پولیس اصلاحات :بھرتی،تبادلے اور ترقی کانظام
07 اکتوبر 2019 2019-10-07

گزشتہ کالم میں پولیس اصلاحات کے حوالے سے چند تجاویز دی تھیں،اس لئے کہ پاکستان میں پولیس کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ اسے سیاست سے پاک کرنا ۔میرٹ پرسپاہی اور افسر کا انتخاب ۔ان کی تربیت اور ترقی شامل ہے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پولیس میں سیاسی مداخلت ہورہی ہے۔سپاہی کو بھرتی کرنے کے لئے ناظم، رکن قومی وصوبائی اسمبلی اور سینٹ کی سفارش در کار ہوتی ہے۔افسروں کی تعیناتی کے لئے بڑے عہدوں پر وزیر اعلی ،وزیر اعظم کے احکامات کا انتظار کر تا ہے۔نیچلے درجے کے افسروں کا تقرر کرنے کے لئے آئی جی پولیس ،وزیر اعلی کے احکامات کا منتظر ہو تا ہے۔ وزیر اعلی ،ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کو خوش کرنے کے لئے ان کے حلقے میں ان ہی کا آدمی لگانے کی سفارش کر تا ہے۔سیاست، میرٹ کی خلاف ورزی ،پیشہ ورانہ تربیت کی کمی اور تر قی کے لئے کوئی خاص اور جامع نظام نہ ہونے کی وجہ سے پولیس کا محکمہ زوال کا شکار ہے۔اس کالم میں ہم ان مسائل کو حل کرنے کے لئے چند تجاویز پیش کر تے ہیں۔

پولیس میں سب سے اہم مسئلہ صوبائی پو لیس سربراہ کے انتخاب کا ہے۔مو جودہ طریقہ کار کے مطابق وزیر اعظم صوبے کو وفاقی پولیس سروس سے کسی افسر کو بھیج دیتا ہے۔وزیر اعلی بھی اسی وفاقی افسر کو آئی جی بنانے کا پابند ہو تا ہے۔اب چونکہ پولیس صوبائی محکمہ ہے اس لئے وفاق سے پولیس میں افسروں کو بھیجنے کا سلسلہ بن ہو نا چاہئے۔ضروری ہے کہ صوبائی پولیس افسران کا انتخاب صوبائی کمیشن کر یں۔افسروں کی ترقی کے لئے بورڈ تشکیل ہو ۔ جو بھی سب سے سینئر ہو اس کو پولیس کا صوبائی سربراہ بنا یا جائے۔وزیر اعلی کو قانون کے تحت پابند کیا جائے کہ وہ ہر صوبائی پولیس سربراہ کی فارغ الخدمت ہونے سے ایک مہینہ قبل نئے آئی جی کے انتخاب کے لئے سلیکشن بورڈ بنانے کا پابند ہو گا۔اس بورڈ کو قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ تین سینئر پولیس افسران کے ناموں کو وزیر اعلی کو منظوری کے لئے بھیجے گا۔ وزیر اعلی قانونی طور پر پابند ہو گا کہ وہ پہلے والے آئی جی کی ریٹائرمنٹ سے تین دن قبل نئے سربراہ کے تقرر کا حکم نامہ جاری کریگا۔آئی جی کے انتخاب کے لئے جو سلیکشن بورڈ بنائی جائے ۔ اس کا سربراہ صوبے کا چیف سیکرٹری ہو ۔ دیگر ارکان میں سیکرٹری صوبائی محکمہ داخلہ،صوبائی سیکرٹری قانون اور آئی جی پی کو ہو نا چاہئے۔وزیر اعلی کو سلیکشن بورڈ کے انتخاب کے لئے قانونی طور پر پابند کرنا چاہئے اس لئے کہ ہمارے ہاں رواج یہی ہے کہ جب اپنا بندہ مل نہیں رہا ہو تو پھر کسی اپنے بندے کو عارضی طورپر سربراہ بنا کر ادارے کو چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح سلیکشن بورڈ کو بھی قانونی طور پر پابند کرنا چاہئے کہ وقت مقررہ میں تین نام وزیر اعلی کو بھیجنے کے پابند ہو نگے۔

