ایک نہیں کئی دریاؤں کا سامنا
07 اکتوبر 2019 2019-10-07

معمول کے مطابق اگلے روز میں ہائی کورٹ بار میں تھا کہ ایک دوست کے گھر سے فون آیا کہ اس کے بچے کی حالت درست نہیں ہے وہ فوری طور پر گاڑی میں بیٹھا اور گھر کا رخ کیا ۔ ہم نے حال پوچھنے کو فون کیا تو بتانے لگا راستے میں مجھے کوئی 4 گھنٹے لگ گئے جو صرف آدھے گھنٹے کا راستہ ہے بالآخر میں نے رش اور ٹریفک جام کی وجہ جاننے کے لیے ایک پولیس آفیسر کو فون کیا اس نے بتایا کہ آج کرکٹ میچ ہے ۔ امپورٹ، ایکسپورٹ کے کنٹینر پکڑ کر راستے بند کر دیئے گئے مریض، معاملات زندگی کاروبار ہر چیز جام ہو گئی البتہ میچ ہو گیا۔ کیا راستے بلاک کیے بغیر میچ نہیں ہو سکتا۔ سٹیڈیم کو کوئی زیادہ راستے نہیں جاتے چند راستے ہیں اگر وہاں پر حکم جاری کیا جائے کہ صرف پیدل لوگ جائیں گے مگر باقی شہر کو کھلا رکھا جائے اور ان پیدل لوگوں کی باقاعدہ پولیس تلاشی یا سکیورٹی دروازوں سے نکالا جائے، مریض مزدور اور کاروباری لوگ اذیت سے بچ جائیں گے۔ اوپر سے ملکی حالات اور اس میں کاروباری حالات ایسے ہیں کہ پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی کہ کاروباری طبقہ اور زعما نے اپنے ملک کے آرمی چیف کے سے رابطہ کیا ہو کہ ہم مارے گئے کچھ بھی کہیں میرا یقین ہے کہ چیئرمین ایف بی آر وزیر خزانہ سے ملاقات کی نسبت وہ آرمی چیف سے ملاقات کر کے زیادہ تحفظ اور اطمینان محسوس کر رہے ہوں گے۔ حیرت ہے کرپشن نہیں بلکہ حکومتی اقدامات کی شکایت کی کرپشن سے یاد آیا۔

بہت پرانی بات ہے غالباً 2012ء میں لاہور کلکٹریٹ آف کسٹم کے متعلق ایک خبر لگی جس میں کرپٹ لوگوں کے متعلق تفصیلات تھیں میرا قصور یہ تھا کہ میں شریک جرم نہ تھا اور 2008 ء سے باقاعدہ طور پر اخبار اور ہم شہری ہفت روزہ میں مضمون اور کالم لکھ رہا تھا۔ بس! قرعہ میرے نام نکل آیا کہ خبر آصف نے لگوائی ہے حالانکہ ویسی خبر سوائے اخبار کے مالک کے کوئی نہیں لگوا سکتا اللہ بخشے عباس اطہر صاحب مرحوم کا بہت اثر تھا وہ ان دنوں فرض سمجھتے ہوئے کرپٹ کسٹم آفیسر کے خلاف خبر کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ وہ دن جائے اور آج کا دن آئے لاہور جن کسٹم یا FBR والوں نے کرپشن نہیں چھوڑی مگر ان کے خلاف جو خبر لگی۔ آصف بٹ کا نام لے کر اطمینان حاصل کرتے رہے۔ ان میں لاہور کے کلیئرنگ ایجنٹ ہوں، اہلکار یا وہ افسران سب میرے جھولے پہ پینگ ڈال لیتے ہیں حالانکہ خبریں لگانے والے بھی موجود ہیں۔ میرا کسی سے اس حوالے سے کوئی تعلق نہیں دراصل کرپشن چھوڑنا نہیں اور خبر چھپنے پہ دل گرفتہ ہو جاتے ہیں حالانکہ جن کے پاس چائے کی پتی نہ تھی اب ارب پتی ہیں سب میرے دوست ہیں چائنہ ، شاہ عالمی، کراچی کسٹم کہیں بھی ان کا ذکر ہو لوگ ان کے متعلق بہت ’’اچھی‘‘ رائے رکھتے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ لوگ اپنا Perception درست نہیں کرتے دوسرے کے پیچھے ڈانگ لے کر چڑھ جاتے ہیں۔

