گرفتاری ضروری تھی
07 اکتوبر 2018 2018-10-07

قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی گرفتاری ضروری تھی ۔

تا دم تحریر معاملہ دس روزہ ریمانڈتک پہنچا تھا۔ اب اگلے دس روز نیب کی تفتیش سے کیا نکلتا ہے۔ یہ تو اگلی پیشی پر پتہ چلے گا۔ فی الحال معاملہ نیب ایسے تفتیشی و تحقیقاتی ادارے کے پاس ہے۔جس کا ماضی کا ریکارڈ مثالی نہیں۔ ماضی قریب میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ نیب نے سنی سنائی باتوں پر کچی پکی تحقیقات کے سہارے انکوائری کیں۔ تحقیقات کے دوران غلغلہ مچا۔ آخر میں پتہ چلا کہ مقدمہ ٹھس ہو گیا۔ اصل میں ہائی پروفائل مقدمات نہ ہوں تو نیب کا جواز ہی ختم ہو جائے۔ نیب کے پاس سرکاری افسران، چھوٹے درجے کے اہلکاروں، تاجروں، لینڈ ڈویلپرکے ان گنت مقدمات زیر التوا ہیں۔ کسی میں ملزم بری ہو جاتا ہے۔ کئی سخت جان ایسے بھی ہوتے ہیں جو آخری دم تک مقابلہ کرتے ہیں۔ اور اپنی قانونی سمجھ بوجھ کاریگر وکلاء اور نظام کی خامیوں سے فائدہ اٹھا کر عشروں کیس کو لٹکانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ لیکن ایسے مقدمات سے خبر نہیں بنتی۔

خبر تو تب بنتی ہے جب شکنجے میں کوئی ہائی پروفائل سیاستدان ہو۔ خوب براہ راست نشریات چلتی ہیں۔ گھنٹوں تک لائیو ٹکر چلتے ہیں۔ تجزیہ ہوتے ہیں۔ کوئی شاباش دیتا ہے۔ کوئی پیٹھ پر تھپکی دیتا ہے۔ متاثر ہ فریق کے حامی دشنام طرازی بھی کرتے ہیں۔لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔ابھی زیادہ پرانی بات نہیں اچانک ایک پریس ریلیز چلی۔ پتہ چلا کہ سابق حکمران کی بھارت کے ساتھ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی واردات پکڑی گئی۔ وائٹ کالر کی زیادہ نہیں تو تھوڑی بہت سمجھ بوجھ تو ہمیں بھی ہے۔ منی لانڈرنگ،وہ بھی بھارت کے ساتھ، بینکنگ چینل کے ذریعے۔بات ہضم نہ ہوئی۔ نیب جیسا ادارہ کسی تحقیق کے بغیر اتنا بڑا الزام کیسے لگا سکتا ہے۔ چند روز خوب لے دے ہوئی۔پتہ چلا کہ نیب نے بغیر کسی تحقیق کے ایک اپنے تئیں ماہر اقتصادیات کے توسط سے لکھے ہوئے کالم کوبنیاد بنایا اور کاروائی کا اعلان کر دیا۔

متاثرین کی جانب سے جواب بہت سخت آیا تو پتلی گلی سے نکل گئے۔ اتنا بڑا الزام لیکن ذمہ دار کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوئی۔ بہر حال جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ نیب کے قوانین مروجہ عام قوانین سے بالکل مختلف ہیں۔ نیب کے چیئر مین اور بورڈ کے پاس کئی قسم کے صوابدیدی اختیارات ہیں۔ جن کے تحت کسی کو دوران انکوائری اور تفتیش بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی ملزم پر باقاعدہ ریفرنس دائر ہو جائے تب بھی اس کو آزاد گھومنے پھرنے دیا جائے۔ حال ہی میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ نندی پور پاور پلانٹ سے متعلقہ ریفرنس میں جناب بابر اعوان، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف آزاد ہیں۔ گرفتاری کی نوبت نہیں آئی۔ اسی طرح خیبر پختونخواہ میں تو پشاور ریپڈ بس سروس کا معاملہ ہو۔ مالم جبہ ٹورسٹ ریزارٹ کی زمینوں کی لیز کا ایشو ہو۔ سرکاری ہیلی کاپٹر کا مبینہ غلط استعمال ہو۔ محکمہ تعلیم میں میں بھرتیوں کا ریفرنس ہو۔ بلین ٹری منصوبے میں بعض بے قائدگیوں کا ایشو ہے۔ اہم ترین شخصیات وفاقی وزارتوں ایسے عہدوں پر فائزہیں۔ انکوائریاں تو ہیں لیکن فائلیں چیونٹی کی رفتار سے چل رہی ہیں۔ البتہ تیزی ہے تو شریف خاندان کے خلاف مقدمات میں۔

