Source : Social Media

وزیرا عظم ہاﺅسنگ سکیم میں کتنے مرلہ کا گھر ملے گا ؟
07 نومبر 2018 (18:56) 2018-11-07

اسلام آباد :سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے میں پسماندہ علاقوں کو ترجیح دینے کی سفارش کردی ، متعلقہ حکام نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبہ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایاکہ ملک کے 7 شہروں کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر رجسٹریشن کیلئے منتخب کیا ہے، رجسٹریشن فارم 250 روپے میں جمع کرایا جا رہا ہے، مکان تین سے پانچ مرلے پر مشتمل ہو گا.

یو اے ای اور چین نے بھی منصوبے میں شرکت کی دلچسپی ظاہر کی ہے، پاکستان میں 31.96 ملین مکانات ہیں اور12 ملین مکانات کی کمی ہے۔ سالانہ 7 لاکھ گھروں کی طلب ہے جبکہ اڑھائی لاکھ سالانہ نئے گھر بنائے جا رہے ہیں۔ بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی صدارت میں ہو ا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کے کم لاگت کے 50 لاکھ گھروں کے منصوبے ،آئینی اداروں میں رہائشی پلاٹوں کیلئے آئینی کوٹے کی خلاف ورزی ، فیڈرل گورنمٹ ایمپلائز ہاوسنگ فاونڈیشن کی ایف 14/15 کی ہاسنگ سکیم کے حوالے سے ہائیکورٹ کی ججمنٹ ، اسلام آباد میں سرکاری گھروں پر غیر قانونی قبضے کے علاوہ مقامی شہری باز محمد کی عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کے نئے پاکستان ہاو¿سنگ منصوبے جو کم سے کم لاگت سے50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبہ کے حوالے سے وفاقی وزیر ہائوسنگ اینڈ ورکس چوہدری طارق بشیر چیمہ اور سیکرٹری وزارت ہاو¿سنگ اینڈ ورکس ڈاکٹرعمران زیب خان نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا یہ ایجنڈا ہے اور ان کے منشور کا حصہ ہے کہ پاکستان کی غریب عوام کو زیادہ سے زیادہ سستے گھر فراہم کیے جائیں اس حوالے سے متعلقہ محکموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو سفارشات تیار کر رہی ہے بہتر یہی ہوگا کہ ایک ما ہ بعد تفصیلی بریفنگ حاصل کی جائے۔

وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی اس منصوبے کے حوالے سے کافی آگے تک کام کر چکی ہے جس میں فنانس ماڈل ، لیگل فریم ورک اور لینڈ بنک پر زیادہ فوکس کیا گیا ہے۔ ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے۔ پرائیوٹ سیکٹر نے اس منصوبے پر کام کرنا ہے۔ملکی و بین الاقوامی سیکٹرز نے خاصی دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور پیپر ورک تکمیل کے قریب ہے۔ کمیٹی کو بتایاگیا کہ ملک کے 7 شہروں کو پائیلٹ پراجیکٹ کے طور پر رجسٹریشن کیلئے منتخب کیا ہے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے اور معلومات اکٹھی کی جا سکے کہ کتنے لوگ دلچسپی رکھتے اور ان کا معیار زندگی کیسا ہے۔ رجسٹریشن فارم 250 روپے میں جمع کرایا جا رہا ہے۔ مکان کیلئے درخواست علیحدہ سے دینی پڑے گی۔اس منصوبے سے روزگار اور صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ مکان تین سے پانچ مرلے پر مشتمل ہو گا۔

یو اے ای اور چین نے بھی منصوبے میں شرکت کی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک اور ماڈل کچی آبادی کیلئے بھی ترتیب دیا جارہا ہے جس میں دو کمرے ایک کچن اور برآمدہ ہوگا ان کو بغیر سود کے گھر بنانے کیلئے قرض دیئے جائیں گے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایاگیا کہ ٹاسک فورس میں متعلقہ اداروں کے علاوہ اسٹیٹ بنک، کمرشل بنک ، وزارت ہاو¿سنگ اینڈ ورکس ، پاکستان ہاو¿سنگ فاو¿نڈیشن اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے کے مکانوں کیلئے ابھی کسی جگہ کا تعین نہیں کیا گیا صرف7 شہروں کو رجسٹریشن کیلئے منتخب کیا گیا ہے اور فارم کی فیس بھی نادرا وصول کریگا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں 31.96 ملین مکانات ہیں اور12 ملین مکانات کی کمی ہے۔ سالانہ 7 لاکھ گھروں کی طلب ہے جبکہ اڑھائی لاکھ سالانہ نئے گھر بنائے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں گھر بنانے کیلئے قرض اوسطاً 0.25 فیصد دیا جاتا ہے جبکہ یورپی ممالک میں80 فیصد ، جنوبی ایشیاء خطے میں3.4 فیصد قرض دیا جاتا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے میں پرائیوٹ سیکٹر کا بنیادی کردار ہوگا اور حکومت ریگولیٹر کے طور پر کام کرے گی اور اس حوالے سے رولز تیار کیے جارہے ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ کم سے کم لاگت میں عوام کو گھر فراہم کیے جائیں۔ قرض کی ادائیگی 15 سے20سال میں ہوگی اور ماہانہ قسط 5 سے6 ہزار وصول کی جائے گی۔ حکومت اس منصوبے میں ایک روپیہ خرچ نہیں کرے گی۔ فریم ورک 10 دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ وزیراعظم کی دلچسپی کی وجہ سے ایک اتھارٹی بنائی گئی ہے۔ وزارت ہاو¿سنگ اینڈ ورکس سہولت کار کے طور پر کام کرے گی اور اس منصوبے کے حوالے سے جتنے ابہام ہیں ان کو دور کیا جائے یہ منصوبہ ہر حال میں پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔

