Naveed Chaudhry, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 May 2021 (11:25) 2021-05-07

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی 30 کے قریب میڈیا پرسنز کو دی گئی آف دی ریکارڈ بریفنگ میں تبصرے جاری ہیں ۔ تبصرے ہی کیا ، بعض ایسی شخصیات جن کے حوالے متنازع گفتگو کی گئی ۔ کھل کر جوابات دے رہے ہیں ۔ قاتلانہ حملے میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والے سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم اور خود ساختہ جلا وطن سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کے ردعمل کی گونج فضائوں میں ہے ۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے دئیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر سات گھنٹے طویل نشست میں ان افراد کے لیے بہت زیادہ نئی باتیں نہیں تھیں جو حالات حاضرہ پر نگاہ رکھتے ہیں اور ملکی و غیر ملکی میڈیا کے ذریعے مختلف سرگرمیوں سے باخبر رہتے ہیں ۔ اس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات دونوں ممالک کے انٹیلی جنس حکام کر رہے ہیں ۔ اور یہ کہ رابطوں کا یہ سلسلہ 2017 سے جاری ہے ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بات چیت کی پیشکش بھارتی فوجی حکام نے کی تھی ۔ جس کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے اجازت لے کر آغاز کیا گیا ۔ بریفنگ میں اس بات پر تاسف کا اظہار کیا گیا کہ اب شاہد خاقان عباسی ہی حکومت پر کشمیر فروشی کا الزام لگا رہے ہیں ۔ ابھی تک شاہد خاقان عباسی کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا ۔ امید ہے کہ اس نکتے پر وہ جلد لب کشائی کریں گے ۔ اور بتائیں گے کہ کیا وہ واقعی مسئلہ کشمیر کے اس حل سے متفق ہوگئے تھے ۔ جس پر کام بہت آگے بڑھ چکا ہے ۔ یعنی یہ طے کرلیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بھارتی اقدام میں انڈین آئین کے آرٹیکل 370کے خاتمے پر اعتراض کرنے کی بجائے صرف یہ کہا جارہا ہے مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے پر پابندی والا آرٹیکل 35 اے بحال کردیا جائے ۔ اگرچہ ہماری قیادت کو یہ امید ہے کہ بھارتی حکام ایسا کر گزریں گے مگر زمینی حقاثق کے مطابق یہ محض خوش فہمی ہے ۔ بھارت نے جب پورا مقبوضہ کشمیر ہی لپیٹ لیا تو پھر آبادی کا تناسب تبدیل کرنا نہ کرنا بھی اسکا اپنا معاملہ بن جاتا ہے ۔ یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی ہے نہ ہم سے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے پروگرام پر عمل در آمد شروع کر رکھا ہے ۔ یہ واضح ہے کہ 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارت میں ضم کرنے کا فیصلہ ایک مکمل منصوبے کا حصہ تھا ۔ حیرت کی بات ہے کہ اس دوران دونوں ممالک مذاکرات بھی کر رہے تھے اور مودی سرکار وہ کر گزری جو ماضی میں کوئی نہ کرسکا ۔ اب یہ کہنا کہ آرٹیکل 370 پر بات نہیں ہوسکتی مگر 35 اے کا معاملہ اٹھایا جارہا ہے ۔ بالکل ایسے ہی کہ جیسے کوئی بندہ حادثے میں مر جائے اور کہا جائے اچھا ہوا ٹانگیں بچ گئیں ۔بہر حال میڈیا پرسنز کو بتایا گیا کہ ادھر وزیر اعظم عمران خان اور ادھر وزیر اعظم نریندر مودی دونوں پاپولر لیڈر ہیں ۔ مسئلہ کشمیر کا کوئی حل ان دونوں وزرائے اعظم کے ادوار میں ہی نکل سکتا ہے ۔ اس بات سے یقیناً ان حلقوں کی بھی ‘‘ تسلی’’ہو گئی ہوگی جو یہ خیال کرتے تھے کہ بھارتی انتخابات میں مودی کی کامیابی کی صورت میں مسئلہ کشمیر کے حل کی بات وزیر اعظم نے اپنی طرف سے کی تھی ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مسلمہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کشمیر ایک متنازع معاملہ ہے ۔ اب اگر کسی عالمی دبائو کے مشرف فارمولے کے تحت ( ایل او سی کو بارڈر ماننا ) حل نکالا جارہا ہے تو اس کے لیے خفیہ مذاکرات کی بجائے پارلیمنٹ بلکہ پوری قوم کو اعتماد میں لیا جائے ۔ یہاں پھر یہ 

