آزادی ِاظہار،ابلیس اور صاحبان ِفن
07 اکتوبر 2020 (12:57) 2020-10-07

لفظ کی حرمت اور ابلاغ……گزشتہ سے پیوستہ…… جب یہ کہاجاتاہے کہ زبان، لفظوں کی جانچ پرکھ کے بعد انھیں معرض اظہارمیں لاتی ہے تو فوراً یہ خیال آزادی اظہارکے معروف تصورسے ٹکراتادکھائی دیتاہے۔ آزادی اظہارکا تصوربہ ظاہر بڑاپرکشش ہے لیکن ہمارے ہاں علامہ اقبال نے اس پر بڑا بلیغ تبصرہ کردیاہے جنھوں نے اس موضوع پر دونظمیں لکھی ہیں۔انھوں نے کہاہے کہ”ہوفکراگرخام تو آزادیِ افکار+انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ“……یعنی پہلے خیال کو پختہ ہونے کا موقع ملناچاہیے، اظہارکا عمل اس کے بعد آتاہے اور جو لوگ فکروتدبرکا سلیقہ نہیں رکھتے ان کی آزادی افکاریا آزادی اظہارانھیں تباہی کے دہانے پر لے جاتی ہے۔بہت سے خیالات فکروتدبرکے نتیجے میں خودہی دم توڑ جاتے ہیں انھیں معرض اظہارمیں لانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی،جس طرح ہر شخص راہ نمانہیں ہوسکتااسی طرح ہر خیال اظہار کے قابل نہیں ہوتا 

ہر سینہ نشیمن نہیں جبریل ِامیں کا

ہر فکر نہیں طائر فردوس کا صیاد

 تو اگر آزادی اظہارکامطلب یہ لیاجائے کہ جومیرے دل میں ہے میں کہہ دوں تو اس کانتیجہ کیاہوگا۔ وہی اس فلسفی کاقول کہ فی الفور پاگل قرارپاؤں۔ توآج کے صحافی کو اس پر غورکرنا ہے کہ وہ تذکیر خیال کررہاہے یا پاگل پن کامظاہرہ کررہاہے۔ اس کا کام تذکیر خیال ہے، Purification of your ideas ہے۔ حدیث کی روسے انسان کی انتہائی بابرکت شے اور انتہائی منحوس شے ایک ہی ہے اور وہ اس کی زبان ہے……ایمَنُ اَمرِی وَاَشاَمُہُ…… اس لیے اس کی حفاظت ضروری ہے اسے غیرضروری استعمال نہ کیاجائے بال کی کھال نہ اتاری جائے ایسے موضوعات پر بحث میں نہ الجھاجائے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔گفتگومیں بے احتیاطی کرنے والو ں (یَتَشَدَّقُونَ فِی الکَلَامِ) کوشِرَارُ اُمَّتِی  امت کے بدترین لوگ کہاگیاہے۔بات یہاں تک بھی محدودنہیں، قرآن نے ایک جگہ جہنمیوں سے مکالمہ نقل کرتے ہوئے بتایاہے کہ جب ان سے پوچھاجائے گاکہ تمھیں کیاشے یہاں تک لے آئی توجہاں وہ اپنے نمازنہ پڑھنے اور مسکینوں کو کھانانہ کھلانے کا اعتراف کریں گے وہاں یہ بھی کہیں گے کہ ہم بے ہودہ بحث کرنے والوں کے ساتھ مل کر بحث مباحثہ کیاکرتے تھے ……کُنّانَخُوضُ مَعَ الخاءِضِینَ…… حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے۔

جہاں تک مصنوعات (پراڈکٹ) بیچنے کا تعلق ہے یہ کام کہاں سے شروع ہوا کہ آپ اپنی پراڈکٹ کے لیے خوبیوں کااشتہارلگائیں اور دوسروں کو Attract کریں اور ان کے شعورکوخوابیدہ کریں،اپنی پراڈکٹ بیچنے کے لیے ان کے احساسِ تمیز کو سلائیں تاکہ وہ اپنے شعور سے فیصلہ نہ کریں،آپ کے پروپیگنڈے کی روشنی میں فیصلہ کریں۔ یہ کام کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ یہ کام وہاں سے شروع ہوا جب آدم سے کہا گیا کہ وہ جو درخت ہے، جس سے منع کیا گیا ہے وہ بڑا مزیدار ہے، وہ بہت اچھا ہے،تمھیں پتا ہی نہیں اس کی لذت کا کہ کیسی ہے۔ یہ کمرشلزم وہاں سے شروع ہوا۔ Attraction پیدا کی گئی اس کے لیے، اس کا promo چلایا گیا۔ کہاگیا کہ وہ شجر جو ہے وہ شجرۃ الخلد ہے، اگر تم وہ کھالو گے توپھر تو تمھیں َمُلْکٍ لَّا یَبْلَیٰ یعنی لازوال بادشاہت مل جائے گی  ہَلْ أَدُلُّکَ عَلَی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلَی   تو اس کی خوبیاں بیان کی گئیں۔ اورآدم کی قوتِ فیصلہ کو روک کر اپنے پروپیگنڈے کی مدد سے اسے وہاں لے جایاگیا۔ اور اس کانتیجہ کیانکلا۔ نتیجہ بلندی سے پستی نکلا۔قَالَ اہْبِطَا مِنْہَا جَمِیْعاً بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ  فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ تم میں سے بعض،بعض کے دشمن ہوجائیں گے(۲۰:۱۲۰) 

