السّلام اے سیّدِ ہجویر قطب الاولیاء
07 اکتوبر 2020 (12:43) 2020-10-07

لاہور‘ لاہور نہ ہوتا‘ اگر داتا کی نگری نہ ہوتا۔ داتاغریب نوازؒ نے اس شہر کو خواب نوازدیاہے۔ باغوں کا شہر، کالجوں کا شہر…… ولیوں کا شہر بن گیا ہے۔ برصغیر پاک وہند میں ہر ولی نے فیضِ عالمؒ سے اکتسابِ فیض کیا ہے۔فیضِ عالمؒ کی گلیاں ولیوں کی گزرگاہیں ہیں۔ یہ لوگ مسجدیں آباد کرتے ہیں، شہر آباد کرتے ہیں، بلکہ انسانوں کے دل کی دنیا آباد کرتے ہیں …… مردہ دلوں کو حیات عطا کرتے ہیں …… اوراجرِ غیر ممنون کے حامل ٹھہرتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے!   ایک نہ ختم ہونے والا اجر اِن کا سرمایہئ حیات ہے۔ جس نے ایک شخص کو زندگی عطا کی‘اُس نے گویا پوری نوعِ انسانی کو زندگی بخش دی۔ آیت میں بتصریح زندگی دینے کا ذکر ہے (محض زندگی بچانے کا ذکرمقصود نہیں)۔ جہل‘موت ہے، اور علم‘زندگی ہے۔ ایک بھی روح کو علم آشنا کر کے جِلا بخش دی جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے جی اُٹھتی ہے، اُسے حیاتِ جاوداں مل جاتی ہے، وہ فنا کے دوزخ میں جلنے سے محفوظ رہتی ہے۔ مولانا جلال الدین رومیؒ المعروف مولائے رومؒ رقم طراز ہیں کہ میں نے خدا سے کہا‘ میں تیری ذات کو جانے بغیر مرنا نہیں چاہتا، خدا نے جواب دیا‘جو مجھے جان لیتا ہے وہ کبھی مرتا نہیں۔ بس یہی جاننا علم ہے، علم حقیقی ہے، وگرنہ علم کے نام پر تعلیمی ڈگریا ں ہیں، معاشی سرگرمیاں ہیں۔ 

جنہیں علم کی تلاش ہوتی ہے‘ وہ علم والے کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ جو علم سے بے زاری کا مظاہرہ کرتا ہے وہ اپنے جہل پر مہرِ تصدیق ثبت کراتا ہے۔ علم ِ حقیقی ہی وہ خزانہ ہے‘جو چھپا ہے۔ جب اور جہاں ظاہر ہوتا ہے‘ ذات کی ذات تک رسائی سہل ہوجاتی ہے۔  خزانے کو گنج کہتے ہیں اور چھپے ہوئے خزانے کو گنجِ مخفی!! یہ گنجِ مخفی آشکار کرنے والے لوگ خود مخفی ہوتے ہیں …… اس لیے انہیں تلاش کرنا پڑتا ہے۔ درحقیقت جس کی جوتلاش ہے‘وہی اُس کی منزل ہے۔ فیضِ عالمؒ گنجِ علم و عرفان بخشتے ہیں، اس لیے انہیں گنج بخش کہتے ہیں۔ داتا ہندی کا لفظ ہے۔ دان کرنے والے کو داتاکہتے ہیں۔ یہ اللہ کے بندے کی صفت ہے۔ بندوں کی صفت سے اللہ کو موصوف کرنا شرک ضرور ہے۔ اللہ کی صفت سے بندوں کو  متصف کرنے کا حکم تو قرآن میں موجود ہے…… صبغۃ اللہ!!  حکم ہے”تخلقو بااخلاق اللہ“۔  بندے اگر اللہ کے اخلاق سے خود کو متصف کریں تو عین حق ہے۔

اخلاقی صفات تو ایک طرف، میرے داتا حضورؒ کی صفت ِ علم کا احاطہ بھی ممکن نہیں۔ اگر کسی کو بحرِ ذخار کی موجوں میں جولانی دیکھنی ہو تو لازم ہے کہ وہ”کشف المحجوب“ کا مطالعہ کرے۔ ممکن ہے‘ قاری 

