احتساب اور انتقا م
07 اکتوبر 2018 2018-10-07

آج کا کالم لکھنا میرے لیے آسان نہیں۔ میں نے ماضی میں شہباز شریف کے ان اقدامات پہ تنقید کی جو مفادِ عامہ کے حق میں نہ تھے اور یہ تو میں اب بھی کہتا ہوں کہ بیوروکریسی کے مفاد پرست مخصوص ٹولے کو اپنی چھتری فراہم کرکے ان کی کرپشن کی راہیں ہموار کیں۔ میں احد چیمہ اور فواد حسن فواد کی گرفتاری سے بہت عرصہ قبل شہباز شریف کو ان کی غلط کاریوں کے بارے میں آگاہ کرتا رہا اور پھر وہی ہوا۔ ان دونوں حد درجہ کرپٹ بابوؤں کو گرفتار کرکے ان سے سچ اگلوایا گیا جو میاں شہباز شریف کی گرفتاری کی صورت میں سامنے آیا۔ لیکن جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ یہ کالم لکھنا میرے لیے آسان نہیں۔ وہ یوں کہ میاں شہباز شریف کی وہ خدمت جو انہوں نے پنجاب خصوصاً اس کے سب سے بڑے شہر لاہور کی کی ہے، اس سے انکار کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ میں اپنے ضمیر کا غلام ہوں۔ تنقید برائے تنقید لکھنا میرا شیوہ نہیں ہوسکا۔ اس لیے شہباز شریف پہ تنقید لکھتے وقت میں ان کے کیے گئے اعلیٰ اقدامات سے انکاری نہیں ہوسکتا۔ میں احتساب کے عمل کا ہرگز انکاری نہیں۔ لیکن یہ ضرور کہوں گاکہ احتساب کے عمل میں انتقام کا چھپا ہوا جذبہ نہیں ہونا چاہیے۔ مگر یہاں تو تحریک انصاف کی حکومت کے رویوں سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ وہ انتقام کے زہر سے آلودہ ہے۔ شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ حکومت کا بیان سامنے آیا ہے کہ شہباز شریف کو صاف پانی فلٹریشن کیس میں گرفتار کیا گیاہے ۔ پھر یہ خبر بھی حکومت ہی نے سنائی کہ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ ایسا سرے سے ہوا ہی نہیں۔ تو قارئین کرام آپ اسے احتساب کہیں گے یا انتقام؟ مسلم لیگ (ن) کا یہ کہنا ہے کہ ایک پروگرام کے تحت شہباز شریف کو لاہور کے اہم حلقے کے ضمنی انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کمزور کرنے کی نیت سے گرفتار کرنا ہی تھا تو دو ہفتے مزید انتظار کرلیا ہوتا۔ شہباز شریف جو اپوزیشن لیڈر بھی ہیں کہیں ملک سے فرار تو نہیں ہورہے تھے۔

آج جب میں پلٹ کر شہباز شریف کی کی گئی غلطیوں پہ نگاہ ڈالتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے نیچے کے لوگوں پہ ذرا بھی بھروسہ نہیں کیا۔ اگر بھروسہ کیا تو چالاک بیوروکریٹس پہ۔ جہاں تک نیچے کے لوگوں پہ بھروسے کا تعلق ہے تو یہ امر بھی اپنی جگہ تلخ حقیقت ہے کہ ان میں سے بیشتر واقعی بھروسے کے قابل نہیں لیکن کچھ تو مخلص ہیں اور ضرور ہیں۔ انہیں تلاش کیا جاتا ۔ انہیں ساتھ لے کر چلا جاتا۔ مگر میاں شہباز شریف ان کے بغیر چلے۔ کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے کہ انہوں نے انتھک جسمانی محنت کی۔ وہ فل بوٹ پہن کر شمالی لاہور کے گندے پانیوں میں چلے۔ پھر اس کا ثمر بھی سامنے آیا۔ آج کے شمالی لاہور کی شکل میں خوشگوار تبدیلی آچکی ہے۔ یہی نہیں پورے لاہور اور پھر لاہور ہی نہیں بلکہ پنجاب کے سب ہی بڑے شہروں میں جیسے فیصل آباد اور ملتان وغیرہ میں سڑکوں اور دیگر راستوں میں بہت بہتری آچکی ہے۔ میٹرو بس سروس کا اجرا، جسے ان کے مخالفین نے جنگلہ بس سروس کے نام سے پکارا، شہباز شریف کا بڑا کارنامہ ثابت ہوا۔ خود وزیر اعظم عمران خان نے میٹرو بس سروس کو طرح طرح کے ناموں سے یاد کرکے اس کا مذاق اڑایا اور پھر قدرت کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ پشاور میں اسی طرز کی میٹرو بس سروس کے اجراء کی کوشش کی۔ آج پنجاب کی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر عثمان بزدار متمکن ہوچکے ہیں۔ سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا وہ شہباز شریف کا نعم البدل ثابت ہوسکیں گے؟ پھر کہتا ہوں کہ میاں شہباز شریف کا احتساب کرتے وقت انتقام کے عمل سے مکمل طور پر اجتناب برتا جائے۔ مبادا کہیں صوبہ پنجاب کی ترقی کا عمل پیچھے کی جانب سفر پہ آمادہ نہ ہوجائے۔ شہباز شریف کا عہد تھا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو صوبہ پنجاب کی طرح پورے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دیں گے۔

