سعودی عرب کا پاکستان سے تعاون غیر مشروط ہے :شاہ محمود قریشی
07 نومبر 2018 (18:06) 2018-11-07

اسلام آباد :وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آج ملک اس نہج پرہے کہ ہم سب اپنے گریبانوں میں جھانکیں، اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں یہ نوبت کیسے آئی، سوال کیا جارہا ہے سعودی عرب کو کیا دے کر آئے ہیں، سعودی عرب سے کوئی وعدہ نہیں کیا، تعاون غیر مشروط ہے.

چین کے ساتھ ایک کاروباری اشتراک ہونے جارہا ہے، دسمبرمیں کابل میں چین،افغانستان پاکستان وزرائے خارجہ اجلاس ہوگا، ماضی کی حکومت کا فوکس انفرا اسٹرکچر پر تھا، ہمارا فوکس انفرا اسٹرکچر سے ہٹ کرانسانی ترقی پر ہوگا،دورہ چین انتہائی کامیاب رہا،چینی قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں کیںدنیاکوپیغام دیناتھاچین سے ہماراگہراتعلق ہےاوروہ ہم نے دےدیا، آج جو تصادم ایران اور سعودی عرب میں ہے اس کی نظیر نہیں ملتی، سچائی اور مفاہمتی کمیشن بنانا وقت کی ضرورت ہے، حکومت نے ملکی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، سعودی عرب اور ایران کے مابین کھینچا تانی چل رہی ہے جو پاکستان اور پورے خطے کو متاثر کر رہی ہے،عمران خان نے فیصلہ کیا کہ یمن تنازعے پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کرانے کی کوشش کی جائے۔

وہ بدھ کو سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گوادر میں ایشین پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کا اجلاس کروانے پر چیئرمین سینیٹ اور پورا سینیٹ مبارکباد کا مستحق ہے، رضا ربانی نے سچائی اور مفاہمتی کمیشن بنانے کی بات کی، ان کی بات درست ہے، ایسا کمیشن بنانا وقت کی ضرورت ہے،آج ملک کے اندر جو نوبت ہے اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہو گا، ریاست کو دیکھنا ہو گا کہ ماضی میں ایسی کیا غلطیاں ہوئیں جس کے باعث ملکی حالات آج اس نہج تک پہنچ چکے ہیں، عوام ریاست پر اعتماد کرنے کی بجائے پرائیویٹ اداروں کی جانب دیکھ رہے ہیں، آئیں اور مل کر سچائی اور مفاہمتی کمیشن بنائیں جس کے اندر اپوزیشن اور حکومت ملک کو نازک صورتحال سے باہر نکالنے کےلئے تجاویز دے،ایسے اقدامات کرنے کےلئے پارلیمنٹ بہترین فورم ہے، مجھے سینیٹ آ کر خوشی ہوئی کہ یہاں پر پارلیمانی دائرہ اختیار کے مطابق ایک دوسرے کی بات کی تردید کی جاتی ہے، جیسا ماحول سینیٹ میں ہے اگر ویسا ماحول قومی اسمبلی میں بن جائے تو ہم بہت بہتر انداز میں خدمت کر سکیں.

