دھرنا اور ڈھکنا!
07 نومبر 2019 2019-11-07

”شہرِ خموشاں“ میں مولانا فضل الرحمان کا دھرنا جاری ہے۔ ایک دھرنا ہمارے محترم مبینہ طاقتور وزیراعظم عمران خان نے بھی دیا تھا، یہ دھرنا شاید ایک سو بیس روز جاری رہا تھا، مولانا فضل الرحمان کا دھرنا کتنے روز جاری رہتا ہے اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا، خان صاحب نے دھرنا اُس وقت دیا تھا جب نواز شریف کی حکومت کو قائم ہوئے اُتنا ہی عرصہ گزرا تھا جتنا عرصہ اب خان صاحب کی حکومت کو قائم ہوئے گزرا اور مولانا کے دھرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ سیاسی حکومتوں کو دباﺅ میں رکھنے کے لیے دھرنے کی جو روایت شروع ہوئی ہے وہ اُسی صورت میں ختم ہو سکتی ہے جب اِس ملک کے ”اصل مالکان“ یا ” اصل طاقتوران “ سیاسی کٹھ پتلیوں کو استعمال کرنے کے بجائے کھل کر خود اقتدار میں نہیں آجاتے، کبھی کبھی میں سوچتا ہوں، بلکہ شاید لکھ بھی چکا ہوں بشمول عمران خان اِس ملک کے سیاستدانوں میں ذرا شرم وحیا اگر ہے وہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کریں، جس میں یہ اعلان کردیں،”ہم مزید ”منہ کالک“ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں، آج کے بعد ہم سیاست کو مستقل طورپر خیر باد کہتے ہیں، یہ ملک مستقل طورپر اب وہی سنبھالیں جو ہمیں خود اقتدار میں لے کر آتے ہیں اور پھر کچھ ہی عرصے بعد خود ہی ہماری راہ میں روڑے اٹکانے شروع کردیتے ہیں “۔....کئی برسوں کا ”تماشا“ دیکھنے کے بعد اب جاکر یہ راز کم ازکم مجھ پر ضرور کھل گیا ہے جس دن اس ملک کے سیاستدانوں نے ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونا بند کردیا اس ملک میں ترقی کے کئی راستے خودبخود کھل جائیں گے، پر ظاہر ہے ایسا ہو نہیں سکتا، سیاستدانوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں جن کے مطابق ”پس پردہ قوتوں “ کے ”ٹشوپیپر“ بننے میں وہ کوئی عار محسوس نہیں کرتے، بلکہ کئی تو اس پر باقاعدہ ناز کرتے ہیں، ناز نہ بھی کریں اپنی حرکتوں سے ظاہر ضرور کردیتے ہیں کہ سیاستدان کا تو بس اُنہوں نے لبادہ ہی اوڑھا ہوا ہے، اصل میں وہ اُنہی کی ”کٹھ پتلیاں“ ہیں جو طے کرتے ہیں کس سیاستدان کو اقتدار میں لے کر آنا ہے؟ اور وہ ہمارے اشاروں پر نہ چلا اُسے ہٹانا کیسے ہے؟.... خان صاحب کی بدقسمتی یہ ہے اُنہیں پہلے ہی کمزور اقتدار سے نواز ا گیا ، ممکن ہے اُنہیں یہ سوچ کر کمزور اقتدار سے نواز ا گیا ہو اگر یہ ہمارے اشاروں پر ناچتا رہا نہ صرف اس کے حالیہ اقتدار کے پانچ برس پورے کروا دیئے جائیں گے، بلکہ اقتدار کی اگلی مالا بھی اِسی کے گلے میں ڈال دی جائے گی، اب اطلاعات یہ ہیں خان صاحب نے اس ملک کے اصلی طاقتوروں کے اشاروں پر ناچنا کم کردیا ہے، چنانچہ اِن حالات میں مولانا فضل الرحمان کی اچانک ضرورت محسوس ہونا ایک قدرتی امر ہے، شریف برادران اور زرداری کو اتنا گندہ کرنے کے بعد اُن سے اپنی ضرورتیں پوری کرنا فی الحال ممکن نہیں تھا، مولانا کو شاید دو چار ماہ پہلے ہی استعمال کرلیا جاتا مگر سنا ہے وہ اس ملک کے اصل طاقتوروں سے کچھ ناراض تھے اور فوراً استعمال ہونے پر آمادہ نہیں ہورہے تھے، اُن کی ناراضگی بھی بجا تھی، ایک تو گزشتہ الیکشن میں اسمبلیوں میں اُن کا ”کوٹہ“ کم کردیا گیا، حتیٰ کہ خود اُنہیں بھی الیکشن ہروا دیا گیا ، .... اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کا غصہ قدرے کم ہوگیا جس کے بعد وہ استعمال ہونے پر آمادہ ہوگئے، وہ بڑے سیانے سیاستدان ہیں، اُنہیں سب پتہ ہے کتنا استعمال ہونا ہے؟ کتنے میں ہونا ہے؟ اور کہاں کہاں ہونا ہے؟ ۔ وزیراعظم خان صاحب اُنہیں بہت ”ایزی“ بلکہ ” ایزی پیسہ“ لے رہے تھے، اُن کا خیال تھا مولانا شاید اپنے طورپر دھرنا دے رہے ہیں جس سے اُنہیں یا اُن کی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، پر مولانا نے ایسا ”دھرا“ وزیراعظم کو اُن کے ساتھ مذاکرات کے لیے باقاعدہ ایک حکومتی کمیٹی بنانا پڑ گئی۔ اس کمیٹی کا سربراہ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کو بنایا گیا، ظاہر ہے اُس کے بعد مذاکرات کا ناکام ہونا ہی بنتا تھا۔ خان صاحب نے اس حوالے سے بھی عقلمندی کا مظاہرہ نہیں کیا، اگر وہ تھوڑی سی قربانی دے دیتے اور مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ مراد سعید یا زلفی بخاری کو بنادیتے اب تک دھرنا ختم ہوچکا ہوتا، خان صاحب کو دھرنا ختم کروانے کے لیے اُن کے سہارے کی ضرورت

