صاحبِ صِدق اور صاحبِ صَدقہ 
07 اکتوبر 2018 2018-10-07

میں پچھلی دفعہ ذکر کر رہا تھا، پیروں کا مگر میرے ذہن میں معاًیہ خیال آیا، کہ ہم پیروں اور فقیروں کا ذکر اکٹھا کیوں کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہم نے اِن دُونوں کو لازم و ملزوم بنا دیا ہے، جہاں تک میرا خیال ہے، فقیر کی بات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے کرتے ہیں، جنہوں نے اپنے لئے فقر کو پسند فرمایا، فقر کا راستہ اختیار کیا، فقر کی دُعا کی، اور فقر کی تلقین فرمائی، 

مگر ہم نے یعنی پاکستانیوں نے فقیر بننا پسند کیا، کاسئہ گدائی سنبھال لیا، فقیرانہ انداز اختیار کیا، اور اپنی نئی پود کو فقیرانہ زندگی سفر کرنے کی راہ دکھائی، مگر فقیروں پہ بات کرنے سے پہلے، پیر شاہ محمود گیلانی وزیر خارجہ نے دورہ نیو یارک واشنگٹن اور عالمی اداروں میں پاکستان کا حق نمائندگی نہایت اَحسن طریقے سے ادا کر کے محب وطن پاکستانیوں کا دِل جیت لیا، قارئین آپ کو یاد ہو گا کہ میں نے شاہ محمود قریشی کے دورہ امریکہ سے قبل ، اور اُن کی سلامتی کونسل میں تقریر سے بھی پہلے ، مکمل ، جامع اور پر زور انداز میں مسئلہ کشمیر پیش کرنے ” پیش گوئی“ کرتے ہوئے انہیں قبل از وقت مبارک باد دے دی تھی۔ میرا یہ کالم 26 ستمبر کو ببن خالہ اور جنرل بپن آفت کا پر کالہ شائع ہوا تھا۔ اب آئیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فقر کی بات کرتے ہیں، سَر کار دو جہاں کی سیرت ، صورت کے فضائل اور خصائل کی اتباع کر کے اور شریعت محمدیہ کو اپنانے والے اور درس حدیث کے اُستاد محترم محمد موسیٰ ؒ کی قبر مبارک پہ اللہ نے انوار تجلیات اور رحمتوں کی برکھا کیوں برسائی، اس لئے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کے درس مبارکہ و مقدسہ کے سلسلہ انوار کو جاری رکھا، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے محبوب کے فدائی و شیدائی اُستاد حدیث کو اِس دنیا، میں طالبانِ حدیث کو نظارہ حق دکھا کر محمد موسی ؒ کو انعاماتِ الٰہیہ سے نواز دیا۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میں نے مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی ؒ کی تحریر پڑھی ہے، اُن کا انداز اور توکل قابل تقلید اور نصیحت آموز ہے، فرماتے ہیں کہ اللہ والوں کا رزق ” غیب“ سے آتا ہے، 

یعنی اگر اُن کے فرمان کو اُن کی تحریر کے تناظر میں دیکھا جائے تو شاید اُن کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ امریکہ چین ، روس، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور دیگر ریاستوں اور ممالک کی طرف فقیر بن کر دیکھنے کے ساتھ ساتھ فرمانِ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مطابق کہ پاکستان بھر میں معدنیات کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں، اور اُن کی یہ بات سچ ثابت اِس لئے ہو رہی ہے، بلوچستان سے صحرائے تھر تک ، اور خوشاب اور دیگر علاقوں میں گیس، آئل وغیرہ کی موجودگی کی جو اطلاعات خوشخبری کی صورت میں موجود ہیں، اُنہیں نکالنے کی سعی کی جائے تا کہ پاکستان خود کفیل ہوسکے صوبہ پنجاب کے سابق سیکرٹری زراعت و آب پاشی اور پاکستان کے اُولمپئین ڈاکٹر غلام رسول چودھری نے جو کبھی پرنسپل ایچی سن بھی تھے، اور میرا خیال ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بھی اُن کے شاگرد ہوں گے۔ 

میرے خیال میں ، میں وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کی تو شاید اہلیت و صلاحیت تو رکھتا ہوں مگر میں اسد عمر کی جگہ نہیں لے سکتا، کیونکہ میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا نہ تو ممبر ہوں اور نہ کارکن ، مگر مشورہ دینے میں تو کوئی حرج نہیں، اگر شیخ رشید یہ کہتے ہیں کہ ریلوے کی زمین بیچ کر پاکستان کے قرضے اُتار سکتا ہوں، تو پھر باقی حال بقول برادرم توفیق بٹ، ایک خبر ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ 