مجھے بھی عام لوگوں کی طرح کچھ گلوکار کچھ فنکار کچھ علماء پسند ہیں مجھے فلم سٹار اقبال حسن، سلطان راہی پسند تھے۔ ان کی طرح شاہد بھی پسند تھے ان کا تعلق گوجرانوالہ ضلع سے ہے خوبرو آدمی ہیں۔ پرسوں ہائی کورٹ بار میں دوستوں کے ساتھ فلموں اور اداکاروں کی باتیں شروع ہوئیں اینکرز پرسنز کی بات ہوئی۔ کامران شاہد کی بات بھی ہوئی کسی نے بتایا کہ وہ فلم سٹار شاہد حمید کے بیٹے ہیں جن کی فلم امراؤ جان ادا بڑی سپر ہٹ گئی۔ اینکرز اور فلموں کا ذکر تو چل ہی رہا تھا کہ کسی نے امراؤ جان سے اوریا مقبول جان کا ذکر کر دیا کہ موصوف ابھی تک 7 ویں صدی میں رہ رہے ہیں اور عصر حاضر کے ’’دانشور‘‘ کہلاتے ہیں شاید انہوں نے وطن عزیز کے کسی ناقابل موازنہ رہنما کا موازنہ اپنے منہ سے یوٹرن پر فخر کرنے والے ’’وزیراعظم‘‘ سے کر دیاتھا۔ افتخار شاہد ایڈووکیٹ نے کہا بنیاد پرستوں کے ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ کون سمجھائے سچ بہت بے باک ہوتا ہو۔ آنکھیں پھاڑ کر سامنے کھڑا ہوتا بڑے بڑے لوگ آئے جو تاریخ کے لکھے کو غلط کہنے کی کوشش کرتے رہے۔ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پاکستان کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو کا کردار کون بھول سکتا ہے آدھے ملک اور 5 ہزار مربع میل علاقہ پر دشمن کا قبضہ، 90 ہزار فوجی جنگی قیدی، دنیا کی بغیر کسی عہدے کے Most Demoralised قوم اور Disarmed Army کی نمائندگی کرنا اس کے بعد دنیا میں حمایتی اور دوست بنانا، اسلامی سربراہان کو ایک پلیٹ فارم اور مقصد پر لانا ملک کو ایٹمی ٹیکنالوجی مہیا کرنا، بے آئین زمین کو آئین دینا، ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والوں کو غیر مسلم قرار دینا۔ دوسری جانب آج دنیا کی اعلیٰ ترین فوج والے ملک ایٹمی قوت کی قیادت کرتے ہوئے یوں خالی کرسیوں اور اپنے انوسٹرز کے سامنے بے محل تقریر کرنا بہت فرق ہے۔ مسئلہ کشمیر سے دینی اعتبار تک صرف اپنی قوم کے جذبات سے کھیلنا انسانی حقوق کمیٹی میں 16 ووٹ نہ لے سکتا اور بات کرنا جنا ب بھٹو کی۔ دکھ ہوتا ہے جب اپنے آپ کو دانشور کہنے والے جانبداری کی حدیں عبور کر جائیں جب تک یہ میڈیا کی سکرین پر آنے والے اور کالم نگاری کرنے والے غیر جانبدار نہیں ہوتے قوم کی رائے سازی نہ کر پائیں گے۔ قوم کو شعوری طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ نیب سعودیہ والے اختیارات کی متقاضی ہے۔ وزیراعظم چائنہ والے اختیارات چاہتے ہیں۔ سعودیہ میں اذان ہونے پر شاہ سلمان صاحب نماز کے لیے اوبامہ اور اس کے وفد کو چھوڑ کر چلے گئے امریکیوں نے شاہ کو مفلوج کر دیا اور وہاں پر کرپٹ نہیں شہزادے کی نامزدگی پر اعتراض کرنے والے دھر لیے گئے یہاں بھی اعتراض کرنے والے جیل میں ہیں نیب کہتا ہے وہ لوگ سلاخوں کے پیچھے ہیں جن کا تصور نہیں شاید ضیاء کے وقت بھری ہوئی جیلوں کو تاریخ کا حصہ نہیں سمجھتے۔ زرداری تو 13 سال پہلے بھی جیل میں رہے نواز شریف بھی 14ماہ سخت ترین جیل کاٹ کر 8، 9 سال جلا وطنی میں رہے۔ تاجروں کی اکثریت کی دیانتداری سے سارا ملک واقف ہے۔ جن کی طرف سے چیئرمین فرماتے ہیں 6 ماہ سے کوئی شکایت نہیں ۔ دراصل منیر نیازی نے تو ایک اور دریا کے سامنے کی بات کی تھی۔ قوم کو تو مختلف دریاؤں کو سامنا رہتا ہے۔ ضیاء کے آگ کے دریا سے نکل کر قوم مسلسل دریاؤں کے سامنے کر رہی ہے ملاوٹ، مہنگائی، بیروزگاری، نا اہل حکمرانی ، ڈمی حکمرانی، بدعنوانی ، جانبداری، نا انصافی، قیادت کے فقدان، اعتماد کا فقدان، بے حسی، بے توقیری، بے بسی، پستی، ذلت یہ سب خوفناک دریا ہیں جن کا قوم کو بیک وقت سامنا ہے رہتا ہے مگر افسوس کہ اب اس میں اتنی سکت نہیں رہی کہ ان دریاؤں کو عبور کر کے کسی اور دریا کا سامنا کر سکے۔ جو ٹی وی پر جانبدار تجزیہ کار آتے ہیں بس نہیں چلتا کہ ان کی شکلیں ٹی وی کیا صفحہ ہستی سے غائب ہو جائیں پھر میں نیشنل جیو گرافی لگا لیتا ہوں۔ آپ بھی لگا کر دیکھیں صحت اچھی ہو گی اور سکون ملے گا کہ ایک ہنگامے سے جان چھڑا کر جنگل کے سکون میں داخل ہو گئے ہیں ورنہ کئی دریاؤں کا سامنا کرتے رہیں گے۔


ای پیپر