ہی محسوس نہ ہوتی جنہوں نے دھرنا دلوایا ہے، مذاکراتی کمیٹی میں چودھری برادران بھی شامل ہیں۔ وہ اگر مولانا کو منانے میں کامیاب ہو گئے کم ازکم مونس الٰہی کی وزارت ضرور پکی ہو جائے گی، جس کے بعد وہ اپنے ”حلقہ انتخاب“ میں جانے کے قابل بھی ہو جائیں گے، البتہ خان صاحب کا اقتدار پکا ہوگا یا نہیں اس کی فی الحال گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ اول تو وہ پانچ برس جو کم ہوکر اب پونے چار برس رہ گئے ہیں پورے کرتے نظر نہیں آتے، اور اگر اُن کی خواہش ہے اگلے پونے چاربرس وہ آسانی وسکون سے پورے کرلیں تو اُنہیں ”کٹھ پتلی“ سے باقاعدہ وزیراعظم بننے کی اپنی خواہش اور کوشش پر قابو پانا ہوگا، ہم تو چاہتے ہیں اپنے اقتدار کا بقیہ عرصہ وہ پورا کرلیں تاکہ عوام کو پتہ چل سکے اقتدار میں آنے سے پہلے جو نعرے انہوں نے لگائے تھے، جودعوے انہوں نے کیے تھے، جو سہانے سپنے عوام کو دیکھائے تھے، وہ پورے ہوئے یا نہیں؟.... ویسے کل اچانک مجھے یقین ہوگیا جو سہانے سپنے خان صاحب نے عوام کو دیکھائے تھے وہ لازماً پورے ہوں گے، میرے اس یقین کی بنیاد اس طرح بنی ہمارے محلے میں ایک ”مین ہول“ پچھلے دس ماہ سے کھلا پڑا تھا کل اُس کا منہ اچانک بند کردیا گیا، اُس کے بعد کم ازکم میں اس یقین میں ضرور مبتلا ہوگیا ہوں کہ الیکشن سے قبل حکومت نے ملکی ترقی کے جتنے دعوے کئے تھے وہ سارے پورے کرے گی، ....” گٹر“ یعنی ”مین ہول“ پر ڈھکنا رکھے جانے کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ بزدار کی ”اہلیت“ بھی ثابت ہوگئی ہے، اب ہم سوچتے ہیں خان صاحب نے اُن کا انتخاب بالکل درست کیا تھا، بزدار حکومت ایک مین ہول پر ڈھکنا رکھ سکتی ہے تو پولیس اصلاحات کیوں نہیں کرسکتی؟۔ بڑی بڑی یونیورسٹیاں، بڑے بڑے ہسپتال کیوں نہیں بناسکتی ؟۔ وزیراعظم خان صاحب نے اقتدار میں آتے ہی یہ اعلان کیا تھا پاکستان کے تمام ”پبلک ٹوائلٹس“ اب صاف ہوں گے۔ ہر پبلک ٹوائلٹ پر باہر ایک فون نمبر دیا گیا ہوگا جس پر اُس” ٹائلٹ “ کے گندہ ہونے کی شکایت کی جاسکے گی، میرے خیال میں یہ فیصلہ بھی خان صاحب نے وزیراعلیٰ بزدار کے مشورے پر ہی کیا ہوگا، کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے وزیراعظم خان صاحب نے پنجاب کو بھی ایک ”مین ہول“ سمجھ کر اُس پر بھی ایک ڈھکنا ہی رکھا ہوا ہے،.... کاش خان صاحب کو پتہ ہوتا مولوی فضل الرحمان کے دھرنے کا ایک سبب یہ ” ڈھکنا “ بھی بنا ہے !!


ای پیپر