اسے ثقیل سمجھ کر چھوڑ دے لیکن یہ ممکن نہیں کہ یہ کتاب اسے چھوڑ دے……یہ کتاب اس کی فکر کو لطیف کیے بنا نہیں چھوڑے گی۔ اس کا ہر ایک جملہ ایک مکمل مقالہ Thesis ہے۔اگر سرسری نہ گزرا جائے تو یہ گزرے ہوئے تمام علومِ الٰہیات کا احاطہ کرکے اس کا محاکمہ کرے گی۔ الٰہیات، تصوف و طریقت کے تمام رموز اس میں بصراحت مگر بالاختصار بیان کر دیے گئے ہیں۔ گزشتہ ایک ہزار برس سے راہ نورادانِ شوق کے لیے یہ ایک نصاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ 

مجھے ابھی تک یاد ہے‘  ۱۳ جنوری ۱۹۸۵ء میں صبح دس بجے کے قریب مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ سے پہلی ملاقات پر آپؒ نے جہاں اپنی کتاب ”کرن کرن سورج" تحفے میں عطا کی وہاں کشف المحجوب پڑھنے کی تاکید کی۔ تصوف کی یہ واحد کتاب ہے جو آپ ؒ پڑھنے کی اجازت دیا کرتے۔ ان دنوں یہ طالب علم مغرب کے فلسفے میں سرتاپا غرق تھا، دین سے زیادہ فلسفہ میرا اوڑھنا بچھونا تھا۔ راقم اُن دنوں ژاں پال سارتر کے فلسفہ لایعنیت میں الجھا ہوا تھا، لب لباب اس فلسفے کا یہ تھا کہ انسان کے پاس جو بھی علم ہے وہ حتمی اور قابلِ یقین نہیں‘ اس لیے اس علم کی بنیاد پر وہ جو مقصد ِ حیات اخذ کرتا ہے وہ بھی قابل ِاعتبارنہیں، چنانچہ اس زندگی اور کائنات کا کوئی مقصد تلاش کرنا ایک کارِ عبث ہے۔ کشف المحجوب کے پہلے باب ”اثباتِ علم“ میں ایک جملے میں اس لایعنی فلسفے کا ایسا ردّ  موجود تھا کہ یہ طالبعلم دم بخود رہ گیا۔ علم و عرفان کا فیض لٹانے والے میرے داتا گنج بخش فرماتے ہیں کہ ہم ان سوفسطائی لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ ان کے اس قول کی  حقیقت کیا ہے؟ کیا اُن کا یہ قول (کہ کسی علم کی کوئی حقیقت نہیں) حقیقت پر مبنی ہے یانہیں؟  اگر وہ کہیں کہ ان کا یہ قول مبنی بر حقیقت ہے تو ان کے اس اقرارمیں  ہی ان کے فلسفے کا ردّ ہے، اور اگر وہ کہیں کہ ان کا یہ قول بھی دیگر علوم کی طرح حقیقت پر مبنی نہیں‘ تو ہم ایسے قول پر اپنی طرزِ حیات کیسے استوار کر سکتے ہیں جو ان کے قول  کے مطابق مبنی بر حقیقت ہی نہیں؟  سبحان اللہ! ایک ہی جملے میں فلسفہ لایعنیت کا بامعنی جواب موجود تھا۔ بس! پھر کیا تھا، وہ دن اور آج کا دن‘ پینتیس برس ہو گئے‘ مجھ سے کشف المحجوب نہ چھوٹ سکی۔ ایک ایک جملہ ایسا کیف آور ہے کہ انسان ایک نشست میں چند جملوں سے زیادہ نہیں پڑھ سکتا۔ بارہا ایسا ہوا‘ کشف المحجوب کا ایک پیرا گراف پڑھنے کا بعدجب حاضری کی کوشش کی تو جلالِ علمی کے زیر اثر دربارِ اقدس کے اندر داخل نہ ہو سکا۔سیڑھیوں پر قدم رکھنے کے بجائے سر رکھنے کو دل چاہا۔باہر ہی سے ہاتھ باندھ کر سلام کیا‘اور واپس ہو لیا۔ جلوہئ ذات شاید جلالِ علم کی کوئی صورت ہے!!