موجودہ حکومت نے گزشتہ دنوں چین اور سعودی عرب کا دورہ کیا، اس دورے کے اوپر کئی خدشات کا اظہار کیا گیا، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ حکومت ملکی مفادات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی، سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، کچھ سالوں سے ان تعلقات میں سرد مہری آئی تھی جو حکومت کے دورہ سعودی عرب سے کم ہوئی ہے اور غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی گئی،جو پیکج سعودی عرب نے پاکستان کو دیا ہے، اس سے پاکستان کے معاشی حالات بہت بہتر ہوں گے اور غیر یقینی کی صورتحال بہتر ہو گی، سعودی عرب نے پاکستان پر کوئی شرائط عائد نہیں کی،دورہ چین بھی اس حوالے سے بہت مثبت رہا، تاریخ میں پہلی بار چین کے چاراعلیٰ ترین عہدیداروں نے بیک وقت وزیراعظم پاکستان عمران خان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، ہماری ملاقاتوں کا مقصد دنیا کو یہ تاثر دینا تھا کہ پاک چین تعلقات اب بھی پہلے کی طرح مضبوط ہیں اور ان میں اور مضبوطی آرہی ہے، حکومت نے چین کو قائل کیا ہے کہ افغانستان میں امن کےلئے تین ملکی مذاکرات کئے جائیں، اس حوالے سے دسمبر میں افغانستان، چین اور پاکستان افغانستان میں امن کےلئے مل کر بیٹھیں گے اور بات کریں گے، پاکستان دیکھے گا کہ وہ افغانستان میں امن کےلئے کیا کردار ادا کر سکتا ہے.

دورہ چین میں سی پیک پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی جبکہ ہماری حکومت سی پیک کو ایک نیا رخ دینا چاہتی ہے، گزشتہ دور حکومت نے سی پیک میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو ترجیح دی جو وقت کی ضرورت تھی، اب ہم دوسرے مرحلے میں انسانی ترقی کو بھی ترجیح میں شامل کریں گے اور تعلیم، صحت، ہنر اور صنعتوں کی ترقی کےلئے اسپیشل معاشی زونز کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے ملک ترقی کرے گا،اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے کی ترقی کےلئے گوادر کی ترقی بہت ضروری ہے، جس پر ترجیحی بنیادوں پر کام کریں گے،چین نے پہلی بار بین الاقوامی درآمد ایکسپو کا قیام کروایا، جس میں 130ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی، اس ایکسپو میں 7ممالک کے سربراہوں کو تقریر کرنے کی اجازت دی گئی، جن میں سے پاکستان بھی ایک ملک تھا جس کے وزیراعظم نے وہاں تقریر کی، اسی طرح ایکسپو میں چینی صدر نے آٹھ پویلینز کا دورہ کیا جن میں پاکستان کا پویلین بھی ایک تھا،مشرق وسطیٰ کی صورتحال جو آج ہے وہ ماضی میں نہیں تھی،آج ایران اور سعودی عرب کے درمیان شدید کشیدگی ہے، شام اور یمن میں پراکسی جنگیں لڑی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں سعودی عرب اور ایران کے مابین کھینچا تانی چل رہی ہے جو پاکستان اور پورے خطے کو متاثر کر رہی ہے، امریکہ، روس اور یورپی ممالک بھی مشرق وسطیٰ کے اندر جنگ میں شریک ہیں، جس کے باعث یمن کے حالات نہایت خراب ہیں.

گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر پابندیاں عائد کر دیں،ان پابندیوں کے باوجود بھارت کو ایران کے ساتھ تجارت کرنے سے استثنیٰ دیا گیا جبکہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن مکمل کرنے کی بات کرے تو دھمکیاں دی جاتی ہیں، پاکستان اس نازک صورتحال پر اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، مشرق وسطیٰ میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں اور ملک کو اربوں ڈالر کما کر دیتے ہیں، اسی لئے عمران خان نے فیصلہ کیا کہ یمن تنازعے پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کرانے کی کوشش کی جائے،اس حوالے سے حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کی مدد درکار ہو گی،ایران پاکستان کی بات سننے کو تیار ہے جبکہ سعودی عرب کی سوچ میں بھی تبدیلی آرہی ہے، ہم کوشش کریں گے کہ سعودی عرب ہماری ثالثی کی کوشش کو تسلیم کرے، عمران خان تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں،اس سے قبل افغانستان میں بھی عمران خان نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کی تھی جس پر ان کا مذاق اڑایا گیا تھا لیکن آج امریکہ بھی پاکستان کی بات مان کر افغانستان میں مذاکرات کی بات کر رہا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کر رہا ہے۔


ای پیپر