امریکی صدر ٹرمپ کی سعودی حکمران خاندان کو دھمکی
07 اکتوبر 2018 2018-10-07

امریکی صدر ڈولنڈ ٹرمپ کی سعودی حکمران خاندان کو یہ دھمکی کہ وہ سعودی عرب میں امریکہ کی مدد کے بغیر دو ہفتہ بھی حکومت نہیں کر سکتے اس بات کی غماز ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں کہیں نہ کہیں کچھ دراڑ پڑ چکی ہے۔
اس دھمکی کو سمجھنے کے لئے ہمیں عرب کے تاریخ پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
جس خطہ کو آج ہم عرب کہتے ہیں اور جس میں کئی ریاستیں شامل ہیں دراصل یہ سب سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھیں یا باجگذار تھیں۔پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا اور اسے شکست ہوئی۔
جب مغرب کی سامراجی طاقتیں پوری دنیا کو اپنا غلام بنا رہی تھیں تو وہ عرب کی ریاستوں کو بھی اپنے تابع کرنا چاہتی تھیں۔تاریخ کے طالب علموں کو اس بات کا علم ہے کہ مغربی سامراج نے مقامی عرب حکمرانوں کو ترکی کے خلاف بغاوت پر اکسایہ اور ان کی جدوجہد میں ہر طرح سے مدد بھی کی ۔میری نسل کی لوگوں کو لارنس آف عریبیہ کا نام یاد ہوگا اس پر ایک فلم بھی بنی تھی۔یہ شخص ہندوستان میں بھی رہا تھا اور اس کی پہلی بیوی نے شیر کشمیر شیخ عبداللہ سے شادی کر لی تھی فاروق عبداللہ اسی کا بیٹا ہے۔لارنس نے ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت میں بہت بھرپور حصہ لیا اور اسے کامیاب بنانے میں بھی اہم اور بنیادی کردار ادا کیا۔
ترکوں کو پہلی جنگ عظیم میں شکست ہوئی اور ان کی سلطنت کئی ملکوں میں تقسیم ہو گئی۔اس شکست اور خلافت کے خاتمہ نے ہندوستان میں بھی گہرے نقوش چھوڑے۔میری نظر میں برصغیر کی آزادی کی جدوجہد میں سب سے بڑی اور اہم تحریک‘ تحریک خلافت تھی۔جس نے سامراج کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور برطانوی سامراج ہندوستان کو Domanionکا درجہ دینے کے لئے تیار ہو گیا تھا۔مجھے عظیم مزدور اور ٹریڈ یونین رہنما مرزا ابراہیم نے اپنے گاؤں کالا گجراں میں انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ وہ بچپن میں اپنے گاؤں میں تحریک خلافت کے دوران دوسرے بچوں کے ساتھ سامراج کے خلاف اور خلافت کے حق میں جلوس نکالتا تھا۔
برطانیہ اور فرانس نے عرب ریاستوں کو آپس میں بانٹ لیا اور اپنی مرضی کے حکمران مسلط کر دیے۔جس ملک اور خطہ کو ہم آج سعودی عرب کہتے ہیں یہاں شریف مکہ کی حکومت تھی جس کے خلاف سعودی خاندان نے بغاوت کی اور اس کو مار بھگایا۔اس خطہ کو انہوں نے سعودی عرب کا نام دیا اور جو آج بھی قائم ہے اور آج بھی یہاں شاہ سعود کے خاندان کی حکمرانی ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد سارے عرب پر باشاہوں کی حکمرانی تھی۔شریف مکہ کے خاندان کے حصہ میں اردن اور عراق آئے اور مصر میں شاہ فاروق کی حکمرانی تھی۔
دوسری جنگ عظیم میں ان ممالک میں ترقی پسند اور قوم پرستانہ سامراج دشمن نظریات بہت پھیلے۔
مصر میں شاہ فاروق کا تختہ وہاں کے نوجوان فوجی افسروں نے الٹ دیا۔
اسی طرح عراق اور شام میں بھی بادشاہتیں ختم ہوگئیں۔
برطانیہ نے یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارتی راستہ کم کرنے کے لئے نہر سویز کھودی ۔ کرنل جمال عبدلناصر نے برسراقتدار آکر نہر سویز پر مصر کی حکمرانی کا اعلان کردیا جس پر برطانیہ اور فرانس نے اس پر حملہ کردیا۔اس جنگ میں امریکہ نے مصر کا ساتھ دیا اور اس طرح سے پرانے سامراج کا خاتمہ ہوگیا۔
