امریکی انتخابات، خارجہ پالیسی کردار ادا کرے گی؟
07 اکتوبر 2020 (12:38) 2020-10-07

امریکی صدارتی انتخابات 2020 کو تاریخ کا سب سے غیر معمولی انتخاب قرار دیا جانا چاہئے۔ وبائی مرض کے دوران ہونے والے الیکشن جن کا ایک امیدوار اور موجودہ صدر کرونا متاثرہ ہو چکا، چند روز قبل امریکی سپریم کورٹ کے جج اس مرض کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ دنیا کی نظریں ان انتخابات پر ہیں، لوگ پریشان اور گھبراہٹ میں ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وائٹ ہاؤس میں کون صدارتی کرسی پر براجمان ہے اور کون سینیٹ کے معاملات کو کنٹرول کرتا ہے۔ دنیا کا لینا دینا صرف اس سے ہے کہ امریکہ اپنے بین الاقوامی تعلقات کو کس طرح دیکھتا ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی امور خارجہ امریکی انتخابی مہم میں اہم رہے ہیں لیکن اس سے پہلے صدارتی مباحثہ اس طرح سے عالمی سطح پر زیر بحث نہیں آیا تھا۔ امریکی صدر کو خارجہ محاذ پر وسیع تر اختیارات حاصل ہیں اس کے باوجود رائے دہندگان پر کرونا وائرس، معیشت، امن و امان اور نسل پرستی زیادہ اثر انداز ہو گی۔ ابراہم ایکارڈ جتنا بھی اہم ہو، وسکونسن اور مشی گن کے ووٹرز ووٹ دیتے وقت مشرق وسطیٰ کے بارے میں غور و فکر نہیں کریں گے۔ عام طور پر یہ بتانا مشکل ہے کہ خارجہ امور کے معاملے میں داؤ پر کیا لگا ہے؟ عالمی حالات میں اس وقت افراتفری ہے لہٰذا قیادت کا طرز عمل کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اپنی مدت کے آغاز پر جنگ کے راستے پر گامزن ٹرمپ شمالی کوریا کو دھمکیاں دے رہے تھے۔ اب وہ کم جونگ کی طرف سے اپنے لیے تہنیتی پیغام پر فخر کر رہے ہیں۔ امریکیوں کے لیے امریکہ سب سے پہلے اور ان کی تارکین وطن کے حوالے سے ان کی سخت گیر پالیسی مستقل طور پر اہم رہی ہے۔ چند معاملات میں امریکی صدر نے اہم فیصلوں، جیسے جنوری میں قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا گیا تھا، اس پر برطانیہ یا فرانس جیسے شراکت داروں کو بھی کسی قسم کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ اقوام متحدہ سے لے کر نیٹو اور یورپی یونین تک انہوں نے اپنے فیصلوں میں کسی کو اہمیت نہیں دی، وہ آزادانہ تجارت اور گلوبل پالیسی کے خلاف ہیں۔ سابق نائب صدر جوبائیڈن خارجہ حوالے سے کوئی نئے نہیں ہیں۔ 

وہ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ نقادوں کے مطابق ٹرمپ کے برعکس، وہ تباہ کن 2003ء کی عراق جنگ کے حامی تھے، پھر بھی انہوں نے متنبہ کیا تھا: ”اگر ہم عراقی حکومت کا خاتمہ کر دیں اور اس کے بعد اسے خانہ جنگی کا شکار ہی چھوڑ دیا جائے تو یہ ایک المیہ ہوگا۔“ یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ بائیڈن کو 2011 میں امریکہ کی طرف سے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے منصوبے کا علم تھا۔ دریں اثنا، ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ نے ابو بکر البغدادی سمیت داعش کی اہم شخصیات کو سامنے لانے سے دریغ نہیں کیا۔