چلیں جو حکمران رہا ہے اس کا احتسا ب بھی ضروری ہے۔ کیونکہ وہ قومی خزانے کے امین تھے۔ ان کے خلاف کاروائی پر کم از کم اس بندہ مزدور کو تو کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ اعتراض تو اس بات پر ہے کہ احتساب کے نام پر سیاست اور سیاست کے نام پر احتساب نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ پا نامہ میں کچھ نہ ملا تو اقامہ نکل آیا۔ صاف پانی میں کچھ نہ نکلا تو پھر آشیانہ کے نام پر کاروائی ہو گئی۔ جس چیف منسٹر نے خود اپنے دور میں کرپشن، بے قاعدگی کو محسوس کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا۔ وہ تو گرفتار ہو گیا۔ اور جو افسر بہت سے ایسے معاملات میں مبینہ طور پر ملوث ہے وہ نیک چلنی کا سرٹیفکیٹ لیکر وفاقی ادارے کا سربراہ ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی،داماد کو ایون فیلڈ میں سزائیں ہوئی۔ لیکن جب معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچا تو نیب پراسیکوٹر کے ہاتھ پاؤں پھولتے ہوئے اور چہروں کی ہوائیاں اڑتی ہو ئی سب نے دیکھیں۔ معاملہ یہیں پر نہیں رکا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریری تفصیلی فیصلہ آیاتو پتہ چلا کہ استغاثہ نے اپنا مقدمہ مفروضوں،اندازوں،واہموں اور گوگل کی کمزور بنیاد پر استوار کیا تھا۔ ابھی اس مقدمہ کی باز گنت ختم نہ ہوئی تھی کہ رانامشہود کا متنازعہ انٹرویو سامنے آ گیا۔ اس انٹر ویو نے نئے نویلے انقلاب اور اس کے لشکریوں کی سٹی گم کر دی۔ یو ں لگا کہ بنا بنایا کھیل بگڑ کر رہ گیا ہو۔ حالانکہ کوئی ایسی بات نہ تھی ۔ ابھی تو نیا نویلا عشق ہے۔ ابھی کچھ نہیں ہو گا۔ فی الحال مارکیٹ میں میسر قوت و توا نائی کے تمام ایکشن لگا کر کانگڑی پہلوان کو دنیا کا بہترین ریسلر ثابت کرنے کی کوشش جا ری رہے گی۔ لیکن خوف کا کیا کریں۔ وہ کسی پل کسی کروٹ چین نہیں لینے دیتا۔ لہٰذا خوب بھاگ دوڑ ہوئی۔ حالانکہ اصل فریق تو مذاکرات کیلئے کسی سودے بازی، کسی ڈیل کا خواہشمند ہی نہیں۔ اس کو معلوم ہے کہ ہر گز رتا د ن خوش نما مہرے سے رنگ و روغن اتار رہا ہے۔ رنگ و روغن ٹوکن کا ہو تو دن ہی کتنے لیتا ہے اترنے میں۔ شہباز شریف کی گرفتاری سے اور آئندہ کی متوقع گرفتاریاں ایک ہی وقت میں کئی کشتیوں کے سواروں کو سبق سکھا دینگی۔ ان کوباور کرائینگی کہ ان کے پاس مفاہمت کاکوئی آپشن نہیں۔ البتہ ایک راستہ ہے۔برادر بزرگ سے مکمل سیاسی قطع تعلق۔ان کا راستہ الگ مفاہمت کے خواہشمند کا راستہ جدا۔مکمل علیحدگی۔ مفاہمت چاہیے۔ رعایتیں درکار ہیں تو پھر اس کی قیمت ہے۔ ادا کرنے کی ہمت ہے تو راستے تلاش کرنے میں دیر نہیں لگتی۔

شہباز شریف کی گرفتاری ضروری تھی ۔ مہنگائی کا جن آزاد ہو چکا۔ٹیکسوں کا کمر توڑ بوجھ لدچکا۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ ضمنی الیکشن کے بعد مزید اضافہ ہو گا۔ گیس اب بم بن چکی۔ چینی، کھاد، گھی ہر چیز کی قیمت راکٹ کی رفتار سے پرواز کر رہی ہے۔ محکمے بند کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔پینشنربوجھ محسوس ہو رہے ہیں۔سرکاری عمارتیں فروخت کیلئے تیار ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ بند دروازے پر دستک دیدی گئی ہے۔ عوام کو دینے کیلئے کچھ نہیں فی الحال وعدے اور ارادے ہیں۔ لہٰذا سوالات کے انبار سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے کچھ تو حیلہ، بہانہ چاہیے۔ غالب کے پرزے اڑیں گے تو روٹی ملے نہ ملے۔ اذیت پسندی کی خوکی تسکین تو خوب ہو گی۔


ای پیپر