وزیراعظم عمران خان متوجہ ہوں
07 اکتوبر 2018 2018-10-07

اس کے ہاں آئے دن بحران ،قحط،قلت کا سامنا رہتا۔بظاہر دیکھنے اور کہنے میں سب کچھ ٹھیک تھا مگر اندر کی صورتحال کا جب اسے اندازہ ہوا تو اس نے سب کو اکھٹا کیا اور کہاکہ ہم آئے دن کسی نہ کسی پریشانی اور مصیبت میں ہی مبتلا رہتے ہیں ،جبکہ ہمارے سفیر ، مشیر،وزیر ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ ہمارا نظام ٹھیک چل رہا ہے ۔ملک بڑی ترقی کر رہاہے، مگر ایسا نہیں ہے ۔یہ جو آئے دن کسی نہ کسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑ تا ہے اس کیلئے ہم سب یہ فیصلہ کر تے ہیں کہ صدر مملکت کے محل کے با ہر جوتالاب ہے اس میں رات کی تا ریکی میں ہر شخص اپنی استطاعت کے مطا بق دودھ ڈالے گا،جتنا جس سے ہو سکے گا ۔وہ دودھ ہم صبح اکھٹے مل کے خدا ئے بزرگ وبرتر کی مخلوق میں تقسیم کر دیں گے۔اس سے لگتا ہے کہ ہمارے معاملات بہتری کی طرف چل پڑیں گے۔دودھ تقسیم کرنے سے پہلے ہم سب اکھٹے ہو ں گے اور خدا کے حضور اپنی غلطیوں ، اپنے گناہوں کی معافی کے طالب ہو ں گے۔ پوری دلجمعی سے کا م کریں گے ۔ تا کہ ہمارا ملک بھی ترقی کرے ۔ صبح سب اکٹھے ہوں گے ۔