چون بہ امراھبطوا بندی شدند

حبس خشم و حرص و خرسندی شدند

جب آپ”اھبطوا“کے حکم کے نتیجے میں نیچے اترآئے تو اس وجودجسمانی اور اس کے مقتضیات میں قیدہوگئے یعنی غصہ، لالچ، ہواہائے نفسانی وغیرہ آپ کا مقدرٹھہرے۔یہ مولاناروم کا کلام ہے اقبال نے کہاکہ    ؎

گو فکر خداداد سے روشن ہے زمانہ 

آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد

 تو جب آپ لوگوں کے شعور کو سلاتے ہیں اور اپنی رائے کو impose کرتے ہیں ان کے اوپر تو آپ بلندی سے پستی پہ لاتے ہیں۔ کیا  میڈیا کا یہی کام ہونا چاہیے؟  وہ لوگوں کے احساس تمیز کو سلائے کہ وہ چیزوں کے اندر فرق نہ کر سکیں، امتیاز نہ کرسکیں۔ قرآن نے اپنے آپ کو جس لفظ سے تعبیر کیا ہے وہ کیا ہے؟ قرآن نے اپنے آپ کو”فرقان“ کہا ہے۔ فرقان کا کیامطلب ہے؟ Differentiate کرنے والا۔ فرق بتانے والا۔ خودکوکسی پر مسلط(impose)نہیں کیا ہے۔ اس نے کہا ھدی للمتقین۔ ہدایت ہے تقوے والوں کے لیے۔جس کا دل چاہے لے لے۔ وہ فرقان ہے Differentiate کر کے بتاتاہے۔ اور Differentiate کون کرتا ہے۔ Differentiation صاحبِ فن کرتا ہے۔ دیکھیے جب حضرت موسیٰ  ؑنے فرعون کے دربار میں اپنی دعوت پیش کی تو اس نے کہا کہ یوم الزینہ کو آجاؤ۔  مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ وَأَن یُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًیغالباً یوم الزینہ، ان کی عید کا دن تھا، اب بھی ہوتی ہے۔عید شم النسیم اسے کہتے ہیں،ایک خوشگوار دن ہوتاہے،میراخیال ہے کہ یہی دن مقررکیاہوگا۔ توکہاکہ اس دن آجانا دیکھ لیں گے…… اس دن سب آگئے۔جادوگروں نے اپنی رسیاں پھینکیں۔ ان کی رسیوں کے سانپ بن گئے۔اب مقابلے کے لیے 

پیغمبرؑ نے اپنا عصا پھینکا،وہ اژدہا بن گیا اور سب سانپوں کو چٹ کرگیا اور اب جب انھوں نے واپس اٹھایا تو وہ عصا بن گیا۔

 وہ جادوگر جو تھے انھوں نے اسی لمحے فیصلہ کیا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔وہ وہیں سجدے میں گر پڑے اور ہارونؑ اور موسیٰ  ؑکے رب پر ایمان لے آئے فَأُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّداً قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ ہَارُونَ وَمُوسَی۔ فرعون نے کہاکہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان لے آئے؟میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گاتاکہ تمھیں پتہ چلے کہ کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہےَ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَیْْدِیَکُمْ وَأَرْجُلَکُم مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّکُمْ فِیْ جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَاباً وَأَبْقَی۔ مطلب یہ کہ بالکل بیکار کردوں گا تمھیں۔ تم میری اجازت کے بغیر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے۔ وہ تو فرعون کے ملازم تھے،اس کی حمایت میں آئے تھے تو وہ آناً فاناً کیسے تبدیل ہوگئے؟کیسے ایمان لے آئے؟ وجہ یہ تھی کہ وہ صاحبانِ فن تھے اور انھوں نے دیکھ لیا،ممیزکرلیا تھاکہ یہ جادو نہیں ہے۔وہ اپنے فن کو جانتے تھے۔ انھیں پتا تھا کہ جو ہم نے کیا ہے وہ جادوہے اور وہ جو ایک لاٹھی نے سب کو اژدہا بن کے ہڑپ کرلیا، انھوں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ جادو نہیں ہے۔ یہ کچھ اورہے۔ یہ کوئی برتر Superior شے ہے ……یہ ہے differentiationکہ آپ کے اندر فرق کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ فرق پیدا کرنے کی صلاحیت کے لیے آپ کے اندر وہ فن ہونا چاہیے،اس کا شعور ہونا چاہیے۔ تو ایک صحافی کو اپنے فن سے تو واقف ہونا چاہیے۔ اگر وہ اپنے فن سے واقف ہوگا توسچ کو پہچاننے میں دیرنہیں لگے گی۔اسے  پتا چل جائے گاکہ جادو کون سا ہے اور فن کو ن سا ہے۔سچائی کہاں ہے اور افسانہ طرازی کہاں ہے،حق کیاہے اور باطل کیاہے۔(جاری ہے)


ای پیپر