علماء اور دور جدید!
07 اکتوبر 2019 2019-10-07

موجودہ عصر میں، جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ نے ہر انسان کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ بیک وقت دنیا کے سات ارب انسانوں کو مخاطب بنا سکے۔ مخاطب بنانے کے یہ مواقع خیر اور شر دونوں قوتوں کو یکساں طور پر دستیاب ہیں ، یہ داعی پر منحصر ہے کہ وہ اسے کن مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بڑی کمپنیاں، میڈیا ہاؤسز اورتجارتی ادارے تو رہے ایک طرف اکیلا ایک فرد لاکھوں کروڑوں انسانوںکو اپنا مخاطب بنا رہا ہے۔ اس کی عملی مثالیں یوٹیوب، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر جا بجا بکھری پڑی ہیں۔اگر صرف پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی ہزاروں ویڈیوز پڑی ہیں جن میں اکیلا فرد کسی موضوع پر ویڈیو بناتا ہے اور اسے دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

اس کے برعکس دینی طبقے کا اول تو اس جانب رجحان نہیں ، وہ ابھی تک یہ اندازہ ہی نہیں کر پائے کہ وہ عالمگیریت کے جس عہد میں جی رہے ہیں وہ کتنا فاسٹ ہے اور ا س میں چیزیں ڈیجٹلائز ہو رہی ہیں، اگر کہیں تھوڑا بہت احساس ہے بھی تو وہ بھی ادھورا اور ناقص ہے۔ جب ادارک ہی نہیں تو رسپانڈ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چند ایک اداروں نے اپنی طور پر جدید ذرائع ابلاغ کے میدا ن میں قدم رکھا مگر وہ بھی اپنے عصر اور اس کے تقاضوں کا ٹھیک سے ادراک نہیں کر پائے۔میں گزشتہ کچھ عرصے سے کچھ مذہبی چینلز کو فالو کر رہا ہوں مگر سوائے روایتی چیزوں کے کچھ خاص دیکھنے کو نہیں ملا۔ مثلا درس قرآن وحدیث اورآپ کے مسائل اور ان کا حل، یہ سننے والوں کی تعداد بھی محض چند ہزار ہے۔ یہ چیزیں اچھی سہی مگر کیا ان چند ہزار ناظرین اور روایتی پروگرامز سے ہم اپنے سماج میں کوئی بہت بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔میرے خیال میں اب ضرورت ہے کہ روایتی چیزوں سے آگے بڑھا جائے اور مین اسٹریم میںآ کر اپنا رول پلے کیا جائے، ایسی عامیانہ کوششوں سے ہم دین اورسماج کی کوئی خاص خدمت نہیں کر سکتے۔ایک اہم مسئلہ قابل اور اہل افراد کا بھی ہے ، ان اداروں کے پاس جو افراد موجود ہیں ان کی اٹھان ایک مخصوص ماحول میں ہوئی ہے اور ان کی فکر ونظر کا دائرہ اسی ماحول تک محدود ہے اس لیے ان افراد کے ساتھ غیر معمولی نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ موجودہ عصر میں ایسے اہل اور قابل افراد کا چناؤ کو ئی مسئلہ نہیں جو آپ کے میسج کو مخاطب تک ٹھیک انداز میں نہ صرف پہنچا سکتے ہیں بلکہ آپ کی ٹیم کا بہترین حصہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایک پہلو یہ ہے کہ علما ء اوردینی اداروں میں دین کی تڑپ اور سماج کا وہ درد نہیں رہا جو ہونا چاہئے تھا ،وجوہات متعدد ہیں مگر نتائج یکساں کہ سماج خیر کی قوتوں سے اجنبی اور دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اور اس سے بھی ذیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب اہل دین کو اس جانب متوجہ کیا جاتا اور شر کی قوتوں کی ہمہ گیری کا احساس دلایا جاتا ہے تو سادہ سا جواب دیا جاتا ہے ہم کوشش کے مکلف ہیں۔ کاش کوشش ہی کر لی ہوتی۔جو لوگ کوشش کرتے ہیں وہ بائیس سال بعد بیساکھیوں کے سہارے ہی سہی مگر وزیر اعظم بن جاتے ہیں ، ہم سے تو یہ بھی نہ ہو سکا۔کیا ہم سے اس عہد کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا اور کیا محض کوشش کا مکلف ہونے کا جواب دے کر ہم سرخرو ہو جائیںگے۔ میرے خیال میں اہل دین کو ان سوالات پر ایک دفعہ ضرور غور کرنا چاہئے۔