جب پولیس میں آئی جی کا انتخاب میرٹ پر ہو جائے تو پھر پورے محکمے کو ان کے حوالے کرنے کی ضرورت ۔ اس لئے ضلعی افسران ،تحصیل افسران اوریونین کونسل کے پولیس یونٹ میں ایس ایچ اوز کے تقرر کا اختیار ان کو ہونا چاہئے۔پہلے قانون میں اس بات کا تعین ہونا چاہئے کہ افسران ایک سٹیشن میں کتنا عرصہ ملازمت کرنے کے پابند ہو نگے۔جب یہ تعین ہو جائے تو پھر ضلعی پولیس افسران کے تقرر اور تعیناتی کے لئے آئی جی کی سربراہی میں مستقل ایک سلیکشن اور پروموشن بورڈ ہونا چاہئے۔اس بورڈ کے ارکان میں دوسینئر پولیس افسران ،سیکرٹری صوبائی محکمہ داخلہ اور سیکرٹری صوبائی محکمہ قانون ہونا چاہئے۔جب بھی کوئی پولیس افسر ریٹا ئرڈ ہو ۔تو اس سے ایک مہینہ قبل یہی بورڈ قانونی طورپر پابند ہو گا کہ وہ اس کی جگہ پر دوسرے سینئر افسرکو ترقی دیگاجبکہ خالی شدہ پوسٹ پر پہلے سے موجود سینئر افسر کو تعینات کریگا۔اسی طرح تحصیل لیول کے افسران کی ترقیوں اور تبالوں کا اختیار بھی اسی سلیکشن اینڈپروموشن بورڈ کو دیا جائے۔لیکن تحصیل لیول کے افسران کی ترقی اور تبالوں کے حوالے سے بھی بورڈ کو وقت کا قانونی طور پر پابند کیا جائے تاکہ اپنا بندہ نہ ملنے کی صورت میں محکمے کو اپنے بندے کے ذریعے عارضی طور پر چلانے کا دروازہ بند کیا جاسکے۔ اس طرح اس بات پر بھی قانونی طور پر پابند ی ہونی چاہئے کہ جب ایک افسر کسی سٹیشن پر اپنا وقت مکمل کرتا ہے تو پھر مسلسل دوسری مرتبہ ان کو وہاں ملازمت کی اجازت نہیں ہو گی۔

پولیس افسران کے تقرر اور تر قیوں کے لئے جس طرح آئی جی کی سربراہی میں محکما نہ سلیکشن اور پروموشن بورٖ ڈہونا چاہئے ۔ اسی طرح ضلع اور تحصیل میں پولیس سپاہیوں کے تقرر اور پرموشن کے لئے بھی ضلعی پولیس سربراہ کی سربراہی میں مستقل ایک سلیکشن اینڈ پروموشن بورڈ ہونا چاہئے۔ضلعے کی ہر تحصیل پولیس چیف کو اس بورڈ کا رکن ہونا چاہئے۔ضلع کے تمام پولیس سٹیشن میں ایس ایچ اوزاور دیگر نفری کا تقرر ،تبادلے اور ان کی ترقی کا ذمہ دار اس بورڈ کو ہونا چاہئے۔اس بورڈ کو پابند کیا جائے کہ سالانہ بنیادوں پر آئی جی کے پاس رپورٹ جمع کرائے کہ ان کو ضلع میں کتنی نفری کی ضرورت ہے۔اسی کے مطابق ہر چھ مہینے بعد ہر ضلع میں سپاہی کی بھرتی ہو۔ ان کی پولیس اکیڈمیوں میں مکمل تر بیت ہو ۔ جب پولیس میں سپاہی اور افسر کی بھرتی میرٹ پر ہو گی۔ان کو جدید دور کے مطابق جرائم کو قابو کرنے کی تربیت ملے گی۔ان کو معلوم ہو گا کہ معینہ مدت کے بعد ان کو سٹیشن سے بغیر کسی سفارش کے جانا ہوگا۔جب وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہو نگے کہ کسی سیاسی پارٹی کی بجائے پیشہ ورانہ صلاحیت ان کی ترقی کی بنیاد ہو گی تو پھر وہ سیاست کی بجائے پیشہ ورانہ مہارت پر توجہ دے گا۔جب اس کو معلوم ہوگا کہ تبادلے اور ترقی کے لئے وہ کسی سیاست دان یا سیاسی جماعت کا محتاج نہیں تو پھر وہ قانون کے مطابق اپنی ذمہ دار ی نبھائے گا۔جس طرح محکمہ پولیس میں بھرتی ،تبادلوں اور ترقی کے لئے صوبائی اور ضلعی سطح پر مستقل سلیکشن اینڈپروموشن بورڈز کا ہونا ضروری ہے اسی طرح پولیس میں محکمانہ طور پر جواب دہی کا بھی ایک نظام ہونا چاہئے کہ اگر تبادلے یا ترقی دیتے وقت کسی پولیس سپاہی یا افسر کے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو اس کا بروقت محکمانہ طور پر ازالہ ہو۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں پولیس کی اصلاح ہو تو اس کا حل ہرگز یہ نہیں کہ اسے پولیس سروس سے آزاد کرکے بیوروکریسی کی غلامی میں دیا جائے۔ پولیس میں اصلاحات کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اس میں سپاہی اور افسر کی بھرتی کا شفاف نظام وضع کیا جائے۔ ان کے لئے جدید دور کے مطابق تربیت کا انتظام کیا جائے۔ان کے تبادلوں اور ترقیوں کا ایک مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔ پولیس سٹیشن میں ان کو تمام رہائشی سہولیات میسر ہوں۔ ڈیوٹی پر لانے اور لے جانے کے لئے ان کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات دی جائیں۔سب سے اہم کہ پولیس سپاہی اور افسر کی تربیت ان خطوط پر ہو کہ آپ قانون کے مطابق عوام کے خادم ہیں ۔ہر کسی کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کر نا ہے۔


ای پیپر