”مُولا....نہ“
07 نومبر 2019 2019-11-07

آج کل تبدیل شدہ پاکستان میں ٹویٹ کا دوردورہ ہے، عام پاکستانی ایک سیاستدان اور حکمران سبھی اس خبط میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، حتیٰ کہ مسئلہ کشمیر ہو، ایران سعودی تنازعہ ہو، پیرا میڈیکل سٹاف یا ڈاکٹر کا کوئی مسئلہ ہو، مولانا فضل الرحمن کا کوئی دھرنا ہو، یا ڈیزل وپیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو، وطن میں ہوش ربا مہنگائی ہو، یا میاں محمد نواز شریف ، اور آصف علی زرداری کی بیماری ہو، مشرقی ومغربی سرحدوں پہ دشمنوں کی کوئی یلغار ہو، یا راہبران حزب اختلاف ذلیل وخوار ہوں، ایف بی آر کو درپیش دشواری ہو، یا عوام الناس کی خواری ہو، غرضیکہ سید مظفرعلی شاہ کی لفاظی الفاظ دیکھئے، فرماتے ہیں:

یُوں بہت ہیں اِس جہاں میں عارضی دلچسپیاں

ہے مدار زندگی بس اک انوکھا واقعہ

جس نے جو کچھ کہہ دیا وہ برملا کہنے لگے

یوں خساروں سے بھرا یہ گوشوارہ عمر کا

کیسے بھائے گی مجھے اِس مہربان کی روشنی

میری آنکھوں میں رچا ہے، عمر بھر کا رت جگا

قارئین کرام، ہم تو اس دیس کے باسی ہیں، کہ جہاں ستر ہزار عسکری وسماجی شہداءکی قربانی اور ملک ووطن کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد نجانے کس خیال وعقائد کی بنا پر دکھائی تو یوں دیتا ہے، کہ جذبہ حب الوطنی سے مجبور ہوکر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے بہتر سال کے بعد ”دہشت گردی“ کے بارے میں تفصیلی بتایا ہے، کہ دہشت گردی کیا ہوتی ہے؟ اور دہشت گردی کس کو کہتے ہیں۔ اور کیا جناب آصف سعید کھوسہ صاحب کی کی گئی تشریح کا مودی کا کئی مہینوں سے روالاکھوں کشمیری انسانوں پر اس کا اطلاق ممکن ہے، یا بھارتی عدلیہ کو اس ضمن میں چیف جسٹس کے عہدے پر کسی زندہ ضمیر انسان کو متمکن کرنا پڑے گا، جہاں تک بھارتی صحافی برادری کا تعلق ہے ، کے عہدے پر تو ان کے بھاشن تو ہم پاکستانی میڈیا پہ دیکھتے رہتے ہیں۔اگر پرانے پاکستانی صحافی جیسے جناب مجیب الرحمن شامی، جناب عارف نظامی، محترم عطا الرحمن، سعید غنی، محمود شام ،ارشاد عارف صاحب وغیرہ قبیل کے سرخیل صحافت کا نام کسی مستند حوالے سے لیا جائے، تو عوام الناس ان کی کہی باتوں اور ”بشارتوں“ پہ اندھا اعتماد کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے گنتی کے ایک دو نام نہاد دانشور جو نجانے کس معیار کی بنیاد پر ملکی معیشت سے لے کر سیاست اور صحافت میں دیکھتے ہی دیکھتے حرف آخر سمجھے جانے لگے ہیں، کہ ان کے پشت پناہوں اور سہولت کاروں سے دل کرتا ہے کہ درخواست کی جائے، کہ ابھی ضرب عضب کے سلسلے کو مو¿خر نہ کیا جائے،اور شاید یہی تقاضائے مولانا ہے۔

آج کل پاکستان میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو ہیروبناکر پیش کیا جارہا ہے کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں مودی کی طرف سے ظلم و جبر پہ کشمیریوں کی حمایت کی ہے، جبکہ انہوں نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا ہے، کہ پہلے وہ بھارتی وزیراعظم مودی سے کشمیر کے بارے میں ان کا نقطہ نظر تفصیل سے سنیں گی جو ملک بھارتی جاسوس کلبھوشن کو بطور ہیرو پیش کرتا ہو، اور جو دوسرے درانداز ابھی نندن کو ”نوبل پرائز“ لینے کی خاطر عزت واحترام اور مکمل پروٹوکول کے ساتھ اور جس کی بیوی کو بلوا کر پاک سرزمین کی پوتر زمین کو بھرشٹ کرواتا ہوگا، اس کے ان مذموم اقدام کی کس طرح حمایت کرسکتے ہیں۔ مجھے مولانا سے کیا لینا دینا ، میں تو کئی کالم مولانا فضل الرحمن کے خلاف لکھ کر اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش کرنے کا ارتکاب کرتا رہا ہوں۔ مجھے مولانا فضل الرحمن کے دھرنوں اور ”آزادی“ مارچ سے کیا غرض؟

