حکمت عملی اپنی اپنی !!!
07 اکتوبر 2019 2019-10-07

مولانا فضل الرحمن ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بس اعلان ہو چکا، دھرنا ستائیس اکتوبر کو ہی ہوگا۔ دوسری جماعتیں آجائیں تو اچھی بات ہے۔ نہ آئیں توبھی دھرنا تو ہونا ہی ہے۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسری بڑی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور کوششیں جتنی ہو سکتی تھی، ہو گئیں۔ سب جماعتیںدھرنے پر متفق ہیں، شرکت کے لئے ٹائیمنگ کا مسئلہ ہے۔ جس اپوزیشن کی جماعتیں یہ کہہ رہی ہیں کہ اپوزیشن ایک پلیٹ فارم پر ہیں لیکن حکمت عملی اپنی اپنی ہے۔ مسلم لیگ نواز چاہتی ہے دھرنا/ مارچ ماہ بعد یعنی نومبر میں ہو، ساتھ ہی یہ فرمائش کی ہے کہ مطالبات میں مہنگائی اور عوام کو درپیش دیگر مسائل بھی شامل کئے جائیں، صرف گزشتہ سال جولائی کے انتخابات اور ان کے نتائج کا ایک نکاتی ایجنڈا نہ ہو۔ یعنی نواز شریف کی ہدایت پربعض معاشی مطالبات بھی جوڑے جارہے ہیں تاکہ اس تحریک میں عوام کو بھی جوڑا جاسکے۔ یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے کہ تحریک کے ساتھ کوئی مقبول نعرہ یا بیانیہ ضروری ہے۔ عمران خان بھی جب تک انتخابی دھاندلیوں کے خلاف سرگرم رہے، ان کی عوام میں پزیرائی کم رہی، جب انہوں نے کرپشن اور لوٹی ہوئی دولت واپس ملک لانے کا نعرہ دیا تو اسکو تحریک چلانے میں مدد ملی۔ بعد میں اسی نعرے کی بنیاد پر وہ اپوزیشن کے خلاف اقدامات بھی کرتے رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب چیئرمین ایف بی آر نے بھی کہہ دیا ہے کہ لوٹی ہوئی دولت قانونی طور پر بیرون ملک بھیجی گئی ہے، جو اب واپس نہیں لوٹائی جاسکتی۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ نواز شریف کے خلاف منی ٹریل کا اور آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات کی اب کوئی سیاسی اور اخلاقی حیثیت نہیں رہی۔جس کو آگے چل کر قانونی یا عملی شکل دی جاسکتی ہے۔

پیپلزپارٹی اس کو مارچ تک لے جانا چاہتی ہے۔ مارچ تک ملکی خواہ خطے کے منظر نامے میں بعض غیر واضح چیزیں واضح ہو جائیں گی۔ اور یہ کہ تحریک انصاف کی حکومت سے عوام میں بے چینی اور مقتدر ہ حلقوں کی بیزاری بڑھ جائے گی۔ دونوں بڑی جماعتوں کو مذہبی کارڈ سے ڈر بھی ہے۔ کیونکہ ماضی میں مذہب کے نام پر اٹھائی گئی تحاریک جمہوری قوتوں کے خلاف استعمال کی گئیں اورمنتخب حکومت کاتختہ الٹا جاتارہاہے۔ ان دو جماعتوں کو یہ بھی ڈر ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جو تعطل کا شکار ہیں، مذہبی کارڈ کسی طرح سے ان مذاکرات میں طالبان کی پوزیشن مضبوط نہ کردے۔ پھر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ان دو بڑی جماعتوں کو مشکل بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں بڑے کھلاڑ ی مولانا فضل الرحمن ہونگے۔

جماعت اسلامی نے اگرچہ کہا ہے کہ انہیں باقاعدہ شرکت کی دعوت نہیں ملی، تاہم یہ بھی کہا ہے کہ حکومت روڑے نہ اٹکائے۔ جماعت اسلامی کے اس موقف کو دو طریقوں سے ناپا جاسکتا ہے۔ اول یہ کہ مولانا صاحب کو اجازت دی جائے، تاکہ ان کی مقبولیت اور پالیسی کی قبولیت کا پتہ لگ جائے۔ دوسرا یہ کہ اگر مذہبی کارڈ پختہ ہوتا ہے تو اس میں جماعت اسلامی کا بھی فائدہ ہے۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ اپنے موقف کی مضبوطی کے لئے دوسری چھوٹی جماعتوں کو بھی اپنے ساتھ ملا رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی میں ملاقات کی اور آزادی مارچ سے قبل آل پارٹیز کانفرنس یا رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے پراتفاق کیاگیا۔اپوزیشن جماعتیں ملکر حکومت کو گھربھیجیں گی، شفاف الیکشن وقت کی ضرورت ہے، موجودہ سیٹ اپ قبول نہیں،فوج کی نگرانی کے بغیرالیکشن کرائے جائیں۔پیپلزپارٹی اور اے این پی کا مشترکہ موقف یہ ہے کہ آفتاب شیر پائو کہتے ہیں کہ بڑی جماعتوں کو قائل کرنا ضروری ہے۔ حاصل بزنجو سمجھتے ہیں کہ مارچ کو اسلام آباد پہنچنے ہی نہیں دیا جائے گا، گرفتاریاں ہونگی۔

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی حکمت عملی یہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن تاریخ کا اعلان کرے، تمام پارٹیاں شامل ہوں۔ معاملہ آل پارٹیز کانفرنس میں جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے دونوں بڑی جماعتیں فیصلہ سادی اور پہل کاری مولانا کے بجائے اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہیں۔ لیکن اب سوال ایوان کے اندر کا نہیں، سڑکوں کا ہے۔

مولانا خادم حسین یا علامہ طاہرالقادری کی طرح مولانا فضل الرحمن کا مظہر عارضی یا وقتی نہیں۔جو اسائنمنٹ بیسڈ ہوں۔بلکہ مستقل سیاسی مظہر ہیں۔ ان کی جماعت جمیعت علمائے اسلام گزشتہ نصف صدی سے پاکستان کی مین اسٹریم سیاست میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔وہ اپنی نوجوانی سے سیاست کر رہے ہیں۔ ان کے والد مولانا مفتی محمود کا سیاست میں اپنا مقام تھا۔

اس وقت ملک بھر کے سیاسی و صحافتی خواہ دیگر حلقوںمیںمولانا فضل الرحمن اور ان کا آزادی مارچ کا چرچہ ہے۔ لہٰذا ان کی سیاسی حیثیت جو گزشتہ سال کے انتخابات میں ختم ہو گئی تھی وہ سیاسی طور پر حاصل ہو چکی ہے۔ اب مسئلہ اس حیثیت کی قبولیت کا ہے۔ وہ اگر مارچ ملتوی کرتے ہیں تو سیاسی فریقین میں تو ان کی حیثیت بھلے رہے لیکن مقتدرہ حلقوں میں اس کی قبولیت کیسے ہوگی؟ یہی وجہ ہے کہ وہ تحریک میں پہل کاری اور فیصلہ سازی اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہ رہے ہیں۔وہ بھی اس صورتحال میں جب اسلام آباد میں مختلف آپشنز کی افواہیں چل رہی ہیں۔ لہٰذا اپوزیشن خواہ حکومت سب کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ مولانا کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ وہ اپنی سیاسی موجودگی محسوس کرا کے ہی دم لیں گے۔


ای پیپر