حلف اونچی آواز میں پڑھتے۔ بیسویں صدی میں ویسٹ انڈیز کی آزادی کے علمبردار، فکشن رائٹر، مفکر اور ممتاز مؤرخ سی آر ایل جیمز قدیم یونان میں جمہوریت اور موجودہ دور میں اس کے مفہوم کے حوالے سے اپنی شہرہئ آفاق کتاب Every Cook Can Govern میں لکھتے ہیں ”ایتھنز والوں کا یہ فلسفہ کہ ہرشخص حکومت میں شامل ہوسکتا ہے بہت ہی حیران کن اور جادوئی تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج برطانوی پارلیمنٹ میں جوممبر بیٹھے ہیں اور جو بیوروکریٹ دفتروں میں موجود ہیں وہ کوئی ایسا کام نہیں کررہے جو پارلیمنٹ اور دفتروں سے باہر ایک عام آدمی نہ کرسکتا ہو“۔ اکیسویں صدی کے پاکستان میں جمہوریت کو بچانے اور حکومتی اداروں سے کرپشن ختم کرنے کے لیے بہت سے دعوے اور کوششیں ہورہی ہیں۔ اگر ہم ایتھنز والوں کی تقلید میں صرف تین کام کرسکیں تو ہماری مذکورہ کوششیں ثمرآور ہوسکتی ہیں۔ 1)کاروبار حکومت میں عام لوگ اُس وقت شریک ہوسکتے ہیں جب کسی بھی فردکو زیادہ سے زیادہ دومرتبہ پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کی اجازت ہو کیونکہ اگر ا سمبلی کا رکن منتخب ہونا ہرشہری کا بنیادی حق ہے تو کسی فرد کا باربار اسمبلی رکن بننا بھی دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق کی عین حق تلفی ہے۔(مگر برطانیہ میں جس کی اوپر محترم کالم نگار نے مثال دی ہے کسی رکن پر زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ کی پابندی نہیں ہے(ادارہ)۔ 2)عموماً اہم سرکاری عہدے تعلقات کی بنیاد پر حاصل کیے جاتے ہیں۔ عہدہ ملنے کے بعد اختیارات کا استعمال کرکے تعلقات میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے۔ سرکاری محکموں کو کارآمد بنانے کے لیے اہم عہدوں پر کسی مخصوص فردکو طویل مدت تک فائز نہ رکھا جائے۔ 3) جمہوریت سے وفاداری کا حلف تیار کرکے تمام درسی کتب میں قومی ترانے کے ساتھ شائع کیا جائے اور میڈیا پر بھی اس کی باربار تشہیر ہوتی رہے تاکہ آئین پاکستان کے ہمراہ پاکستان کا بچہ بچہ بھی جمہوریت کی حفاظت کا سپاہی ہو۔


ای پیپر