کیونکہ وہ مدرسے کے بچے تھے!
07 نومبر 2020 (12:17) 2020-11-07

سانحہ پشاور نے ایک بار پھر دل اداس کر دیا ہے، روح چھلنی ہوکر رہ گئی ہے، حادثے تو ہوتے ہی رہتے ہیں سانحے بھی کوئی نئی بات نہیں، ناگہانی آفات بھی کسی نہ کسی طرح نازل ہوتی رہتی ہیں 

لیکن جو چیز سب سے زیادہ تکیف دیتی ہے نا 

وہ ہے ہمارا دوہرے معیار 

ہماری منافقت 

ہمارا غیر منصفانہ نظام 

جیسا کہ ابھی پشاور سانحے کے بعد دیکھا گیا 

بالکل ایسا ردعمل تھا جیسے کوئی بھیڑ بکری ماری گئی ہو۔ 

ارے بچے تھے وہ معصوم 

قرآن کی تلاوت کر رہے تھے 

کہاں گئیں وہ نام نہاد سماجی ہمدردی کی نام لیوا تنظیمیں 

موم بتی مافیا 

وہ لبرل 

ارے ہم سے زیادہ تو قدرو قیمت جانوروں کی ہے 

ابھی تین ماہ قبل انڈیا میں ایک حاملہ ہتھنی کو بارود کھلا کر مار دیا گیا تھا بے شک وہ دل خراش واقعہ تھا اور ہماری عوام نے اور بڑے بڑے سوشل میڈیا کے علمبرداروں نے اس پر بہت احتجاج کیا تھا اس پر کتنی میمز بنی تھیں۔ 

ایک بار پوری دنیا کو پتہ چل گیا تھا کہ ایک جانور کی بھی کوئی قیمت ہوتی ہے

 لیکن ابھی پشاور میں ایک مدرسے میں دھماکہ کے نتیجے میں قرآن پڑھتے پڑھتے معصوم پھول جنت میں پہنچ گئے 

وہاں قرآنی اوراق پر ان کے خون کے قطرے ان کی بخشش کا سامان بن گئے 

لیکن افسوس ہے اس معاشرے پر 

جو ایک ہتھنی کے درد میں تو پوری فیس بک پر مہم چلا دیتا ہے لیکن کئی معصوم شہیدوں کے لہو دیکھ کر بھی ان کے دل میں کوئی بے چینی نہیں ہوتی ان کے حق میں ایک پوسٹ ڈالنے سے ان کے ہاتھ ٹوٹتے ہیں 

کیا یہ ہیں انسانی حقوق کے علمبردار 

جسے ملالہ کے پڑھنے کا شوق تو نظر آتا ہے اور اس کو وہ اتنا سنجیدہ لیتے ہیں کہ آج وہ نوبل انعام یافتہ ہے لیکن مدرسے کے ان بچوں کے اندوہناک سانحے پت شائد اس نے ایک ٹویٹ بھی نہ کی ہو

۔۔۔۔

اس سے بھی مکروہ چہرہ ہے ان سب میڈیا کے علمبرداروں کا جو ان قرآن پڑھنے والوں کو شہید کے بجائے ہلاک لکھتے ہیں 

تف ہے ایسے معاشرے پر 

پتہ نہیں دو چہروں کا بوجھ اٹھاتے کیسے ہیں لوگ 

۔۔۔۔ 

سانحہ اے پی ایس بھی بہت ہی دکھ بھری 

داستانیں چھوڑ کر گیا جس کی یادیں شاید کبھی نہ بھلائی جاسکیں 

مگر اس کے بعد حکومت عوام اپوزیشن ادارے سب نے اس کی بھرپور مذمت کی والدین کے ساتھ کھڑے ہوئے دشمن کی اینٹ سے اینٹ بھی بجائی اور نغمے بھی بنائے 

لیکن 

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی جب مدرسے کے بچے قرآن پڑھتے ہوئے شہید ہوئے تو اتنا ہلکا ردعمل جیسے کچھ ہوا ہی نہیں 

