جیتا جاگتا شوکت علی!
07 نومبر 2020 2020-11-07

میں وہ دن نہیں بھول سکتا میرے ابوجان کے قل تھے، میرے گھر کے ڈرائنگ روم میں بہت سے مہمان بیٹھے تھے جو تعزیت کے لیے تشریف لائے تھے، مجھے کچھ دیر کے لیے ڈرائنگ رُوم سے اُٹھ کر باہر لان میں جانا پڑا جہاں کچھ خواتین میرے انتظار میں تھیں، وہ بھی تعزیت کے لیے تشریف لائی تھیں، میں چند لمحے اُن کے پاس بیٹھنے کے بعد واپس ڈرائنگ روم میں آیا، میں نے دیکھا نامورلوک گلوکار شوکت علی تشریف فرما تھے، میں اُنہیں دیکھ کر اِس لیے بڑا حیران ہوا صرف ایک روز پہلے اُن کا مجھے فون آیا تھا، فرمانے لگے ”کمرمیں شدید درد ہے، اُٹھنا تو درکنار ہلنا بھی دشوار ہے، آپ اپنے بھائی جان عامر عزیز (ملک کے ممتاز ترین آرتھوپیڈک سرجن) سے میرے لیے کوئی ٹائم لے لیں“۔میں نے اُسی وقت بھائی جان عامر عزیز سے بات کی، شوکت علی کی قومی خدمات کوپیش نظر رکھتے ہوئے کمال شفقت کا اُنہوں نے مظاہرہ فرماتے ہوئے کہا ” میں اُن کے لیے ہروقت حاضر ہوں، وہ جب چاہیں، جہاں چاہیں تشریف لے آئیں، اُنہوں نے اپنے ترانوں کے ذریعے پاکستان کے دُشمنوں کے حوصلے جس انداز میں پست کیے، اُس پر ہم ہمیشہ اُن کے تابعدار ہیں“....میں نے جناب عامر عزیز صاحب کا یہ پیغام حرف بہ حرف شوکت علی تک پہنچادیا، بلکہ مجھے یاد ہے عامر عزیز صاحب نے یہاں تک فرمایا تھا ”وہ اگر نہیں آسکتے میں خود اُن کی خدمت میں حاضر ہوجاﺅں گا“.... شوکت علی صاحب نے عامر عزیز صاحب کا یہ پیغام سن کر اُنہیں ڈھیروں دعائیں دیں، مجھ سے کہا ”آپ اُن کا شکریہ ادا کریں، ایک آدھ دِن میں جیسے ہی میں تھوڑا اُٹھنے اور چلنے پھرنے کے قابل ہوا میں اُن سے مِل لُوں گا“،....اُنہیں اپنے ڈرائنگ روم میں دیکھ کر میں اِس لیے حیران پریشان ہوگیا کہ اتنی تکلیف میں وہ کیسے اُٹھے ہوں گے؟ تعزیت کے لیے کیسے میرے پاس آئے ہوں گے؟.... مجھے دیکھ کر اُنہوں نے اُٹھنے کی کوشش کی، میں نے پکڑ کر زبردستی اُنہیں بیٹھا دیا، بیٹھے بیٹھے اُنہوں نے مجھے گلے سے لگایا، کہنے لگے”جِس طرح آپ کے والد نے آپ کی تربیت کی، میں اُس کی بنیاد پر پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں وہ جنتی ہیں“.... اُس کے بعد بڑے رقت آمیز انداز میں اُنہوں نے ابوجان کی مغفرت کے لیے دعا فرمائی، میاں محمد بخشؒ کے چند اشعار بھی سنائے،.... میں نے اُن سے گِلہ کیا آپ کو اِس حالت میں نہیں آنا چاہیے تھا “، فرمانے لگے”مجھ سے رہا نہیں گیا“ .... ابو جان کے ساتھ اُن کی ملاقاتیں بڑی کم تھیں۔ابو جان کسی بھی شعبے کے بڑے لوگوں سے کم ملتے تھے، وہ فرماتے تھے” میں اِن بڑے لوگوں کے برابر نہیں بیٹھ سکتا“ .... ایک بار میرے گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ انگریزی کے میرے اُستاد پروفیسر اے ایچ خیال صاحب حبیب اللہ روڈ پر واقع ہمارے گھر آئے، اُنہوں نے ابوجی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، ابوجی اِس ”خواہش“ کو اُن کا ”حکم“ سمجھ کر ڈرائنگ رُوم میں تشریف لائے تو اُن کے قدموں میں بیٹھ گئے، پروفیسر اے ایچ خیال صاحب نے بڑی کوشش کی وہ اُٹھ کر اُن کے ساتھ صوفے پر بیٹھ جائیں، پر اُنہوں نے فرمایا ”میرا مقام یہی ہے“ ....