امریکہ کو دوسری جنگ عظیم کا سب سے زیادہ فائدہ ہوا اور وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔اس نے دنیا پر حکمرانی کے لئے مختلف علاقوں میں فوجی گروپ بنائے جس میں بغداد پیکٹ بھی ایک تھا جس کا پاکستان بھی ممبر تھا۔بغداد میں بادشاہت کے خاتمہ کے بعد محب وطن فوجی حکمرانوں نے بغداد پیکٹ سے نکلنے کا اعلان کر دیا اور اس طرح بغداد فوجی پیکٹ ختم ہو گیا اور اس کی جگہ سینٹو فوجی معاہدہ معرض وجود میں آگیا پاکستان اس کا بھی ممبر تھا۔
بیسویں صدی کے شروع میں سعودیہ اور دوسرے عرب ممالک میں تیل دریافت ہو گیا۔جس کی وجہ سے نہ صرف ان ممالک کی اہمیت میں اضافہ ہوا بلکہ یہ ملک بھی مالدار ہو گئے۔
تیل کی دریافت سے پہلے عرب ممالک اور خاص کر سعودی عرب کی مالی حالت کے بارے میں بہت ساری کتابوں میں تفصیل مل جاتی ہے۔
عرب قوم ہرستی اور سامراج دشمنی کا راستہ روکنے کے لئے امریکہ اور یورپ کا سب سے بڑا اتحادی سعودی عرب تھا/ہے قوم پرست عربوں نے سابق سوویت یونین کو اپنا حامی خیال کیا۔ مگر حقیقت یہ ہے امریکہ اور سوویت روس دونوں نے اپنی اپنی جگہ عرب قوم پرستی کا خاتمہ کیا۔ سعودی عرب نے اسلامی ممالک کی تنظیم OICبنائی گئی۔
یہاں خطہ کی تاریخ لکھنا مقصود نہیں ہے اور نہ ہی یہ ایک کالم میں لکھی جا سکتی ہے۔
خطہ کے اپنے تضادات ہیں۔ سعودی عرب کے بھی اپنے اندرونی تضادات ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب میں ایک خاندانی حکومت ہے اور اس کے بھی اندرونی تضادات ہیں۔جن کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔
پچھلی صدی یعنی 1979ء میں مذہبی انتہا پسندوں نے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا تھا اور غیر ملکی فوجوں کی مدد سے اسے خالی کروایا گیا تھا۔
آخر میں یہ عرض ہے کہ سعودی عرب کے بھی عزائم ہیں اور وہ خطہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ وہ مسلمانوں کی قیادت بھی کرنا چاہتا ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ سعودی عرب امریکہ سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدتا ہے ۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب کے پاس افرادی قوت نہیں ہے۔
سعودی عرب نے کچھ مسلمان ممالک کی ایک فوج بھی تیار کر لی ہے اور اس کا سربراہ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف ہیں مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فوج سعودی خاندان کی حکومت کو تحفظ فراہم کر سکے گی؟جب سعودی عرب نے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے یمن میں فوجیں بھیجنے کے لئے کہا تو نواز شریف نے یہ معاملہ اسمبلی کے سامنے رکھا جس نے اس کی اجازت نہیں دی۔
موجودہ حکومت بھی بار بار اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ وہ کسی کی جنگ نہیں لڑے گی۔مگر ہر پاکستانی حکومت کی طرح عمران خان سب سے پہلے امداد حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب ہی گئے۔
سعودی عرب جہاں کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات ہیں اور جہاں پوری دنیا سے مسلمان حج اور عمرہ کرنے جاتے ہیں کو چاہئے کہ اس سارے مسئلہ پر گہرائی سے غور و خوص کرے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی حکمرانوں کو نئی زمینی حقیقتوں کا ادراک ہے اس لیے انہوں نے روس اور چین سے تعلقات برھائے ہیں۔ اور بر ملا کہا ہے کہ وہ امریکہ کے کہنے پر سوویت یونین کے خلاف لڑتے تھے۔
آپ صدر ٹرمپ کے بیان کو ایک مسخرہ امریکی صدر کی بڑھک بھی کہہ سکتے ہیں مگر یہ نئے زمینی حقائق کی نشاندہی بھی کرتی ہے اور ضرورت ہے کہ پرانے خیالات اور نظریات سے نکل کر سوچا اور سمجھا جائے۔


ای پیپر