سوال اٹھے گا کہ ماضی میں جب بھارتی وزرائے اعظم خود چل کر آئے تھے اور ٹھوس امکانات موجود تھے کہ باعزت اور بہتر حل نکالا جاسکتا تھا تو وہ کون تھے اور ہر بار رنگ میں بھنگ ڈال دیا کرتے تھے ۔ قوم کو عالمی میڈیا کے ذریعے پہلے ہی یہ خبر مل چکی ہے کہ اس حوالے دبئی میں ہونے والے مذاکرات کی سہولت کاری متحدہ عرب امارات کی حکومت کر رہی ہے ۔ سعودی عرب کی قیادت کی خواہش بھی یہی ہے ۔ اب یہ کہنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ اگر یہ دونوں ممالک ایسا چاہ رہے ہیں تو امریکہ بہادر پیچھے کھڑا ہے ۔ پچھلے چند سال میں متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کی تقریباً تمام مسلم ریاستیں تیزی سے بھارت کے قریب آچکی ہیں ۔ یہ بات تو غالباََاس بریفنگ میں ہوئی کہ مسلم بھائی چارہ اب محض نعرہ رہ گیا ۔ اصل بات ملکوں کے باہمی مفادات کی ہے۔پتہ نہیں ان مذاکرات کے حوالے سے بھارت کے آرمی چیف نے کس ترنگ میں یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان اپنی مجبوری کے سبب بات چیت کے راستے پر آیا ہے ۔ ایک میڈیا ہائوس کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اندرونی سیاسی خلفشار، مخدوش مالی معاملات اور ایف اے ٹی ایف کے بعد پاکستان کے پاس اور کوئی چوائس ہی نہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس دعوے کا کوئی جواب نہیں آیا ۔ حالانکہ اس وقت انہی سطور میں اس قابل گرفت گفتگو کی نشاندہی کی گئی تھی ۔ اس آف دی ریکارڈ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے حوالے سے سردار ایاز صادق کی گفتگو کے متعلق بتایا کہ اس معاملے پر غصہ بڑی مشکل سے پیا گیا تھا ۔ ویسے حیرانی کی بات ہے جو کچھ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے متعلق کہا گیا اسے کسی نے اپنے متعلق کیسے سمجھ لیا؟ ویسے بھی جب شاہ محمود قریشی بڑھ چڑھ کر اپوزیشن پر ملک دشمنی کا الزام لگا رہے تھے ۔ جواب میں ایاز صادق نے ٹانگیں کا نپنے کا ذکر کردیا ۔ ابھی نندن کی فوری رہائی کس طرح ممکن ہوئی ۔ اس حوالے سے بی بی سی نے امریکہ اور سعودی عرب کی ہنگامی کاوشوں پر رپورٹ بہت پہلے ہی جاری کردی تھی ۔ یہ بھی حقیقت ہے فوری رہائی کو بھارتی حکومت نے دبائو کے تحت کیا جانے والے عمل قرار دے کر الٹا تمسخر اڑایا اور اپنی فتح کے شادیانے بجائے ۔ بہر حال اس نشست سے پتہ چلا کہ شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ایاز صادق کا ‘‘ چال چلن ‘‘ ابھی تک مشکوک سمجھا جارہا ہے ۔کالعدم تحریک لبیک کو مرکزی دھارے میں لانے کی بات بھی ہرگز انکشاف کا درجہ نہیں رکھتی ۔ سب کو علم ہے اس تنظیم کا قیام اور استعمال کثیر المقاصد بنیادوں پر ہے ۔ افطار ڈنر کے شرکا کو بتایا گیا کہ یہ تاثر درست نہیں حکومت تمام امور اسٹیبلشمنٹ کی اجازت سے سرانجام دے رہی ہے ۔ بلکہ اکثر معاملات میں اپنی مرضی کرتی ہے ۔ جیسے پنجاب میں عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے پر اصرار ۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا ہی ہو مگر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ واقعی عثمان بزدار کو ہٹانا چاہے تو زیادہ سے زیادہ کتنی دیر لگ سکتی ہے ۔ نیب یا عدالت کے ذریعے چند دن ، براہ راست طلب کرکے استعفیٰ مانگ لیا جائے تو چند گھنٹے ۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت کئی معاملات میں واقعی من مانی کر رہی ہو مگر وفاقی وزرا اپنی تقرریوں اور اختیارات کے متعلق تو کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں ۔ بعض تو اسے آف دی ریکارڈ رکھنے کا تردد بھی نہیں کرتے ۔ اس ملاقات میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کا عالمی امیج بھی اچھا ہے ۔ وائٹ ہائوس میں ہونے والی ٹرمپ ، عمران ملاقات میں جب عمران خان نے بولنا شروع کیا تو یوں لگا کہ جیسے وہ امریکی صدر اور کابینہ پر مکمل طور پر چھا گئے ہوں ۔ ایسا ہے تو بہت ہی اچھی بات ہے ۔ زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ مودی جیسا بندہ ہمارے وزیر اعظم کا فون تک سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ سعودی ولی عہد اپنے طیارے پر امریکہ بھجوا کر راستے سے واپس بلا کر طیارہ خالی کرالیتے ہیں ۔ آج یہ عالم ہے کہ مودی اور محمد بن سلمان سے عمران خان کی رسمی ملاقاتیں کرانے کے لیے ہماری پوری ریاست زور لگا رہی ہے ۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے مکمل طور پر نظر انداز کررکھا ہے ۔ امریکی وزرا کے رابطے صرف جی ایچ کیو تک محدود ہیں ۔ اب تو وزیر اعظم آفس کا یہ لیول رہ گیا کہ غیر ملکی سفارتکار بھی اسلام آباد آنے کی بجائے راولپنڈی جانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ رہ گیا افغانستان کا مسئلہ تو اب یہ بھی پیچیدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد خطے میں جو گیم لگے گی اس سے فائدہ اٹھانے کے امکانات ابھی سے مدھم پڑتے نظر آرہے ہیں۔ مختصر یہ کہ تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات ، ،معاشی بد حالی ، سیاسی بحران ۔ عدم استحکام کے باوجود ہمارے فیصلہ ساز2014 سے 2107 والے ماحول میں رہ رہے ہیں اور ملک چلانے کے لیے وہی پرانی سوچ غالب ہے ۔ جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلا ۔ مگر وہ سوچ چلانا اب اس لیے بھی زیادہ مشکل ہے کہ اس دور کے متاثرین ریاستی اداروں کے عہدیداروں کا اپنے ساتھ توہین آمیز رویہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔


ای پیپر