میں تو مداح و معترف ہوں، مولانا فضل الرحمن کے والد محترم جناب مفتی محمود صاحب کے بے داغ کردار کا، خصوصاً ان کے اس عمل سے کہ جس کی بدولت مرتدوں کو کافر قرار دیا گیا، جس نے نہ صرف مسلمانان عالم بلکہ نبی آخرزمان کی روح مبارک کو بھی نشاط انگیز بنادیا، بقول حفیظ تائب :

مسکراہٹ سے کھل اُٹھتے تھے، درودیوار بھی

ایسی جاں افروز صورت آپ کو بخشی گئی!

میں صرف مولانا فضل الرحمن کو ہی محب وطن نہیں سمجھتا، میں اپنے آپ کو بھی محب وطن سمجھتا ہوں، بلکہ میں تو یہ مطالبہ کرتا ہوں، کہ پاکستان کو دولخت کرنے، اور بلاول زرداری کے اس سوال پر کہ پاکستان میں بہتّر سالوں میں ایک بھی شفاف الیکشن کیوں نہیں ہوا؟

ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جنرل یحییٰ خان نے بالکل شفاف الیکشن کرائے تھے جس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان بلکہ دنیا کے واحد سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے، شفاف الیکشن کرانے کے باوجود انتخابی نتائج کو ذوالفقارعلی بھٹو نے تسلیم نہ کیا، اور شیخ مجیب الرحمن کو واضح برتری کے باوجود اقتدار دینے کے بجائے خود اقتدار پہ قابض ہوئے، جس کے نتیجے میں قائداعظمؒ کا پاکستان دولخت ہوگیا اس پر کروڑوں عوام کے مطالبے پر حمود الرحمن کمیشن بنا، جس نے اپنی رپورٹ میں چشم کشا تجزیات قوم کے سامنے رکھے، پوری پاکستانی قوم حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ کی اشاعت کے لیے تڑپتی رہی، مگر ان باتوں سے مولانا درگزر کرلیں، مگر ہم سب اس بات کا دھرنے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں، کہ حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ شائع کی جائے، ہمیں خدشہ ہے کہ اس میں ایک ہی جیسے کپڑے پہننے والوں کا نام سرفہرست ہے، مولانا یہ بات کھل کے کہیں یا نہ کہیں مگر قوم تو یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے، کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنے اُٹھائے ہوئے حلف سے کیوں غداری کی ؟ جنرل ضیا الحق کو کفران نعمت نہ کرنے پہ کس نے مجبور کیا ؟ جنرل یحییٰ ، جنرل مشرف نے ان آمروں کی تقلید کیوں کی ؟

زندہ قوموں میں مردوں کی قبروں کا بھی ٹرائیل ہوتا ہے، مگر یہاں تو زندہ بھی قوم کے سامنے رقص کناں ہیں، مگر تحریک انصاف کے دور میں انصاف ملنا تو درکنار موجودہ وزیراعظم کے کابینہ کے سارے وزیر مشرف کی پارٹی کے ہیں، نہیں، قوم جاننا چاہتی ہے کہ کرتار پور راہداری کے لیے تو سکھوں کو نہ تو فیس کی ضرورت ہے، اور نہ ہی کسی ویزے کی، مگر عمرے اورحج کے اخراجات کو دوگنا کردیا گیا ہے۔ مجھے مولانا فضل الرحمن سے یہ سوال پوچھنا چاہیے، یا حکومت وقت سے کہ بھارت کو بہترسال بعد یہ جرا¿ت کیوں کر ہوئی، کہ اس نے تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بالکل برعکس مقبوضہ کشمیر کو بھارتی نقشے میں شامل کرلیا ہے، اور میں یہ بات کس سے پوچھوں، کہ افغانستان والے، ہمارے سفارتی اہلکاروں کے بارے میں علانیہ غلیظ زبان اور گندی گالیاں کیوں دیتے ہیں۔ اگر تومولانا کے دھرنے کا مقصد آئین وقانون کی پاسداری ہے، تو اس میں لاکھوں لوگوں کی شرکت بے معنی ہے، اس میں 22کروڑ عوام بھی ان کے ساتھ ہیں ۔ (جاری ہے)


ای پیپر