سہانے خواب خوفناک تعبیریں
07 اکتوبر 2018 2018-10-07

کیا ہو رہا ہے؟ جو کچھ ہو رہا ہے آپ نہیں دیکھ رہے، دیکھ رہے ہیں تو پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کا ورد کیجیے اور خاموش رہیے، اضطراب اور بے چینی کیوں، پانچ سال پڑے ہیں پچاس دنوں میں گھبرا گئے ابھی تو بہت کچھ ہوگا’’ ابھی ہوا کیا ہے،، پتا نہیں لوگ کیا سوچ رہے ہیں، سوچوں پر تو پہرے نہیں بٹھائے جاسکتے، سوچ رہے ہیں عام انتخابات سے قبل نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو لمبی سزائیں اور ضمنی انتخابات سے صرف ایک ہفتہ دس دن قبل شہباز شریف کی گرفتاری، ٹائمنگ اہم تھی اور ہے، ن لیگ کے امیدواروں کی انتخابی مہم کون چلائے گا ؟عام انتخابات سے چند دن قبل بھی انتخابی جلسوں کے موسم میں آندھی چلی تھی جو ن لیگ کا سب کچھ بہا کر لے گئی، جلسوں اور ریلیوں کو گرمانے والے باپ بیٹی اور داماد جیل چلے گئے جس جرم میں گئے اس کے بارے میں سب نے یک زبان ہو کر کہا مفروضوں پر سزا ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سخت ترین ریمارکس کے ساتھ سزائیں معطل کردیں، تینوں باہر آگئے مگر وقت گزر چکا تھا، ساری کارروائی مکمل ہوچکی تھی، ملک خداداد نواز شریف کے بغیر بھی چل ہی رہا ہے ’’غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں۔‘‘ کام چل رہا ہے، بس کان بند ہیں کھلے رکھیں تو گالیاں، غیر پارلیمانی ریمارکس سننے کو ملتے ہیں سیاست میں یہ روایت پہلی بار دیکھنے کو ملی کسی کی عزت محفوظ نہیں، ثبوت کی ضرورت نہیں کسی کو بھی چور ڈاکو کہا جاسکتا ہے، ن لیگ کے سارے لیڈر چور ڈاکو، پیپلز پارٹی کے سارے رہنما کرپٹ لیکن ابھی ’’نظر کرم‘‘ ن لیگ پر ہے ان سے نمٹیں تو پیپلز پارٹی کو نمٹائیں ابھی اس کا وقت نہیں آیا ٹائمنگ اہم ہے، انتظار کیا جانا چاہیے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو نیب نے بلا بھیجا ،آئے تو گرفتار کرلیا، ثبوت بعد میں پیش کیے جائیں گے، سید خورشید شاہ سابق اپوزیشن لیڈر لاکھ اختلاف کے باوجود سچ بات کہہ گئے کہ گرفتاری سے پری پول دھاندلی کا تاثر ملتا ہے مگر پکڑنے واے پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے، ارد گرد سارے کھلاڑی، ن لیگ والے اناڑی، کہنے گے اسپیکر قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر قائد حزب اختلاف کی گرفتاری خلاف قانون، کیسے خلاف قانون ہوئی؟ ڈی جی نیب لاہور نے گرفتاری کے ساتھ ہی اسپیکر کو اطلاعی خط لکھ دیا، بقول شخصے ہاتھوں کی ہتھکڑی میلی نہیں ہوئی تھی کہ قانونی شکل دے دی گئی، اسپیکر سیدھے سادھے شریف اور خاموش طبع انسان، معاف کیجیے آدمی بلکہ سیاستدان، وہ کیا کہیں گے کچھ کہیں گے تو بھی نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا، کیا گرفتاری کی مخالفت کریں گے یہ تاب یہ مجال یہ ہمت کہاں سے لائیں، اسپیکر لاکھ غیرجانبدار ہو، پارٹی سے تعلق مقدم، رانا مشہود نے دیگر ن لیگیوں کی طرح حماقت کی، وقت سے پہلے راز کی بات کہہ دی یا پھر ’’ٹور‘‘ جمانے کے لیے غلط بات اچھال دی، سچ پوچھیے تو سارے ن لیگی پیٹ کے ہلکے واقعی متوالے، کوئی راز سینے میں نہیں رکھ سکتے، حالانکہ مکتب سیاست کا پہلا اصول منافقت، پہلا سبق کچھ نہ کہو سب کی سنو، سیاستدان اندر کچھ باہر کچھ، اچھے سیاستدان کبھی اندر کی بات باہر آکر نہیں بتاتے، حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لیے اخفائے راز شرط اول، ن لیگ کے بیشتر رہنما ’’بڑ بولے‘‘ بڑھک باز اور پیٹ کے ہلکے ثابت ہوئے، اپنے 5 سالہ دور میں راز ہائے دروں افشاء کر کے کئی قسم کی لیکس کے مجرم کہلائے، یاروں نے تو ن لیگ کو ’’ن لیک ‘‘ کہنا شروع کردیا ہے، ن لیگ اپنی انہی حرکتوں کے باعث’ ویک‘ ہوگئی، ہاں تو رانا مشہود نے حماقت کی اور سر عام رسوائی مول لی جو باتیں انہوں نے کیں یا ان سے منسوب کی گئیں سارے فسانے میں ان کا ذکر تھا یا نہیں لیکن ان کی حماقت شہباز شریف کی گرفتاری کا باعث بن گئی، رانا مشہود کی ’’افسانوی باتیں‘‘ صاحب کو بری لگیں کیوں؟‘‘ معاملات طے ہونے‘‘ کی صحیح یا غلط خبر پر ن لیگی بغلیں بجا کر غالب کا شعر الاپنے لگے تھے کہ
