’’ دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال‘‘
07 نومبر 2020 (11:58) 2020-11-07

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ پڑھنے سے میں مایوسی میں ڈوبنے لگا۔ اس رپورٹ کیمطابق اوسطاً ایک لاکھ افراد میں سے اٹھارہ (18)افراد کی موت ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اِن میں سے بانوے فیصد (92%) اموات اُن ممالک میں ہوتی ہیں جو کم اور درمیانے درجہ کی آمدن والے ہیں، جن میں جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک اور افریقی ممالک سرِ فہرست ہیں ۔ یہ ذہن میں رہے کہ اپنا پیارا پاکستان جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ہے اور کم درجے کی آمدن والا ملک بھی ہے۔ کینیڈا میں ایک لاکھ افراد میں سے صرف 6.8افراد کی اموات روڈ ایکسیڈینٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں ایک لاکھ افراد میں سے صرف 2.75افراد کی اموات روڈ ایکسیڈینٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں لیکن اپنے پیارے پاکستان میں ایک لاکھ افراد میں سے 17.4افراد کی موت روڈ ایکسیڈینٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن  (NHTSA) امریکہ کی رپورٹ کیمطابق کل گاڑیوں کے ایکسیڈینٹ میں سے تقریباً 25%ایکسیڈینٹ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال کرنے والے نوجوان کا کسی ایمرجنسی کی صورت میں reaction timeایک ستّر(70)سال کے بوڑھے آدمی کے برابر ہو جاتا ہے۔ یہ تمام پڑھ کر مجھے لاہور جو پاکستان کا دوسرا بڑا شہر اور پنجاب کا صوبائی دارالخلافہ ہے ، کی ٹریفک کا خیال آرہا تھا۔ اِس بات سے تو(سوائے ٹریفک پولیس کے) سو فیصد لوگ متفق ہونگے کہ لاہور کی ٹریفک کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ اپنے دِل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ ہر روز لوگوں کو دورانِ ڈرائیونگ موبائل استعمال کرتے نہیں دیکھتے؟ کئی حضرات تو دورانِ ڈرائیونگ ontacts c میں سے مطلوبہ نمبر تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ اور کئی با قا عدہ میسجنگ کر رہے ہو تے ہیں۔ یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ بڑی قیمتی گاڑی والے نے تو ضرور اپنے قیمتی موبائل سے دوران ڈرائیونگ لمبی بات کرنا ہوتی ہے، بلکہ 