خود اعتراف کرتے ہیں ہمیں اس کا علم تھا اگر علم تھا تو پھر کیا سدباب کیا 

کیا سکیورٹی فراہم کی 

۔۔ 

ان کے ساتھ ایسا سلوک صرف اس لیے کہ وہ مدرسے کے بچے تھے۔ 

جن کا قصور صرف یہ کہ وہ اللہ کا قرآن اور نبی پاکؐ کی حدیث کا سبق پڑھ رہے تھے۔

ہماری حکومت، عوام اور دنیا کی نظروں میں مدرسے کے بچوں کی یہ حیثیت ہے لیکن 

کاش کبھی اس حدیث پر غور کیا ہوتا 

باقی ہمارے دشمن کا ٹارگٹ تو یہی بچے ہیں جو قرآن پاک کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بناتے، وہ چاہتے ہیں کسی طرح اس روح کو ختم کیا جائے۔ اس کام میں ہمارے نام نہاد ملا، سکالر اور پالیسی میکرز بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اصل میں یہ مسئلہ نہیں کہ یہ مدرسے کی بچے ہیں بلکہ یہ غریب کے بچے بھی ہیں جو اعلیٰ معیار کے سکول کالج یونیورسٹیوں کے پاس سے بھی نہیں گزر نہیں سکتے۔۔۔ اس لیے ان کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مسل دیا جاتا ہے یہ دشمن کے لیے بھی آسان ٹارگٹ اور حکومت کے لیے صرف بوجھ تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ ہے اصل چہرہ اور دوہرا معیار۔

 لیکن ہمارے ارباب اختیار بھول جاتے ہیں یہ مدرسے وہی یونیورسٹیاں ہیں جنہوں نے دنیا میں انقلاب پیدا کر 22 سو مربع میل تک حکمرانی کی۔ قیصرو کسریٰ کے تخت الٹ دیے تھے۔۔ کفارتو ازل سے مسلمانوں کو ناامیدی کے گڑھے میں دھکیلنا چاہتے ہیں اسی لیے کنفیوز کیا جاتا ہے۔ دوہرا معیار رکھا جاتا ہے کوئی شہید لکھتا کوئی ہلاک۔ لیکن یاد رکھیں وقت کبھی نہ کبھی کروٹ ضرور لے گا۔

ہمارے نبی پاکؐ تو قرآن پڑھنے اور پڑھانے والوں کی بہت قدر فرماتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ 

رشک کرنا صرف دو ہی آدمیوں کے ساتھ جائزہو سکتا ہے۔ ایک تو اس شخص کے ساتھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرے اس شخص کے ساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (عقل علم قرآن و حدیث اور معاملہ فہمی) دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے 

تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ 

ہم سب میں سے خوش نصیب ہیں وہ حافظ قرآن جو اللہ کے کلام کو اپنے سینے میں محفوظ کرلیتے ہیں۔ جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے وہی حافظ قرآن بنتے ہیں۔دنیا میں بے شمار کتابیں موجود ہیں لیکن کوئی بھی شخص مکمل کتاب کا حافظ نہیں یہ صرف قرآن کا معجزہ ہے جو کمسن سے کمسن طالب علم سے لیکر ضعیف العمر اصحاب تک کے سینے میں مکمل محفوظ رہتا ہے۔ 

آپ ذرا قرآن پڑھنے اور پڑھانے والوں کی اللہ کے ہاں قدر و منزلت دیکھیں اور پھراپنے ملک میں طبقاتی سلوک دیکھیں۔ خدا کا خوف تک نہیں آتا، ان معصوموں کی چیخیں جب عرش تک پہنچیں ہوں گی تو کیا عالم ہوگا میرے رب کے غیض کا۔۔۔ 

مجھے ڈر ہے کہ اس معاملے میں ہماری مجرمانہ خاموشی اور بے حسی کہیں ہم سب کی تباہی کا باعث نہ بن جائے۔ یہ جو آپ ایک مولوی کے ہاتھوں بچے پر تشدد کی ویڈیو تو وائرل کردیتے ہیں مگر جہاں اتنی 


ای پیپر