داتا حضورؒ کی کشف المحجوب تک رسائی بھی بوسیلہ مرشدِ کامل ہی ممکن ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کے ہاں شاید ہی کوئی گفتگو کی نشست ہو‘جس میں کشف المحجوب یا صاحب ِ کشف المحجوب کا ذکر نہ ہو۔ کشف المحجوب میں درج واقعات کو آپؒ ہر بار اس انداز اور اس زاویے سے بیان کیا کرتے کہ معلوم ہوتا جیسے پہلی بار سن رہے ہیں، اور لطف یہ کہ ہر مرتبہ اُن سے معنی کا عطر پہلے سے مختلف رنگ کا کشید کیا ہوتا۔ یہ ہنر‘تبحرِ علمی سے زیادہ تمسکِ ذات کا آئینہ دار تھا۔ عرس کے موقع پر آپؒ اکثر یہ بیان کرتے، اور یہ درحقیقت آپ بیتی ہی ہوا کرتی، لیکن ”اگر“ کے پردے میں اخفائے ذات کرجاتے …… کہ اگر تم کبھی عرس کے موقع پر داتا صاحبؒ سے ملاقات کرو تو وہ تمہیں بتائیں گے کہ اِس عرس کے موقع پر بھی  لاکھوں زائرین آئے لیکن مجھ سے ملنے کوئی نہیں آیا، یعنی جو مشن اور مقصد میں لے کر آیا ہوں‘ اسے لینے کیلئے  کوئی نہیں آیا۔ دامان تو اپنا ہی تنگ ہے وگرنہ اِس مشن میں حصہ پانے اور ڈالنے والوں کے قافلے میں یہاں سے بابافریدؒمقامِ فردیت لے کر گئے، خواجہ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی ؒ غریب نوازی لے کر گئے،اور ہمارے حضرت واصف علی واصفؒ نے یہاں سے قلندری لی، قطب ِ ارشاد کی مسندلی۔ اس یوینورسٹی سے فارغ التحصیل اولیا کی فہرست اتنی طویل ہے کہ نام گنوانے پہ آئیں تو دامن ِ عبارت تنگ پڑ جائے۔  مرشدی واصف علی واصفؒ نے فیضِ عالمؒ سے اکتسابِ فیض کا اعلان یوں کیا:

کر گئی مجھ کو قلندر آپؒ کی شانِ عطا

بارگاہِ حسن میں واصفؔ ہے راقم السلام!

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کے معروف شعر کی زمین میں لکھی ہوئی  ہفت آسمان یہ منقبت ایک قدِ آدم لوحِ سفید پر دربار کے مشرقی برآمدے میں نصب ہے۔ بحمدللہ! اس فقیر کو یہ سعادت حاصل ہوئی، معروف خطاط حافظ اصغرالقادری(ان کے استاد محترم محمد علی زاہدکی خطاطی کے نمونے مسجدِ نبویؐ میں باعثِ سعادت بن رہے ہیں) سے کتابت کروائی،اور اسے نصب کروایا۔ حافظ صاحب فقیر آدمی ہیں‘ انہوں نے لوحِ منقبت کے کسی کونے میں اپنا نام نہیں لکھا (جو بحیثیت خطاط اُن کا حق تھا)۔ یہ فقیر ناقص ہے‘ اِس نے اپنا نام تو نہیں لکھوایا‘ لیکن نیچے منحنی سے خط میں اپنے زیرِ ادارت رسالے”واصفؒ خیال“ کا نام ضرور لکھوا دیا۔ فنائے مکمل ہر کسی کا نصیب نہیں۔درگاہِ فیضِ عالمؒ میں نصب حضرت واصف علی واصفؒ کی اس منقبت کا ہرشعر ایک مقامِ حیرت ہے:

واصفؔ ِمسکیں چہ گوید ایں مقامِ حیرت است

خواجہئ من قبلہئ من گفت قولِ حق بجا

”گنج بخش فیض ِ عالمؒ مظہرِ نورِ خدا 

ناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را راہنما“


ای پیپر