قائمہ کمیٹی نے منصوبے بارے تفصیلی آگاہی کیلئے 10 دسمبر کے بعد ون ایجنڈا کمیٹی کے اجلاس فیصلہ کرتے ہوئے سفارش کہ اس منصوبے میں پسماندہ علاقوں کو ترجیح دی جائے۔آئینی اداروں میں رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے آئینی کوٹے کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئینی باڈیز کے کوٹے میں9 ادارے شامل ہیں جن میں سپریم کورٹ ، اسلام آباد ہائیکورٹ ، وفاقی شرعی عدالت ، الیکشن کمیشن ، سینیٹ اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ، اسلامی نظریاتی کونسل ، وفاقی محتسب ، سیکرٹریٹ اور وفاقی ٹیکس محتسب شامل ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہائوسنگ فائونڈیشن نے اپریل2015 میں پہلے آ ئوپہلے پائو کی بنیاد پر ہائوسنگ سکیم کا آغاز کیا اور منصوبے میں آئینی اداروں کے ملازمین کیلئے 2 فیصد کوٹہ مختص تھا۔ بعد میں سینیٹ اور قومی اسمبلی ہائوسنگ اینڈ ورکس قائمہ کمیٹیوں کی سفارش پر یہ کوٹہ 3.5 فیصد کر دیا گیا جس میں 0.5 فیصد ریٹائرڈ ملازمین اور 0.5 فیصد بیواو¿ں کو شامل کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بہارہ کہو منصوبے کیلئے 1.18ارب روپے اکٹھے ہو چکے ہیں راستے کا مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے۔ جس پر کمیٹی اگلے ہفتے بہارہ کہو اور ٹھلیاں سکیموں کا دورہ کرے گی۔قائمہ کمیٹی کوایف 14/15 میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ بارے آگاہ کیا گیا کہ 2015 میں وزیراعظم نے عمر کی سینارٹی کی بنیاد پر پلاٹ دینے کی منظوری دی۔

18 لوگ عدالت چلے گئے سپریم کورٹ میں سی پی ایل فائل کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے وکیل بھی ہائیر کر لیا گیا ہے۔ کراچی میں ایگزیکٹو طرز زندگی کے رہائش گاہ کی اپارٹمنٹ سکیم بارے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک پلاٹ کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کے سامنے 3.149 ایکڑ پر مشتمل ہے۔ 1980 میں وزارت ہاو¿سنگ اینڈ ورکس کو اپارٹمنٹس کی تعمیر کیلئے دیا گیا تھا بعد میں وزارت ہاو¿سنگ اینڈ ورکس کے حکام بالاء نے اس پلاٹ کو پی ڈبلیو ڈی کے حواے ایک دفتر اور رہائش بنانے کیلئے دیا۔ پی ڈبلیو ڈی کے استعمال نہ کرنے کی نا اہلی کی وجہ سے اس زمین پر قبضہ مافیا نے قبضہ کر لیا۔2011 میں اسے پاکستان ہاو¿سنگ فاو¿نڈیشن کو دیا گیا اس پلاٹ پر غیر قانونی بس اسٹینڈ قائم کیا گیا۔قائمہ کمیٹی نے پلاٹ واگزار کرانے کیلئے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا ،کمیٹی کے ا جلاس میں سینیٹرز چوہدری تنویر خان ، نجمہ حمید ، بہرہ مند خان تنگی ، انور لال دین ، سجاد حسین طوری اور سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ وفاقی وزیر ہائوسنگ اینڈ ورکس چوہدری طارق بشیر چیمہ، سیکرٹری وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس ڈاکٹرعمران زیب خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔


ای پیپر