عالمگیریت کے تناظر میں، مذہبی طبقات اور ان کے رویوں پر نقدسے، ان اداروں اور علماء کو مطعون کرنا مقصود نہیں ہوتا ، یہ ادارے اور علما ء تو ہمارااثاثہ ہیں ، ان کے علاوہ کم از کم میرے خیال میں اس امت کے پاس اور ہے کیا ۔ اس لیے اس تنقید کو اس پہلو سے نہ دیکھا جائے۔ بلکہ اس تنقید کا مقصد نئے راستوں کی تلاش اور موجود ہ طریقہ کار کی بہتر ی ہوتا ہے۔ عالمگیریت نے دعوت اور خیر کے پیغام کو جتناآسان آج کر دیا ہے شاید ماضی میں اتنی آسانیاں نہیں تھیں ، آج دعوت کے وسیع تر امکانات ہر بندے کو میسر ہیں بات صرف یہ ہے کہ کون کتنی لگن اور ٹرپ کے ساتھ ان ذرائع سے استفادہ کرتا اور کون ان کو نظر انداز کر کے محض کوشش کا مکلف بن کر مسجد ،مدرسے یا خانقاہ میں بیٹھا رہتا ہے۔

اس سلسلے میں میری ناقص رائے یہ ہے کہ دینی طبقات ، افراد ، شخصیات اور ادارے خیر کے پیغا م اور سماج کا تعلق دین سے جوڑنے کے لیے وہ گرمجوشی اور تڑپ نہیں دکھا سکے جو انہیں دکھانی چاہئے تھی۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ روایتی دینی مسائل اور خدمات کے ساتھ علمی و فکری نوعیت کے پروگرامز کا آ غا ز کیا جائے ، فکری وتہذیبی مسائل کو اکڈیمیا کا حصہ بنایاجائے ، مشہور علمی و فکری شخصیات سے استفادہ کی کوشش کی جائے ، انہیں معاشرے میں متعارف کروایا جائے۔ اس کے ساتھ نوجوان نسل کی دلچسپی کو مد نظر رکھ کر ایسے پروگرامز شروع کیے جائیں جس میں نوجوان نسل کی تفریح کا سامان بھی ہو اور ان کی علمی و فکری تربیت کا اہتمام بھی بہم مہیا کیا جائے۔

اس کے ساتھ مین اسٹریم میںآ کر اپنی جگہ بنائی جائے کہ جہاںآپ بحثیت مجموعی سماج کو مخاطب بنا سکیں ،ا س وقت صورتحال یہ ہے کہ ہمارا مخاطب ایک مخصوص طبقہ ہے اور وہ وہی طبقہ ہے جو پہلے ہی علماء کے حلقہ ارادت میں داخل ہے ، تو اس حلقے کو متوجہ کر کے کچھ خاص نتائج حاصل نہیں کیے جارہے ، اصل مسئلہ مین اسٹریم میں آ کر بحیثیت مجموعی سماج کو مخاطب بنانے کا ہے جس کی طرف تاحال توجہ نہیں دی جا رہی۔ اس کے ساتھ عالمی سطح پر مسلم امہ کے مسائل کو جاگر کیا جائے اوراس کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے یہ عذر ہرگز قابل قبول نہیں کہ یہ سب کیسے کیا جائے۔ آپ عالمگیریت کے عہد میں جی رہے ہیں ، اگر نیت خالص اور دل میں درد ہو تو یہ سب کام آسانی سے معمولی وسائل کے ساتھ شروع کیے جا سکتے ہیں ۔ اور اگر کوشش کا مکلف ہو کر بیٹھا جائے تو پھر یہی ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔ اس لیے مجھے شکایت ہے ایسے تمام اداروں ،افراد اور شخصیات سے جو یہ سب کر نے کی استطاعت رکھتے ہیں مگر نہیں کر رہے۔شاید وہ عالمگیریت کی ٹھیک سے تفہیم نہیں کر پائے یا وہ کوشش کا مکلف ہو کر معمولی کاوشوں کو بہت بڑا کام سمجھ بیٹھے ہیں۔ اورشاید انہیں احساس نہیں کہ شر کی قوتیں کس گرمجوشی اورمہارت سے کام کر رہی ہیں اور سماج مکمل طور پر ان کی لپیٹ میں ہے۔


ای پیپر