اور بقول اُن کے کہ یہ وزارت ریلوے وہ ” ہڈی “ نہیں ہے، جو مجھے دی گئی ہے۔ وزیر اعظم کو کِس کا انتظار ہے، وزیر ریلوے کو فوراً اجازت دیں۔ بات ہو رہی تھی فقر کی ، شیخ المشائخ ابو سعید ؒ فرماتے ہیں فقر ہر معاملے میں اللہ ہی کو کافی سمجھنے کا نام ہے، مگر غنی بھی وہ ہوتا ہے، جسے اللہ غنی کرے، اور بقول حضرت جنید ؒ اور حضرت ابنِ عطاءؒ کہ ظلم کیا اُس نے جس نے ابن آدم کو امیر کہا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اُس کا نام فقیر رکھا ہے، جس کا نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے فقیر ہے، وہ امیر بھی ہو، تو فقیر ہے، ہلاک ہوا وہ شخص جس نے تخت وتاج کے بل بوتے پہ اپنے آپ کو امیر سمجھا، امیر لوگ صاحب صدقہ ہوتے ہیں، اور فقیر لوگ صاحب ” صدِق“ اور صاحب صدق ہرگز صاحب صدقہ کی طرف نہیں ہوتا، در حقیقت سلمان ؑ کا فقر، سلمان ؑ کے غناسے کم نہیں ہے ایوب ؑ کو عالمِ صبر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ وہ اَچھا بندہ ہے، اور سلیمان ؑ کو استحکام سلطنت میں بھی یہی فرمایا، وہ اچھا بندہ ہے، جب خدائے رحمن کی رضا حاصل ہو گئی تو فقر سلمان ؑ ، غنا سلیمان ؑ ہی کی طرح ہوگیا، 

مختصر یہ کہ حضرت عثمان علی ہجویری ؒ فرماتے ہیں کہ کم تر درجے کا آدمی وہ ہے جیسے لوگ اچھا سمجھیں، درویش تصور کریں، مگر وہ درویش نہ ہو، 

قارئین آپ سمجھ ہی گئے ہونگے کہ ہم سب نے حسن نثار، توفیق بٹ، ہارون الرشید ، محمود شام، اوریا جان مقبول اور نواز غیر معقول نے تحریک انصاف کو مقبول عام سمجھ کر اور دو تین سوٹ رکھنے والے کو فقر و غنا کا مجموعہ سمجھ کر بہت سی توقعات وابستہ کر لی تھیں، میں رانا مشہود کی طرح، اخلاق و آداب سیاست اور ان کے بیانات کی طرح کسی صورت نہیں کہوں گا کہ جسے ہم گھوڑا سمجھے تھے، وہ خچر نکلا، تف ہے ایسی سوچ پہ اور خرم نواز گنڈا پور کے ان انکشافات پہ کہ نواز شریف حکومت کے خلاف لندن میں سازش ہوئی تھی، اور اِس میں عمران خان بھی شامل تھے۔ میرا خرم نواز گنڈا پور صاحب سے تعارف بھی ہے، اور کچھ تقریبات میں ملاقاتیں بھی، اُن کے دوست سید مظفر حسین شاہ جن کا تعلق سوات سے ہے۔ وہ بین الاقوامی مبلغ، روحانی رہنما، اور سابقہ وکیل ہیں، وہ میرے بھی محسن اور تعلق والے ہیں، میں نے خرم نواز گنڈا پور کی ہوسٹل والی مشہور طالبات پہ گر جتی برستی وڈیو بھی دیکھی ہے، مگر پھر بھی میں اُن کو میاں نواز شریف جیسا بھولا بھالا نہیں سمجھتا، کیونکہ انہوں نے بھی قانون کی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے، مگر اِس وقت لندن پلان کو افشا کرنا، اگر تحریک انصاف کے خلاف سازش نہیں، تو اس کو اور کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ 

اللہ کے فضل سے ہمارے وزیر اطلاعات فواد چودھری ، صاحب مذاکرات اور عالم فاضل آدمی ہیں، جو کہتے ہیں، کہ (ن) لیگ والوں کو کیا پتہ کہ مذاکرات کس کو کہتے ہیں؟ اِن جیسے جید سیاستدانوں کی موجودگی میں تحریک انصاف کو کوئی خدشہ نہیں ہوسکتا، خدشہ تو اُنہیں شاید نومبر 2019 یا جنوری 2019 کے بعد ہوسکتا ہے، ابھی تو پورا سال پڑا ہے، ابھی تو ہر ہفتے اور ہر اتوار اور ہر مہینے کابینہ مکمل ہوتی ہے۔ حالانکہ اس کا حجم نواز شریف اور زرداری کی کابینہ جتنا ہو گیا ہے۔ یہ چیف جسٹس درمیان میں ایسے قانون بنا دیتے ہیں کہ دُوہری قومیت والے شخص انتخاب بھی نہیں لڑسکتے، اپنی سوتیلی بیٹی کو عمران خان اپنا مشیر بنا لینے، اور سات لاکھ مہینہ تنخواہ دینے کے بعد اپنے بیٹوں کو لندن سے بھی نہیں بلوا سکتے، بیٹیوں سے تو آدمی گھر میں بھی مشورہ کر سکتا ہے، مگر شاید یہ بھی کسی پیر یا کسی فقیر کا حکم ہو، یا فرمائش ہو جو مخالفت مول لیکر پوری کی گئی ہے، اللہ بہتر جانتا ہے، 

حضرت علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں کہ 

حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے 

ایک نکتہ کہ غلاموں کیلئے ہے اکسیر!

حرف اُس قوم کا بے سوز، عمل زاد و زبوں

ہو گیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر!

(جاری ہے)


ای پیپر