مگر نہیں! اس ملک میں تو افواہوں اور بدنیتی کا بازار گرم رکھا گیا۔افواہیں اڑائی گئیں کہ شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان برادران کا خاندان ایک نہایت روایتی گھرانہ ہے۔ ذرا نزدیک سے دیکھیں تو آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ میاں شہباز شریف، میاں نواز شریف کو اپنے والد کی سی عزت دیتے ہیں۔ ان کے ہاں بڑے چھوٹے کی عزت و احترام کا حد درجہ خیال رکھا جاتا ہے۔ مرحومہ محترمہ بیگم کلثوم نواز کا اپنی کتاب میں لکھنا ہے کہ ہمارے ہاں شادی بیاہ کے موقعوں پر بھی ڈھول دھمکوں کی اجازت نہیں ہوتی۔ لہذا شریف فیملی کے بارے میں بے پر کی اڑا نے سے پہلے یہ سوچ لیا جائے کہ اس سے نہ صرف یہ کہ ان کی کس قدر دل آزاری ہوگی، بلکہ یہ کہ اس سے ہمارے معاشرے پہ کیا اثر پڑے گا۔ اگر آپ کے ہاتھ میں انصاف کا ترازو آجائے تو اپنے من پسند پلڑے میں اپنے جذبات کا وزن مت ڈالیں۔ یعنی میاں شہباز شریف کا احتساب کرتے وقت جذبہ انتقام کا وزن اپنے من پسند پلڑے میں شامل مت کریں۔ کیونکہ پھر آخری احتساب قدرت کا بھی ہوتا ہے اور یہ ہر طرح کی رعایت سے پاک ہوتا ہے۔ میاں شہباز شریف کو اس وقت کمزور پا کر ان پر الزامات کی بھرمار کرتے وقت ان کے نیک کارناموں کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اہم ترین نکتہ شہباز شریف کی گرفتاری سے متعلق یہ ہے کہ وہ اس وقت ملکی سیاست میں اپوزیشن کے متفقہ چیف لیڈر ہیں۔ قومی اسمبلی اور ملکی سیاست میں ان کی غیر حاضری سے جو فضا پیدا ہوگی وہ مطلق العنا نی کی فضا پیدا کر نے سے بھی بدتر ہوگی۔ احتساب ضرور کریں مگر صورتِ حال کی نزاکت کا خیال کریں اور جمہوری قدروں کو پامال ہو نے سے بچا ئیں۔ جمہوری قدروں میں کوئی ہارڈ لائن نہیں ہوا کرتی۔ ایک گرے ایریا ضرور ہوا کرتا ہے۔ گرے ایریا کی غیر موجودگی معاشرے میں انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے۔ یہ ملک پہلے ہی انتہا پسندی کے نشانے پر ہے۔ لہجے میں نرمی پیدا کرکے جذبہ انتقام کو دھتکارنے کی ضرورت ہے۔ پھر شہباز شریف کے بطور اپوزیشن لیڈر کردار کو بھی یوں سامنے رکھا جائے کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں یہ اعلان کیا کہ وہ بطور اپوزیشن لیڈر ملک میں جمہوری عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے اور ان کے طرزِ عمل سے یہ واضح بھی ہوچلا تھا۔ ان پہ مقدمہ چلاتے وقت اپوزیشن جماعتوں کے جذبات کا خیال ضرور کیا جائے۔ ان سے انصاف کرتے وقت ان کے پلڑے میں ان کی خدمات کا وزن ضرور شامل کیا جانا چاہیے۔ آج کا پاکستان انصاف کا متلاشی ہے۔ اسے آج بھی اگر انصاف نہ ملا تو وہ کہنے پہ مجبور ہوجائے گا ؂

یہ شاخِ نور جسے ظلمتوں نے سینچا ہے

اگر پھلی تو شراروں کے پھول لائے گی

نہ پھل سکی تو نئی فصل گل کے آنے تک

خمیرِ ارض میں اک زہر چھوڑ جائے گی


ای پیپر