البتہ اُس وقت اُنہوں نے پروفیسر صاحب کی بات مان لی جب پروفیسر خود صوفے سے اُٹھ کر اُن کے ساتھ نیچے فرش پر بیٹھنے لگے، ابوجی بار بار ایک ہی بات اُن سے کہے جارہے تھے”میرا بیٹا گورنمنٹ کالج لاہور میں آپ جیسے عظیم اساتذہ کا شاگرد ہونے کے قابل نہیں تھا، یہ آپ کی عظمت ہے آپ نے اِس نکمے کو قبول فرمایا “.... پروفیسر اے ایچ خیال صاحب جب واپس جانے لگے ابوجی نے بے شمار تحائف اُن کی خدمت میں پیش کیے، آگے بڑھ کر اُن کی گاڑی کا دروازہ کھولا، وہ جب رخصت ہوگئے مجھ سے کہنے لگے ”بیٹا میں جب آپ کے پروفیسر صاحب کے قدموں میں فرش پر بیٹھا ہوا تھا، یوں محسوس ہورہا تھا میں فرش پر نہیں عرش پر بیٹھا ہوا ہوں“ .... گلوکار شوکت علی کو ابوجان مرحوم دو وجوہات کی بناءپر بہت پسند کرتے تھے، ایک تو ابوجی کو اُن کی عاجزی وانکساری بڑی پسند تھی، دوسرے اُن کا یہ گانا ”کیوں دُور دُور ریندے اوحضور میرے کولوں.... مینوں دس دیو ہویا کی قصور میرے کولوں“ بڑا پسند تھا، اِس کے علاوہ وہ اُن کا گایا ہوا یہ ترانہ بھی اکثر سنتے تھے”جاگ اُٹھا ہے سارا وطن ساتھیو، مجاہدو“ ....وہ فرماتے تھے میں جب یہ ترانہ سنتا ہوں میں ماضی میں کھوجاتا ہوں جب اِس ترانے نے ہمارے لہو اِس قدر گرما دیئے تھے، ہم یہ سوچتے تھے کاش ہم ٹینکوں اور توپوں کے گولے ہوتے دشمن کے سینوں میں اُتر جاتے،.... ابوجی کا کوئی دوست جس سے مِلے ہوئے اُنہیں عرصہ بیت چکا ہوتا وہ اُنہیں فون کرتے، سلام کے فوراً بعد شوکت علی کا یہ گیت سناتے“ کیوں دُور دُور ریندے او حضور میرے کولوں.... مینوں دس دیو ہویا کی قصور میرے کولوں“.... پھر اکثر ایسے ہوتا وہ دوست والد صاحب سے ملنے تشریف لے آتے یا والد صاحب خود اُن سے ملنے چلے جاتے، .... شوکت علی نے سینکڑوں گیت گائے ہوں گے، پر ملک کی عظیم ترین خدمت اُنہوں نے اپنے ترانوں کے ذریعے کی، اِن ترانوں نے دُشمنوں کے حوصلے پست کرنے، اور اپنے لوگوں کے حوصلے بلند کرنے میں بہت بلند کردار ادا کیا، ایک تو اُن کا یہ ترانہ”جاگ اُٹھا ہے سارا وطن ساتھیو، مجاہدو“ بہت مقبول ہوا جو اُنہوں نے گلوکار مسعود رانا کے ساتھ مل کر گایا، ایک اور ترانہ اُن کا بہت مشہور ہوا تھا جو پنجابی کے مشہور شاعر، ایک انتہائی عظیم، محب وطن اور ایماندارشخص اختر کاشمیری نے لکھا تھا، اختر کاشمیری بورڈ آف ریونیو میں انتہائی اہم عہدے پر فائز تھے، وہ چاہتے اِس عہدے سے فائدے کے طورپر کروڑوں کماتے، مگر اُنہوں نے صرف عزت کمائی ، اِس بے حِس معاشرے میں اُن کی یہ ”واحد کمائی“ بھی اِس صورت میں لُٹ گئی ہمارے لوگوں کو اُن کے بارے میں معلوم ہی نہیں وہ کون تھے؟ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے میری پیدائش اُن کے گھر واقع حبیب گنج لاہور میں ہوئی تھی، ہم اُن کے کرایہ دار تھے، ابوجی اکثر بتاتے تھے شوکت علی نے سب سے پہلا ترانہ اُنہی کا لکھا ہوا گایا تھا ، 1965ءکی جنگ میں انڈیا کے ریڈیو آکاشوانی نے جب جھوٹ بولنے کی انتہا کردی، تب اختر کاشمیری نے یہ ترانہ لکھا، جو شوکت علی نے گایا ” چُوٹھ بولنی ایں چُوٹھیے آکاشوانیے ....کدے سچ وی تے بول اُڈھ پُھڈ جانیے“ .... میں سمجھتا ہوں صرف اِن ترانوں کی بنیاد پر ہی شوکت علی کو کسی ایسے بڑے ”فوجی اعزاز“ یا ایوارڈ سے نوازا جانا چاہیے جو کسی سویلین کو نہیں دیا جاسکتا، شوکت علی کے ترانے جنگوں میں بطور ”ہتھیار“ کام کرتے رہے ہیں، .... چلیں اِس بے حِس معاشرے میں ہم اتنا بھی کافی سمجھتے ہیں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے اُن کی بیماری کی خبروں کا نوٹس لیا اور اُن کے علاج معالجے کے لیے سی ایم ایچ لاہور کو ہرممکن اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ شکر ہے وزیراعظم نے اُن کی بیماری کی خبروں کانوٹس نہیں لے لیا ورنہ اُن کی حالت شاید مزید بگڑ جاتی!!


ای پیپر