اپنے پورے سفر کے دوران موبائل پر بات کرنا ہی اُسے VIP لوگوں کی قطار میں کھڑا کرتا ہے۔ یہ صرف مرد حضرات تک ہی موقوف نہیں ہے بلکہ ذرا ماڈرن خواتین کا بھی یہی طور طریقہ ہے۔ موبائل فون کے استعمال میں موٹر سائیکل سوار حضرات بھی کسی سے کم نہیں۔ آپ روزانہ سڑکوں پر دیکھتے ہوں گے کہ موٹر سائیکل سوار ایک ہاتھ سے موٹر سائیکل کا ہینڈل پکڑے دوسرے ہاتھ میں پکڑے موبائل سے لمبی گفتگو میں مصروف ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا خلاف قانون نہیں ہے۔ یقینا ایسا کرنا خلاف قانون ہے، تو پھر اس پر عمل درآمد کرانا کس کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ بلاشبہ اِسکی ذمہ دار لاہور ٹریفک پولیس ہے۔مجھے یاد ہے کہ آج سے تقریباً بارہ تیرہ سال پہلے لاہور کی ٹریفک کو احسن طریقے سے کنٹرول کرنے کے لئے ایک سکیم متعارف کرائی گئی جسے ٹریفک وارڈن سکیم کا نام دیا گیا۔ یہ سکیم ایک سینئر پولیس آفیسر نے conceiveکی تھی ، غالباً اُس میں الطاف قمر ایڈیشنل آئی جی کا بڑا رول تھا۔ ا س سکیم کے تحت ٹریفک وارڈن کم از کم گریجویٹ تعلیم کا حامِل ہونا ضروری ٹھہرا ۔ اِس میں ٹریفک وارڈن کی تنخواہ بھی نہایت ہی معقول مقرر کی گئی تھی۔ اور ایسا اِس بنا پر کیا گیا تھا کہ ٹریفک وارڈن اچھی تنخواہ کے ہوتے ہوئے لوگوں سے رِشوت کے طور پر پیسے اکٹھے کرنے میں مشغول نہیں ہو جائیں گے۔ یہ بھی کوشش کی گئی کہ ٹریفک وارڈنز کی بھرتی بھی میرٹ پرہو۔ زیادہ تر بھرتی میرٹ ہی پر ہوئی تھی معدودے چند واقعات کے ۔کیونکہ حسب روایت ہمارے ملک کے بڑے حکمران کچھ نہ کچھ بھرتی کا کوٹہ اپنے چہیتوں کو ضرور دیتے ہیں، اور اُن چہیتوں نے دروغ بر گردن ِ راوی ایک ،ایک یا دو ،دو لاکھ روپے فی وارڈن بھرتی کرائے۔ لیکن overallیہ سکیم حکومت کی ایک کامیاب سکیم کے طور پر سامنے آئی ۔ شروع کے عرصے میں یہ کوشش بھی کی گئی کہ جس طرح یہ سکیم conceiveکی گئی اُسی شکل میں نظر بھی آئے۔ اِس سکیم کی کامیابی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ عوام کے خیال کے مطابق mostlyٹریفک وارڈن رشوت نہیں لیتے تھے ۔ ہمارے پاکستانی معاشرے میں یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔ اِس سکیم کو متعارف کرانے والے افسران وقت گزرنے کے ساتھ یا تو ٹرانسفر ہوگئے یا ریٹائر ہوگئے، نتیجتاً اِس کی ownership ختم ہونے لگی۔ لہٰذا اب جو ٹریفک پولیس کی کارکردگی ہے وہ آپ سب کے سامنے ہے ۔ہر بڑے چوک پر آپ کو چار یا پانچ ٹریفک وارڈن اکٹھے کھڑے یا بیٹھے نظر آئیں گے اور انداز یوں ہوگا جیسے بڑی شاہراہ پر کھڑے ہو کر نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ شروع شروع میں ایک چوک پر دو سے زیادہ وارڈنز کو اکٹھے ہونے کی بالکل اجازت نہیں تھی۔ لیکن اب تو ہر بڑے چوک پر چار چار ،پانچ پانچ خوش گپیوں میں مصروف نظر آئینگے۔ اسی طرح ٹرپل سواری کی حامل موٹر سائیکلز بھی لاہور کی سڑکوں پر بلا خوف و خطر رواں دواں نظر آتی ہیں۔ حتیٰ کہ بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلز اور گاڑیاں بھی ان کے سامنے سے گزرتی نظر آتی ہیںجسے دیکھ کر لاہور ٹریفک پولیس کی بے پروائی نمایاں طور پر عیاں ہوتی ہے۔۔اس شہر لاہور میں نوے فیصد ڈکیتی کی وارداتیں موٹر سائیکل اور موبائل کے ذریعے ہی ہو رہی ہیں۔ اِن وارداتوں کے روکنے میں لاہور ٹریفک پولیس بہت اہم رول ادا کر سکتی ہے لیکن نہ جانے کیوں صاحبانِ اقتدار نے کبھی اِس رول کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ ہمارے ملک کے سینئر پولیس افسران تو عام آدمی کی طرح شہر کی سڑکوں ، گلیوںسے گزرتے نہیں ہیں کہ اُنھیں زمینی حالات سے آگاہی ہو سکے۔ جن راہوں سے اُن کا گزر ہوتا ہے وہاں تو ٹریفک پولیس نہایت مستعدی سے اپنے وجود کا اظہار کر رہی ہوتی ہے۔آج کے لاہور کی ٹریفک کو دیکھیں تو محسوس ہوتاہے کہ اس شہرکی ٹریفک کاکوئی والی وارث نہیں۔ سناہے لاہور شہر کے موجودہ چیف ٹریفک آفیسر کوئی آرمی کے ریٹائرڈ کپتان ہیں جو اکثر اوقات آگاہی مہم میں مصروف رہتے ہیں ، کبھی لوگوں کو ٹریفک قوانین کے متعلق آگاہی اور کبھی سموگ کے حوالے سے آگاہی۔ موجودہ سی سی پی او (CCPO ) لاہور عمر شیخ جو عمر شیخ فارمولا 


ای پیپر