ڈیموکریٹ امیدوار نے کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار سنبھالتے ہیں تو پہلے ہی دن ٹرمپ کی کچھ کارروائیوں کو کالعدم قرار دے دیں گے۔ بائیڈن مسلم اکثریتی ممالک کے لوگوں کے خلاف سفری پابندی ختم کرے گا، جو یقیناً ایک خوش آئند اقدام ہے۔ وہ ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے میں بھی شامل ہوں گے۔ ایسے بہت سے تنازعات جن کو ٹرمپ نے نظرانداز کیا، بائیڈن ایسا نہیں کرے گا۔تخفیف اسلحہ اور جوہری صلاحیت کے مسئلہ پر بھی امیدواروں میں اختلاف ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت اور اب شمالی کوریا پر نرمی پالیسی دکھائی، بائیڈن اس کے متضاد خیالات کا حامل ہے۔ ٹرمپ 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو چھوڑ چکا، وہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی برقرار رکھنے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا عہد کرتا ہے۔ ہاں یہ واضح نہیں کہ وہ اس کو روکنے کے لئے کس حد تک جانے کو تیار ہیں۔ بائیڈن تہران کے ساتھ مذاکرات کے حامی ہیں، خاص طور پر اپنے پہلے چھ مہینوں میں، جب حسن روحانی ابھی صدر ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ بائیڈن کے لئے یہ اہم ہو کیونکہ وہ 2015 کے معاہدے کی دوبارہ احیائے نو کے قائل ہیں کہ اس کا مقصد خطے میں ایرانی مداخلت کو محدود کرنا ہے۔ ٹرمپ دوسرے بڑے ممالک جن میں چین اور روس شامل ہیں کے باعث ہتھیاروں پر قابو پانے کے معاہدوں کو نہیں مانتے۔ اس کے برعکس بائیڈن ناصرف ان معاہدوں کا حامی بلکہ امریکی اور روسی جوہری وار ہیڈز کی تعداد کو محدود کرنے کے معاہدے کی توسیع کا حامی ہے جس کی میعاد فروری 2021 میں ختم ہونے والی ہے۔ روس اس معاہدے کی توسیع کے لئے پہلے ہی تیار ہے۔ یہ سارے وہ شعبے ہیں جہاں پر دونوں امیدواروں نے قطعی مخالف نظریہ اختیار کیا ہے۔ پھر بھی کچھ مشترکات موجود ہیں۔ ٹرمپ اور بائیڈن دونوں بیرون ملک مقیم فوجی مہم جوئی کو انتخابی نعرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ دونوں ہی ”مستقل جنگوں“ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں جیسے امریکہ افغانستان میں پھنس گیا ہے۔ بائیڈن نے مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں صرف 1500 سے 2000 فوجی رکھنے کی بات کی ہے، اس مقصد کا حصول شاید ممکن نہیں۔ کسی بھی قسم کی کمی لانے کے لئے ٹرمپ کو اپنی عسکری قیادت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دونوں اسرائیل کی سلامتی کے لئے بھی پوری طرح پُرعزم ہیں۔ ٹرمپ اس راستے پر اپنے کسی پیشرو سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں، خاص طور پر امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل اور بستیوں کی مخالفت نہ کر کے، لیکن بائیڈن کی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ناقدین سے دور ہے۔ تاہم، اس نے فلسطینی قیادت کے ساتھ دوبارہ مذاکرات اور ممکنہ طور پر امریکی امداد بحال کرنے کی کوشش کرنے کا عہد کیا ہے۔ دونوں پابندیوں کے حامی ہیں، ٹرمپ بائیڈن سے زیادہ ہیں، نومبر کو جو بھی جیتے، یہ امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ رہیں گی۔ ایک بڑا فرق یہ ہے کہ ٹرمپ نے بیرون ملک امداد کم کرنے کا موقع کبھی نہیں گنوایا جبکہ بائیڈن اسے امریکی طاقت کے آلے کے طور پر دیکھیں گے۔ ان تمام تفصیلات کے باوجود خارجہ امور کے ایجنڈے کو کسی بھی امیدوار کی کامیابی کا پروانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر باراک اوباما کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی شام کا تذکرہ جو بائیڈن کی ویب سائٹ پر موجود ہی نہیں ہے۔ کیا دوسری مدت میں ٹرمپ مختلف انداز میں کام کرے گا؟ کیا وہ اوباما کے کیے گئے تمام اقدامات کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز رکھے گا؟ کیا کوئی ایسا بڑا کام ہے جو اس کی مقبولیت کا ستارہ بن جائے؟ جہاں تک بائیڈن کا تعلق ہے، کیا وہ صرف اوباما دور کا تسلسل ہو گا یا اس کے پاس کوئی اپنی ڈاکٹرائن ہے؟ اوباما کی خارجہ پالیسی کا محور ایشیا تھا لیکن کیا بائیڈن اس کو جاری رکھے گا؟

(بشکریہ: عرب نیوز،6 اکتوبر2020


ای پیپر