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اڑتی سی یہ خبر ہے زبانی طیور کی
غلط خبر اڑانے والے طیور تو اڑان بھر گئے لیکن شہباز شریف زیر دام آگئے، جن سے معاملات طے ہونے تھے انہوں نے تردید میں دیر نہ لگائی تردید میں جلدی کیوں دکھائی ناقابل فہم، معاملہ چوپٹ ہوگیا، یاروں کو کھیل بگڑتا نظر آیا، نیب نے شہباز شریف کو بلا بھیجا وہ اپنے تئیں چائے پینے گئے تھے ملزم بنا کر بٹھا لیے گئے بسکٹ چائے میں ڈبو کر کھاتے ہوں گے، سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈبو دیے گئے، اب احتساب عدالت کے چکر لگیں گے، بڑے بھائی سو سوا سو پیشیاں بھگت چکے اب چھوٹے کی باری ہے، ضمنی انتخابات کہاں رہ گئے انتخابی جلسوں میں جذباتی تقریریں کرنے والا لیڈر ضمانت کے لیے فکر مند، رانا مشہود نے چالیس سیٹوں پر کامیابی کا جو سہانا خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر کتنی ہولناک نکلی، نواز شریف ان دنوں فارغ ہیں، بس صبح ناشتہ کے بعد پیشی بھگتنا ہوتی ہے، ماشاء اللہ میڈیا سے بات چیت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، یعنی بالکل فارغ کردیے گئے ہیں، فارغ اوقات میں غور تو کیا کریں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے تھا کیا کیا ،طیب اردوان کیوں نہ بن سکے، ڈیڑھ کروڑ عوام انہیں ووٹ دے دیتے ہیں لیکن گرفتار کرلیے جائیں تو درجن بھر لوگ نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں ایسا کیوں ہے؟
ان سے بہتر تو عمران خان رہے جنہوں نے وہیں سے نمو پائی لیکن تعلق قائم رکھا اور ایک مضبوط وزیر اعظم کو پٹخنی دے کر اکھاڑے سے تا حیات باہر پھینک دیا اور راجدھانی پر قابض ہوگئے ’فیصلہ سازوں سے دشمنی اچھی نہیں ہے میر‘ باقی سب باتیں اوٹ پٹانگ، دراصل نواز شریف ہر دور میں سڑکیں بناتے رہے کردار سازی نہ کرسکے پروپیگنڈا کرنے، جھوٹ کو دہرا دہرا کر سچ بنانے الزام کو جرم بنانے کے طور طریقوں سے ناواقف رہے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق میڈیا کو استعمال نہ کرسکے ،کوئی اے ٹی ایم مشین تلاش کرلیتے کوئی جوہر کامل،ماہرین کی ٹیم، ٹاسک فورس اور فدائین کی جماعت وہ مخمصے میں پھنسے رہے ٹائمنگ اہم ہے، انہوں نے وقت پر اہم فیصلے کیے نہ قدم آگے بڑھائے، سیاست میں اسٹیپ ڈاؤن شکست کی علامت ،وہ اسے شرافت اور رواداری قرار دیتے رہے، لندن پلان کا غلغلہ 2014ء میں بھی بلند ہوا تھا انہوں نے مقابلے کے لیے گھوڑے تیار رکھے نہ اپنی سپاہ کو آگے بڑھایا ،ہر طرف سے تردیدوں کے باوجود لندن پلان حقیقت تھا ،گھوڑوں کا سودا اسی وقت سے ہو رہا تھا، ایسا نہ ہوتا تو علامہ طاہر القادری اپنے دست راست خرم نواز گنڈا پور کو نکال باہر کرتے لیکن انہوں نے اپنے خوش و خرم رہنے والے دل نواز لیڈر کی بات کی تردید تک نہ کی، نواز شریف اس تمام عرصہ میں جائے اماں ڈھونڈتے رہے اس عرصہ میں لوگ اچھے نہ مل سکے یا ڈھونڈے نہ جاسکے۔ سارے حکومتی کیمپ میں بیٹھے ہیں ایسا کیوں ہوا کبھی تو غور کرلیا جائے اوپر تلے اتنی مشکلات کے بعد بھی صرف خواب دیکھتے رہے تو سہانی تعبیریں کیسے نکلیں گی اہم اداروں کے تمام سربراہ ہٹا دیے گئے ادھار پر گزارہ چندوں کی اپیلیں زر مبادلہ 28 ارب ڈالر سے گھٹ کر صرف 8 ارب ڈالر رہ گئے اس پر کرپشن اور چور ڈاکو کا شور ،کیسا خواب ہے اس خواب کی تعبیر کتنی ہولناک ہوگی اس کا اندازہ پچاس پچپن دن بعد ہی ہوسکے گا۔


ای پیپر