رات ہر شخص نے اپنی حیثیت اور طا قت کے مطا بق تا لا ب میں دودھ ڈالنا تھا، تا کہ سا رے کا سارا صبح غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم ہو سکے ،�آ ئے روز کی مصیبت اور آفت سے نجات مل سکے۔ صبح وعدے کے مطا بق سب تا لاب پہ اکٹھے تھے ۔ دودھ لینے والے غریب اور مسکین بھی بڑی تعداد میں جمع تھے ۔گرم وادیوں کے با سی سورج نے مشرق سے اپنا سر اوپر اٹھا یا تو سب شاہ وگدا تالا ب کنارے جمع تھے ،مگر کیا دیکھتے ہیں کہ تا لا ب میں ہر طرف پا نی ہی پا نی ہے۔جس سے تالاب بھر آیا ہے۔ اب یہ نہیں کہ کو ئی آیا نہیں اور اس نے تا لا ب میں کچھ ڈالا نہیں ۔ ہر شخص یہ سمجھ کے پا نی ڈالتا رہا کہ دوسرا دودھ ڈالے گا اور میرے پانی سے کو ئی فرق نہیں پڑے گا ۔ہر شخص پوری لگن سے رات پانی ڈالتا رہا یہ تو صبح معلوم پڑا کہ پو ری آبادی میں کو ئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جس نے دودھ ڈالا ہو۔ ہم اپنی 70 سا لہ تا ریخ کا جا ئزہ لیں تو سمجھ آ جا تی ہے کہ ہما رے یہاں کسی نے دودھ کا قطرہ بھی نہیں ڈ الا اور آج کے دن تک صرف پانی ہی پا نی ڈالا ہے۔ جولا ئی 2018 کے الیکشن کو دھاندلی زدہ کہنے والے 2013 کو شفاف کہتے ہیں۔2013کو شفاف کہنے والے2008کو شفا ف نہیں کہتے ،جبکہ 2008کو شفاف کہنے والے2002کو شفاف نہیں کہتے اور 2002کو شفاف کہنے والے پچھلے کسی الیکشن کو بھی شفا ف نہیں کہتے۔ کیو نکہ وہ قا ئداعظم کے وارث ہو نے کے دعویدار ہیں ۔ایک اعتبا ر سے دیکھا جا ئے تو ہم دنیا میں شاید پہلے نمبر پہ ہو ں گے کہ ہما را ہر شہری دنیا جہا ن کے ہر مرض کا علاج جا نتا ہے۔ ہرمسئلے کا حل انگلیوں پہ لئے بیٹھا ہے ہما رے یہاں دم درود سے دلو ں تک کے آپریشن کر دئیے جا تے ہیں ۔ جہا ں سائنس سے اس لیے نفرت کی جا ئے کہ سائنس کی ایجاد کا سہرا بھی ہما رے آبا ؤ اجداد کے سر ہے ۔ہمیں اچھاا نہیں لگتا کہ ہم دنیا کو بتا ئیں کہ سائنس ہم نے ہی ایجا د کی تھی ۔جامِ جہا ں نما ( کمپیو ٹر) سے معلو م پڑتا ہے کہ ہم کس طرح کی مو یز دیکھتے ہے اسی میدان میں ہم تین سال سے پہلے نمبر پہ ہیں ۔ہم ووٹ لینے بھی آتے ہیں اور اسی جمہو ریت کو کفر کہتے ہیں ۔ سب کے سب سیا ست دانوں نے یہاں جمہوریت کا جوحال کر دیا ہے وہ بھی ہما رے ملک میں تعریف کے قا بل ہے ۔بلا ول نو جوان ہے ورجس پا رٹی کا وہ وارث ہے ،وہ سندھ سے ہے ۔سندھ میں پچھلی چارد ہایوں سے زیادہ کا عرصہ ہو ا حکو مت انہی کی ہے ۔آج بھی سندھ میں تعلیم اور صحت کے شعبے دیکھ لیں آپ کی چنخیں نکل جائیں گی ۔ بر طا نیہ کے ادارے ڈیفڈنے بھی دونوں ہاتھ سر پر رکھ کے سو چنا شروع کر دیا ہے کہ ہم کیسے لو گ ہیں جو اپنے ہی شہریوں کو جاہل اور مریض رکھنا چا ہتے ہیں۔ اڈیالہ جیل سے بذریعہ ہوائی جہاز لا ہور پھر ایئر پورٹ سے سیدھا جاتی عمرہ جانے والا نواز شریف مع اہل وعیال پچھلی چاردہائیوں سے پا کستا ن اور پنجا ب پہ حکومت کر رہاہے ۔ اگر آپ لا ہور میں ہی سرکا ری ہسپتا لوں کی حا لت دیکھ لیں تو آپ کوپتھرکے دو ر کاانسان اچھا لگے گا ۔ایک ایک بستر پہ پڑے تین تین بیمار کراہ رہے ہیں اور ہم اکیسویں صدی میں زندہ ہیں۔ لاہور سے صرف ایک قدم کے فاصلے پہ قصور، ننکانہ صاحب اور شیخوپورہ کے اضلاع ہیں۔ صحت اور تعلیم کی حالت دیکھ لیں تو آپ چکرا کے خود بیڈ پہ پہنچ جائیں گے۔ اعدادوشمار میں ترقی دیکھانے میں شائد ہی کوئی ہمارا ثانی ہو۔ ملک کے دارالخلافہ میں زندگی کے مصروف ترین پانچ دن گزار کے شاہ فہد یوسف زئی سے گلے ملا اور سیدھا موٹروے پہ تھا تاکہ گھر جایا جائے۔ گزرے ان پانچ دنوں میں کئی نیشنل اور انٹرنیشنل اداروں کے کام کو دیکھنے کا موقع میسر تھا۔ بھانت بھانت کی باتیں اور سرد ہوتا موسم ، اے ۔سی تو بند ہو چکے چند دن تک اسلام آباد کے پنکھے بھی چلنا بندکر دیں گے پھر چھ ماہ تک بجلی کا رونا دھونا بھی بند ہو جائے گا۔ 70سال سے ہمارے یہاں آسمانی بجلی سے کئی لوگ دنیا سے چلے گئے لیکن حیرت ہے کہ چند میگاواٹ بجلی بھی ہماری وجہ سے بن پائی ہو۔ آج کے دن تک جتنی بجلی ملک میں موجود ہے صرف وہی ہے جو اس نئی نئی ایجاد کے وقت یہاں بن پائی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمیں اس کی زیادہ ضرورت بھی نہیں ہے، کیونکہ ہماار ماضی گواہ ہے کہ ہمیں روشنی سے پیار نہیں ہے۔ اسلام آبادمیں پبلک ٹرانسپورٹ پہ سفر کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے ،جبکہ سرکاری پروٹوکول کی گاڑیوں میں سفر کرنے کا نشہ الگ ہے۔ اگر گاڑیوں کے اندر کالے رنگ کے شیشوں کی تہہ ہو تو پھر انسان کوہ قاف سے آیا معلوم ہوتا ہے۔

قمر نسیم اور ایوب خان کا ادارہ ملک میں کم عمری کی شادی بارے جانکاری پیدا کرنے کیلئے اپنی سی کوششوں میں کوشاں ہیں ۔ان کے پروگرام میں فردوس عاشق اعوان جیسی بزرگ خاتون نے آنے سے انکار کر دیا کہ فلیکس ان کی مرضی کی نہیں ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار قبلہ ایاز کی سربراہی میں خواتین کے حقوق اور کم عمری کی شادی بارے سوچ بچار کا آغاز کیا ہے جو قابل ستائش ہے۔ جبکہ دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ میں لکھا ہے بغیر قومی شناختی کارڈ سفر نہ کریں، پاک فوج کو سلام۔ پاک فوج آجکل مغربی اور مشرقی سرحدوں پہ مامورہے ۔سڑک کنارے نماز پڑھتے وزیر مملکت نے ناجائزتجاوزات کے خلاف آپریشن کی نگرانی خود کی ہے ۔بقول اس کے کئی ارب روپے کی صرف جگہ ہی واگزار کروائی گئی ہے۔ مگر ریاست نے آج تک کسی سے یہ نہیں پوچھا کہ ان جگہوں پہ ناجائز تعمیرات کیوں ہوئیں۔ اور کس نے کس کے کہنے پہ کروائی۔ ریاست کے نوکر یہاں نوکر نہیں بلکہ ریاست سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی رفتار سست ہی نہیں بلکہ کافی سست ہے اور اگر کوئی یہاں آتا ہے تو ہمارے ادارے اس کیلئے کئی طرح کے مسائل پیدا کردیتے ہیں۔ وہ توبہ توبہ کرتا نکل جاتا ہے ۔اسلام آباد میں 70سال سے اعدادوشمار سے وابستہ افراد ایچی سن کالج، گورنمنٹ کالج اور پنجاب یونیورسٹی سے پڑھے ہیں ان پڑھے لکھے صاحبان نے کیسے کیسے گل کھلائے ہیں ان پڑھ دیکھ کے خوش ہوتے ہیں کہ اس ملک کی بربادی میں ان کا خون پسینہ شامل نہیں ہے۔ اگر ان اداروں سے پڑھے لکھے اپنے اثاثے بتادیں تو بل گیٹس بھی کانوں کو ہاتھ لگانا شروع کر دے ۔

اب کی بار تالاب میں دودھ کے صدقے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی سب کو اکٹھا کرکے اس پہ مشاورت کرنے کی۔ اب تو ایک ہی کام کی ضرورت ہے وہ ہے تالاب کو صاف کرنے کی۔ جسکی چاورں کونوں سے بڑے ٹھیک سے صفائی کرنا ہو گی، ساری گندگی تالاب سے باہر نکالنا ہو گی۔ اگر وزیر اعظم عمران خان یہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر اور کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔


ای پیپر